اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت ،اہمیت …انداز

ظاہری تربیت سے مراد اولاد کی وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست وغیرہ شامل ہیں جبکہ باطنی تربیت سے مراد اْن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ہے
* * * *مولانا محمد شفیق الرحمان علوی۔ کراچی* * *
    بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر اْنھیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔
    بچپن کی تربیت نقش علی الحجرکی طرح ہوتی ہے۔بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبڑے ہونے کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔
    نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے؛ جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔
    لفظِ ’’تربیت‘‘ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے۔اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنہیں اقسام میں سے ایک اہم قسم ہے۔
    آسان الفاظ میں ’’تربیت‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ’’ برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ’’تربیت‘‘ ہے۔ ‘‘
    تربیت کی قسمیں:
    تربیت کی 2قسمیں ہوتی ہیں(1)ظاہری تربیت(2)باطنی تربیت۔
    ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں۔یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں اور باطنی تربیت سے مراد اْن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔
    اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اْن کی ضروریات کی کفالت پر اْنھیں اْبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔
    قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔‘‘(التحریم6)۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا :
    ’’ان (اپنی ولاد )کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ۔‘‘
    فقہائی کرام نے لکھا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔
    اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے بھی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:
    ٭ کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے(بخاری)۔
    یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے۔
    ٭  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
     یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے (سنن بیہقی)۔
    ٭ یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دارورکھوالا ہے،انھیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے۔
    یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں،نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ۔بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔
    حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
    ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائیگاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی۔‘‘(شعب الایمان للبیہقی)۔
    بچوں کی حوصلہ افزائی:
    بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے۔ ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے، اس کی شکل ویسی ہی بن جائیگی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس پر اْسے شاباش اورکوئی ایسا تحفہ وغیرہ دینا چاہیے جس سے بچہ خوش ہوجائے اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق اس کے دل میں پیدا ہوجائے۔
    بچوں کی غلطی پرتنبیہ کا حکیمانہ اندا ز:
     بچوں کو کسی غلط کام پر باربار اور مسلسل ٹوکنا اْن کی طبیعت میں غلط چیز راسخ ہونے سے حفاظت کا سبب بنتا ہے جس سے اگر غفلت نہ برتی گئی تو اس میں شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں میں غلط افکار جڑپکڑنے سے پہلے کامل طریقہ سے ان کی بیخ کنی ہوگی۔بچے سے خطا ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ، غلطی تو بڑوں سے بھی ہوجاتی ہے۔
     ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورتحال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے۔تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت بچہ کے لیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟ تو جہاں جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے۔ بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔
    تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے :
    *  سمجھانا*  ڈانٹ ڈپٹ کرنا*  مارکے علاوہ کوئی سزا دینا *  مارنا*   قطع تعلق کرنا۔ یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے۔ اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اْسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحۃً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائیگی۔ اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ، نصیحت اور پیار سے اْسے غلطی کا احساس دلایاجائے۔
    پیارومحبت سے بچوں کی تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیرتربیت اور زیرکفالت تھا۔ میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اْدھر گھوم رہا تھا۔یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یا غلامُ سَمِّ اللّٰہ! وکل بیمینک وکل ممایلیک۔
     ’’اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔‘‘
    اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اْسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔
     تربیت کے یہ طریقے نوعمر بچوں کے لیے ہیں لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے مختلف ہیں۔ اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے اس سے قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مغفلؓ کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے۔ انھوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہؓ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ’’انّھا لاتصید صیدًا‘‘۔’’ اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہوسکتا‘‘۔ اس نے پھر کنکر پھینکا تو انھوں نے غصہ سے فرمایا کہ میں تمہیں بتلارہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کررہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی اپنے بیٹے سے ایک موقع سے قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔
 
مزید پڑھیں:- - - -نیک اعمال کی قبولیت کی شرط ، رزق حلال

شیئر: