Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تبدیلی لانے والی سربراہ کانفرنس

پیر 16اپریل 2018ءکو سعودی عرب سے شائع ہونےو الے اخبار ”عکاظ “ کا اداریہ
سعودی عرب کے مشرقی ریجن کے معروف شہر الظہران میں 29ویں عرب سربراہ کانفرنس بین الاقوامی عہدیداروں اور عرب قائدین کی وسیع البنیاد شرکت کی آئینہ دار بنی۔ یہ کانفرنس عربوں کو درپیش چیلنجوں اور واجب الحل گرما گرم مسائل سے نمٹنے کیلئے عرب جدوجہد کو راسخ کرنے والا اہم پڑاﺅ تھا۔
عربوں کے سیاسی منظر نامے پر نظررکھنے والا انسان محسوس کریگا کہ تمام شواہد بتا رہے ہیں کہ عرب سربراہ کانفرنس میں قائدین کی وسیع البنیاد شرکت اس کانفرنس کی کامیابی کا روشن ثبوت ہے۔ اس کانفرنس میں نہ صرف یہ کہ عرب قائدین بڑی تعداد میں شریک ہوئے بلکہ بین الاقوامی و علاقائی گروپوں اور تنظیموں کے عہدیدار بھی کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔ سرفہرست اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، افریقی یونین کمشنری کے سربراہ ، یورپی یونین کی خارجہ و امن پالیسی کے اعلیٰ نمائندے ، اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سرفہرست تھے۔
عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے پر 18امور تھے۔ یہ عربوں کے اقتصادی، سماجی اور امن وامان کے مسائل کا احاطہ کئے ہوئے تھے۔ عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کا سب سے بڑا مسئلہ عرب اسرائیل کشمکش ، مسئلہ فلسطین، مقبوضہ القدس میں اسرائیلی خلاف ورزیاں، مسئلہ فلسطین کی سیاسی تبدیلیوں کی پیروی ، امن فارمولے کو موثر بنانا ، ریاست فلسطین کے بجٹ کی مدد ، فلسطینی عوام ، گولان کی شامی پہاڑیاں اورلبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس نے امارات کے جزیروں طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ پر ایران کے ناجائز قبضے اور عرب ممالک کے اندرونی امور میں ایران کی مداخلتوں کی مذمت کی۔ 
شامی المیہ عرب منظر نامے میں ایک بار پھر سرفہرست آگیا۔ ہفتے کی صبح امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے فوجی حملے اور صورتحال کو گرمانے والے تازہ واقعہ نے شامی بحران کو غیر معمولی اہم بنادیا۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: