وحشی پہاڑ سر کرنے کی کوشش میں پولش کوہ پیما زخمی

اسکردو:پاکستان میں واقع دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ ”کے ٹو“کو موسم سرما میںسر کرنے کی کوشش میں پولینڈ کا کوہ پیما زخمی ہوگیا۔ اسے بیس کیمپ پہنچانے کے بعد اسکردو کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ رافیل فرونیا اپنی ٹیم کے ساتھ کے ٹو سر کرنے کی مہم پر تھے کہ چٹان گرنے سے ان کا بازوٹوٹ گیا۔ مدد طلب کئے جانے پر رافیل فرونیا کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔الپائن فیڈریشن کے مطابق موسم خراب ہونے کی وجہ سے بیس کیمپ میں رکھا گیا پرواز کیلئے موسم بہتر ہونے پر ہیلی کاپٹر سے منتقلی ممکن ہو سکی۔ رافیل فرونیا حالیہ دنوں میںکے ٹو سر کرنے کی کوشش میں زخمی ہونے والے دوسرے کوہ پیما ہیں۔ چند د ن پہلے ایڈم بیلیکی نامی کوہ پیما اس وقت زخمی ہو گئے تھے جب ایک پتھر گرنے سے ان کی ناک ٹوٹ گئی تھی۔کوہ پیما ئی کی دنیا میں”کے ٹو“کو وحشی پہاڑکے نام سے پکارا جاتا ہے۔تکنیکی لحاظ سے اسے سر کرنا بہت مشکل ہے اور چوٹی پر پہنچنے اور وہاں سے نیچے آنے کی کوشش کرنے والے ہر چار کوہ پیماوں میں سے ایک کی موت واقع ہوجا تی ہے۔ 28 جنوری کو پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع”قاتل پہاڑ “کے نام سے معروف نانگا پربت پر پھنس جانے والی فرانسیسی خاتون کوہ پیما کو ایک ڈرامائی امدادی کارروائی کے نتیجے میں زندہ بچا لیا گیا تھا تاہم اس ریسکیو آپریشن میں ان کے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ساتھی کو تلاش نہیں کیا جا سکا تھا۔

شیئر: