رحمتوں کے دروازے کھلنے والے ہیں

رمضان المبارک کے دومتوازی پروگرام دن کا روزہ اور رات کا قیام ہے چنانچہ صیام وقیام لازم وملزوم ہیں
 
*  * **مولانا عبد الحفیظ مکیؒ ـ۔ مکہ مکرمہ  * * *
تمام عبادات میں سے ’’روزہ ‘‘ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کے جزاء کوباری تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ خاص فرمایا ۔ بخاری ومسلم کی روایت ہے : روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کی جزادوں گا۔
    رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے ۔موقع بموقع اللہ کریم اپنے روزے دار بندوں کو مختلف انعامات سے سرفرازفرماتے ہیں ۔
    اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بخشش فرماتے ہیں اور اس مغفرت کیلئے رمضان المبارک سے بہتر کوئی اور زمانہ نہیں ہے چنانچہ اس شخص کی بدبختی اورشقاوت میں کوئی شک نہیں جسے رمضان کا مہینہ ملا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت اور بخشش نہ کروائی ہو۔
    ترمذی کی روایت ہے :
    ’’ رسوا ہوجائے وہ شخص جس پر رمضان آیا اور گزرگیا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت نہ کرائی۔ ‘‘
    اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احادیث میں اس مبارک مہینہ کے بے شمار فضائل ثابت ہیں ۔خود رسول ِ رحمتﷺ اس مبارک مہینہ کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے ۔ ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہوجائے ۔
    اس سے بڑھ کر کیا ہے کہ بخاری ومسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔
    اسی طرح بخاری ومسلم نے ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل فرمائی ہے کہ جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں کو قیام(تراویح) کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ روزے اور تراویح کا رمضان کے دنوں اور راتوں میں اہتمام کرنا ہی بنیادی طور پر اس مبارک مہینہ کا حق ہے ۔
     رمضان المبارک کے دومتوازی پروگرام دن کا روزہ اور رات کا قیام ہے چنانچہ یہ صیام وقیام لازم وملزوم ہیں اور ان دونوں کیلئے  ایک جیسے الفاظ اور صیغوں کا استعمال (صام) اور (قام) کا استعمال کیا گیا ہے اور قیامت کے دن یہی دونوں (روزہ) اور (قرآن )  اللہ تبار ک وتعالیٰ سے اس بندۂ مؤمن کی شفاعت کی حجت کریں گے اور ان کی یہ شفاعت اور سفارش قبول ہونے کی بھی نوید سنائی گئی ہے ۔
    جن احادیت میں قیام کا ذکر ہے، اس سے اصل ہدف اور غایت بھی یہی ہے کہ رمضان کی راتیں یا ان کا زیادہ سے زیادہ حصہ قرآن مجید کے ساتھ بسر کی جائیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ رمضان میں بہترین عمل بھی یہی ہے کہ انسان قرآن کے ساتھ خود کو جوڑ لے ۔ہم اگر صیام وقیام کے الفاظ پر ہی غور کریں تو نظر آتاہے کہ یہ متوازی الفاظ یہ تقاضا کرتے ہیںکہ جس طرح دن روزے کی حالت میں گزرے اسی طرح رات قرآن کے ساتھ بسر ہو۔قرآن کی تلاوت قیام یعنی صلاۃ کے ساتھ افضل ترین ہے جبکہ اس کا بیٹھ کر پڑھنا اور اس کا مطالعہ اور اس کی آیات میں تدبر بھی بابرکت ہے ۔ یہی اس ماہِ مبارک سے استفادہ کا صحیح طریقہ ہے ۔ہاں البتہ اللہ تعالیٰ نے یہ نرمی رکھی ہے کہ قیام کو فرض نہیں فرمایا ۔
    رمضان شریف کے روزوں کا خصوصاً بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے ۔ان میں کسی قسم کی کوتاہی بڑی محرومی ہوگی ۔گرمی ،مشقت وصعوبت بھی ہو تو اسے ہمت کرکے برداشت کرنا چاہئے ۔امام احمد ،ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    جو شخص (قصداً) بلا کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کے روزہ کو افطار کردے تو غیر رمضان کا روزہ چاہے تمام عمر کے روزے رکھے اس کا بدل نہیںہوسکتا۔‘‘
    جمہور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر رمضان کا روزہ رکھا ہی نہیں تو ایک روزہ کے بدلے ایک روزہ رکھنے سے اس کی قضاء ہوجائیگی اور اگر روزہ رکھ کر توڑدیا تو قضاء کے ایک روزے کے علاوہ 2مہینہ کے روزے کفارہ کے ادراکرنے سے فرض ذمہ سے ساقط ہوجاتاہے البتہ وہ برکت اور فضیلت جو رمضان المبارک کی ہے وہ ہاتھ نہیں آسکتی اور مذکورہ حدیث پاک کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ رمضان والی برکت نہیں آسکتی جو اس میں روزے رکھنے سے حاصل ہوتی ہے ۔
    تراویح کا بھی ہمت اور نشاط اور خوشدلی سے اہتمام کرنا چاہئے ۔جمہور علماء کے نزدیک 20رکعت تراویح اور 3 وتر اداکرنا سنت ہے البتہ مالکیہ حضرات فرماتے ہیں کہ 36 رکعت تراویح اور3 وتر افضل ومسنون ہیں ۔    جمہور علماء وائمہ ثلاثہ ،ابوحنیفہ،شافعی واحمد بن حنبل رحمہم اللہ20 رکعت کو ہی راجح قراردیتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ مروی ہے اور خلفائے ثلاثہ حضراتِ عمر وعثمان وعلی اور اکابر صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم سے بھی یہی ثابت ہے اسی لئے اسی کے مطابق حرمین شریفین میں بھی اسی کا اہتمام ہوتاہے ۔ بہر حال ہمت ونشاط اور خوشدلی اور رغبت سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور اپنے گناہوں کی مغفرت کی امید پر تراویح کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے ۔ اسکے علاوہ بقیہ رات کا حصہ بھی اللہ کی کسی نہ کسی عبادت ‘نوافل،تلاوت ،ذکر ،درود اور دعاؤں میںہی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ رمضان کے مبارک لمحات ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی وقت ضائع نہ ہو ۔احادیث میں کثرت سے اس کی تاکید آئی ہے ۔
    امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اوردیگر حضرات نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرمائی ہے ۔وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہاہے جو بہت بڑا مہینہ ہے ۔بہت مبارک مہینہ ہے ،اس میں ایک رات ہے (شب قدر) جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اوراس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے ۔جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض اداکیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو اداکرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں 70 فرض اداکرے ۔یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے ۔ اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھا دیاجاتاہے۔ جو شخص کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے اس کیلئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا مگر اس روزے دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!ہم میں سے ہر شخص تواتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں ) یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے یا ایک گھونٹ لسی پلادے اس پر بھی مرحمت فرمادیتے ہیں ۔یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔جوشخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام اور خادم کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں ۔اور 4 چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو ۔ جن میں سے 2 چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے اور 2چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ نہیں ۔پہلی2 چیزیں جن سے تم ا پنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ ٔ طیبہ اوراستغفار کی کثرت ہے اور دوسری 2چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ قیامت کے دن میری حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔
    سبحان اللہ !! اندازہ کیجئے کہ رمضان المبارک کا پورا مہینہ کتنی خیروں ،برکتوں والا ہے ۔اسکے ایک ایک منٹ کی قدر کرنی چاہئے ۔خاص طور سے ہر قسم کے گناہ ومعصیت اور فضولیات ولغویات سے ان مبارک دنوں اور راتوں میں بہت زیادہ اہتمام سے بچنا چاہئے اور اس کی ہر گھڑی اور لمحہ کو غنیمت جان کر اللہ تعالیٰ کی عبادت وتلاوت صدقہ وخیرات اور ذکر ودرود اور دعاؤں کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے  کہ ایسا نہ ہو کہ یہ بابرکت مہینہ بھی گزرجائے اور ہماری بخشش ومغفرت نہ ہو ۔
    اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہم سب کو محرومی سے بچائیں ۔آمین۔
 
مزید پڑھیں:- - - -نیکیوں کا موسم بہار ، سایہ فگن

شیئر: