سیدنا ابو بکر صدیقؓ ، بہادری اورعزم کا پیکر

اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ اللہ کے رسولﷺکو ایک رسی بھی زکوٰۃ میں دیتے تھے اور اب دینے سے انکار کرد یں تو میں ان سے جہاد کروں گا

 

 * * *عبدالمالک مجاہد ۔ ریاض* *  *
مشہور محدث امام علی بن المدینی کا بڑا مشہور قول ہے : إِنَّ اللَّہَ أَعَزَّ ہٰذَاالدِّینَ بِرَجُلَیْنِ لَیْسَ لَہُمَا ثَالِثٌ  ’’اللہ تعالیٰ نے اس دین اسلام کو (بڑے نازک مواقع پر )2شخصیات کے ذریعے عزت عطا فرمائی‘ تاریخ اسلامی میں ان جیسی تیسری کوئی شخصیت نہیں ہے۔‘‘أَبُوبَکْرٍالصِّدِّیق یَوْمَ الرِّدَّۃِ وَأَحْمَدُ ابْنُ حَنْبَلٍ یََوْمَ الْمِحْنَۃِ’’ سیدنا ابو بکر صدیق کے ذریعے اس دن جب بہت سے عرب قبائل مرتد ہوگئے تھے اور امام احمد ابن حنبل کے ذریعے اُس دن جب فتنہ خلق قرآن کے سلسلے میں وہ حق پر ڈٹ گئے تھے۔‘‘
    مؤرخین نے لکھا ہے کہ اسلامی تاریخ میں 2شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑکر رکھ دیا۔ ان میں ایک تو امام احمد ابن حنبل تھے جنہوں نے فتنہ خلق قرآن کے معاملہ میں استقامت اختیار کی اور حکمرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل سنت وجماعت کے عقیدہ کو کامیابی عطا فرمائی۔دوسری بڑی شخصیت ان سے پہلے خلیفہ راشد اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓتھے جنہوں نے اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والوں کا بڑی جرأت اور بہادری سے مقابلہ فرمایا ۔ان کی استقامت کے نتیجہ میں یہ فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔ اگر وہ استقامت اختیار نہ کرتے تو ممکن تھا کہ محمد عربیﷺکا دین کمزور ہو جاتا۔ صدیق اکبر ؓکے مضبوط اور قوی موقف کی وجہ سے دشمنان اسلام کی تمام سازشیں ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ اللہ کے رسولﷺکے بعد اسلام میں سب سے بڑا بہادر اور دلیر شخصیت کون تھی تو ہم بلاتأمل کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخصیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے۔
    اللہ کے رسولﷺجب دنیا چھوڑ کر رفیقِ اعلیٰ کے پاس تشریف لے گئے تو یہ نہایت غیر معمولی حادثہ تھا۔ صحابہ کرامؓ  شدید صدمہ کے عالم میں ہیں۔ سیدنا عمر فاروق ؓجیسی مدبر شخصیت بھی اپنی تلوار میان سے نکال کر مسجد نبویؐ کے صحن میں اعلان کر رہی ہے کہ جس نے کہا اللہ کے رسولﷺوفات پا گئے ہیں‘ اس کا سر تن سے جدا کردوں گا۔ہر کوئی پریشان ہے‘ حواس باختہ ہے‘ رو رہا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اپنے گھر سے مسجد نبویؐ  کی طرف تشریف لاتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کے2 گھر تھے۔ ایک گھر جس کا دروازہ مسجد نبویؐ میں کھلتا تھا اور دوسرا گھرمسجد سے دور ایک مقام پر تھا جس کا نام صَحن تھا۔ یہ مقام مدینہ سے باہر آج کل ایئر پورٹ کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ مسجد نبوی میں لوگ رو رہے ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں اللہ کے رسولﷺکو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔ ان کا ذہن ماننے سے انکاری ہے کہ اللہ کے رسولﷺبھی اس دنیا سے رخصت ہو سکتے ہیں۔
    سیدنا ابوبکر صدیقؓ  مسجد نبوی ؐکے صحن سے گزر کر سیدھے اپنی بیٹی سیدہ عائشہؓ کے حجرہ میں جاتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺکے چہرہ اقدس سے کپڑے کو ہٹاتے ہیں۔ چہرے کو بوسہ دیتے ہیں‘ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔زبان پر یہ کلمات ہیں: آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں‘ اللہ آپ ﷺپر 2موتیں نازل نہیں کرے گا۔
    وہ مسجد میں منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ لوگوں سے کہا: سب خاموش ہو کر میری بات سنو۔ لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺکے ساتھی‘ آپﷺ کے یار غار کیا فرمانے والے ہیں؟! لوگ خاموش ہیں‘ ہمہ تن گوش ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق نے اپنا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا ’’لوگو! تم میں سے جوشخص محمدﷺکی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺوفات پا گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے‘ اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔پھر آپؓ نے سورۃ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا۔’’محمد ﷺتو ایک رسول ہی ہیں‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں‘ پس اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو کیا تم اسلام سے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا(اپنا ہی نقصان کرے گا)‘‘۔
    آپؓ  کا یہ فاضلانہ بیان سنتے ہی سب لوگ مطمئن ہو گئے اور سیدنا عمر فاروقؓ بھی مطمئن ہوکر بیٹھ گئے۔ مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے کندھوں پر خلافت کی ذمہ داریاں رکھ دیں ۔آپ ؓ کی خلافت کا زمانہ 2سال 3ماہ اور10 دن تھا۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختصر سی مدت ہے‘ مگر اس دوران انہوں نے جو کارنامے سر انجام دئیے وہ بعد میں آنے والے خلفاء اپنے طویل زمانوں بھی انجام نہ دے پائے۔ مدینہ کے اطراف میں رہنے والے قبائل کو جب اللہ کے رسولﷺکی وفات کا علم ہوا تو وہ مدینہ منورہ پرچڑھائی کرنے کی تیاریاں کرنے لگ گئے۔ تھوڑا ہی عرصہ گزراتھا کہ عرب کے بیشتر علاقوں میں بدو لوگ اسلام سے ارتداد اختیار کرنے لگے۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت مدینہ منورہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ طائف اور بحرین کے علاقوں میں رہائش پذیر تھی۔تمام صحابہ کرامؓ نے استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ مکہ مکرمہ میں بعض لوگوں نے ارتداد کی بات کی تو سیدنا سہیل بن عمروؓ  تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے، فرمایا: خبردار! اگر کسی نے اسلام کو چھوڑنے کی بات کی۔ اگر کسی نے اسلام کو چھوڑنے کا پروگرام بنایا تو اسکی گردن اڑا دی جائیگی۔ ان کے جاندار موقف کے باعث مکہ میں یہ فتنہ اپنی موت آپ ہی مر گیا۔
    سیدنا ابو بکر صدیق  ؓ کیلئے مشکلات کے طوفان کھڑے ہو گئے ۔ کوہستان کے بدؤں نے ارتداد اختیار کر لیا‘ یمن میں اسود عنسی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ طُلیحہ اسدی نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے اپنے ارد گرد لوگ اکٹھے کر لئے۔ مُسیلمہ کذاب اللہ کے رسولﷺکی زندگی میں ہی نجد کے لوگوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر کے نبوت کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔اب تک کے یہ مدعیان نبوت تو آدمی تھے‘ مگر عرب کے شمالی علاقے میں بنو تمیم کی ایک عورت سجاح نے بھی اس میدان میں قدم رکھ دیا ،اس نے کہا: اللہ کے رسول کے بعد کوئی مرد توواقعی نبی نہیں بن سکتا ‘ مگر عورت تو بن سکتی ہے۔ یہ عیسائی تھی اس نے اپنی قوم اپنے پیچھے لگا لی۔
    کتنے ہی ایسے قبائل تھے جنہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا۔ مدینہ کا امن خطرے میں تھا۔ ہر طرف مشکلات کا دور دورہ تھا۔ مدینہ کے لوگ پیارے رسول ﷺکی وفات کو بھولنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ ان حالات میں جبکہ مدینہ کی حکومت چاروں طرف سے خطرات میں گھری ہوئی تھی‘ ایک پر عزم آواز گونجتی ہے اور یہ تھی سیدنا ابوبکر صدیق ؓکی ۔شاندار آواز میںفرماتے ہیں’’لوگو! سن لو!جیش اسامہ بلقان (اردن) کی طرف حسب پروگرام ضرور روانہ ہو گا۔ اس لشکر کا جھنڈا اللہ کے رسولﷺنے اپنے محبوب ترین نوجوان اسامہ بن زید کو سونپا تھا۔( ان کے والد کو مؤتہ کے میدان میں شہید کر دیا گیا تھا)۔آپ ﷺنے اسامہ سے فرمایا تھا :جاؤ! جہاں تمہارے والد اور دوسرے صحابہؓ  کو شہید کیا گیا تھا وہاں پر اسلامی حکومت کی رِٹ قائم کر کے آؤ۔‘‘
    سیدنا اسامہ بن زید کی عمر اس وقت کوئی 17برس کے لگ بھگ ہوگی۔ لشکر میں ان کی کمان میں سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ اور سیدنا عمر فاروق  ؓ بھی تھے۔ لشکر مدینہ سے بلقان کی طرف روانہ ہونے کے لئے جرف کے مقام پر اکٹھا ہو رہا تھا کہ اللہ کے رسولﷺبیمار ہو گئے۔ اسامہ کی والدہ ام ایمن بنو عبدالمطلب کے آخری وقت کو خوب جانتی پہچانتی تھیں۔ اپنے بیٹے کو روک دیا‘ کہا: اللہ کے رسولﷺ کی صحت اچھی نہیں‘ ابھی رک جاؤ‘بعد میں چلے جانا۔سیدنا ابوبکر صدیق ؓنے جب لشکر اسامہ کو بھیجنے کا دو ٹوک اعلان کیا تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ اسامہ ابھی کم عمر اور نا تجربہ کار ہیں۔ اس کی جگہ کسی تجربہ کار کمانڈر کو لشکر کی قیادت سونپی جائے۔
    اللہ کے رسولﷺکو بھی بعض لوگوں نے سیدنا اسامہ کے حوالے سے یہی مشورہ دیا تھا‘ مگر آپﷺ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ اس کائنات میں اللہ کے رسولﷺکے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ عمر فاروق  ؓ بھی یہ مشورہ دینے والوں میں شامل تھے، کہ اسامہ کی بجائے کوئی اور شخص کمانڈر ہو۔ آپؓ  سیدنا عمر  ؓسے مخاطب ہوتے ہیں، فرمایا ’’عمر! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟! تمہاری ماں تمہیں گم پائے‘ جسے اللہ کے رسولﷺنے امیر بنایا ہے کیا میں اس کے علاوہ کسی اور کو امیر مقرر کردوں؟!‘‘
    سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ جرف کے مقام پر خود تشریف لے جاتے ہیں۔ لشکر اسلام کوچ کر رہا ہے۔ اسامہ بن زید  ؓ گھوڑے پر سوار ہیں۔ خلیفۃ المسلمین پیدل چل رہے ہیں۔ اسامہ انہیں دیکھتے ہیں تو گھوڑے سے نیچے اترنا چاہتے ہیں۔خود کو سوار اور خلیفۂ رسول کو پیدل دیکھ کر خجالت محسوس کر رہے ہیں۔ خلیفۂ رسول! مجھے اترنے کی اجازت دیجئے یا پھر آپ بھی سوار ہو جائیں۔
    سیدنا ابو بکر  ؓ فرما رہے ہیں : اسامہ! نہ تو تم گھوڑے سے نیچے اترو گے نہ میں سوار ہوں گا۔آپ  ؓ اسامہ کے قریب ہوتے ہیں۔ ان کا مورال بلند کرنے کیلئے فرما رہے ہیں ’’امیر لشکر! کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں عمر کو اپنے پاس مدینہ میں روک لوں؟‘‘
    قارئین کرام! اسے کہتے ہیں تواضع ‘ فروتنی‘ اور اسلامی لشکر کے قائد کو تھپکی دینا۔ اسامہ جواباً عرض کرتے ہیں: بسر و چشم ‘ خلیفۂ رسول!میری طرف سے اجازت ہے کہ عمر آپ کے پاس مدینہ میں رک جائیں۔
    لشکر اسامہ شمال کی جانب ‘ بلقان کے علاقے کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔یہ لشکر جہاں سے گزرتا ہے دشمنان اسلام پر خوف ودبدبہ طار ی کرتا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں بڑے کڑیل بدو رہتے ہیں جو مدینہ طیبہ پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ مدینہ خالی ہے۔ انکی قوت اور طاقت کمزور ہو گئی ہے۔ ہمیں وہاں سے غنیمت کا مال ملے گا۔ لشکر اسامہ کو دیکھا تو فکرو سوچ بدل گئی۔
    ارے کون کہتا ہے کہ مسلمان کمزور ہیں، ان کا دفاع مضبوط نہیں۔ اگر ان کے پاس قوت و طاقت نہ ہوتی تو یہ لشکر بلقان کی طرف ‘ رومیوں سے ٹکر لینے کیلئے کبھی روانہ نہ ہوتا۔ ارے جو رومیوں سے لڑ سکتے ہیں‘ ان پر حملہ کر سکتے ہیں ہماری طاقت تو ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ لشکر اسامہ کوئی ایک ماہ کا سفر طے کر کے بلقان کے علاقے میں پہنچ گیا ہے۔ رومی دشمن مقابلہ میں نہیں آیاتاہم علاقے میں مسلمانوں کی رٹ قائم ہو چکی ہے۔ جن قبائل نے رومیوں کے ساتھ معاہدے کر رکھے تھے ،وہ انہیں توڑ کر مسلمانوں کیساتھ معاہدے کر رہے ہیں، مسلمانوں کی پناہ میں آ رہے ہیں۔ جزیہ دینے کے وعدے کر رہے ہیں۔ سیدنا اسامہ  ؓ باغیوں کی طاقت کو کچل رہے ہیں۔ جو مسلمانوں کے ہم نوا ہیں ان کو حوصلہ دے رہے ہیں۔
    قارئین کرام! بلقان کا علاقہ آج کل اردن نامی ملک کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ وہاں اب مسلمانوںکی قوت ‘ طاقت ‘ انکی حشمت وسطوت کے تذکرے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺکی باتیں ہیں۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ کتنوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور جزیہ دینا قبول کر لیا ہے۔ لشکر اسامہ2 ماہ کے بعد مدینہ طیبہ اس شان سے واپس آتا ہے کہ بلقان کے علاقے میں اسلام دشمن طاقتوں کی قوت و طاقت پاش پاش ہوچکی ہے۔ ان پر اسلامی قیادت کا رعب و دبدبہ طاری ہے۔
    لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے بعد خلیفہ المسلمین  ؓ ایک عبقری فیصلہ کرتے ہیں۔ مدینہ شریف میں جو مجاہد باقی رہ گئے ہیں، ان کو جمع کرتے ہیں، ان میں جہاد کی روح پھونکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ عرب کے بدو مدینہ پرحملہ کریں وہ ان پر حملہ کرنے کیلئے پروگرام مرتب کر چکے ہیں۔ مدینہ کے گرد و نواح میں بنو اسد‘ بنو غطفان ‘ بنو طے جیسے قبائل ارتداد اختیار کر چکے ہیں۔ ان کو شکست فاش دیتے ہیں۔ کل 11 لڑائیاں تھیں جو مرتد ہونے والوں کیخلاف لڑی جاتی ہیں۔ان میں مدینہ شریف سے محض 26میل کے فاصلے پر ایک لڑائی ایسی بھی تھی جس میں سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ نے خود شرکت فرمائی۔ بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا : ہم کلمہ کا اقرار کرتے ہیں‘ نمازیں بھی ادا کرتے ہیں۔بس ہم لوگ زکوٰۃ دینے کا وعدہ نہیں کرتے۔ باقی سارے ارکان پورے کریں گے مگر ہمیں زکوٰۃ سے چھٹی ملنی چاہئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓنے ان کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کر دیا۔
    صحابہ کرام حیران ہیںکہ ایسے جرأت مندانہ فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ اُدھر سیدنا عمر فاروق  ؓ خلیفۃ المسلمین  ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کرتے ہیں: ایک شخص کلمہ بھی پڑھتا ہے‘ نمازیں بھی پڑھتا ہے‘ بس زکوٰۃ نہیں دیتا‘ آپ اس کو بھی کافر کہتے ہیں؟ اس کیخلاف جہاد کرنے کا اعلان کر رہے ہیں!!صدیق اکبر  ؓ اپنے ساتھی کو بلند آواز میں جواب دے رہے ہیں۔ بلند آواز جو عزم اور حوصلہ سے بھرپور ہے :فرمایا ’’ دور جاہلیت میں توتم سخت تھے، اسلام میں آکر کمزور ہوگئے؟ میں توقع کر رہا تھا کہ تم آؤ گے میری بات کی تائید کرو گے مگر تم تو کمزوری کا مظاہرہ کر رہے ہو‘‘۔ پھر اپنا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا :اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ اللہ کے رسولﷺکے دور میں ایک رسی بھی زکوٰۃ میں دیتے تھے اور اب وہ دینے سے انکار کر یں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔
    سیدنا عمر فاروق  ؓ نے خلیفہ کا عزم و ارادہ دیکھا‘ غور و فکر کیا۔واقعی زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اللہ  نے اس مسئلہ میں انکابھی سینہ کھول دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ ابوبکر صدیق کا موقف درست ہے تو دل و جان سے اُنکے دست بازو بن گئے۔
    خلیفۃ المسلمین نے اس دور11کمانڈروں کو طلب فرمایا۔ مدینہ شریف کے چاروں اطراف میں انکو روانہ کیا۔ ان کمانڈروں میں سیدنا خالد بن ولید‘ عکرمہ بن ابی جہل‘ شرحبیل بن حسنہ‘ خالد بن سعید بن العاص ‘ عمرو بن العاص جیسے جنگجو اور بہادر تجربہ کار شامل تھے۔
     اسلام کے دشمن مدینہ طیبہ کی ریاست کو کمزور کرنا اور دیکھنا چاہتے تھے مگر سیدنا ابوبکر صدیق کے عزم و حوصلہ کے سامنے یہ لوگ بکھرے ہوئے پتوں کی طرح اڑ جاتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ نے سب سے پہلے مدینہ کے ارد گرد کے قبائل پر قابو پایا۔
    حالات سنبھلے تو نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی سرکوبی شروع کی۔ اس طرح سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے بڑی حکمت کے ساتھ مسلمانوں کیخلاف ہونے والی تمام سازشوں پر قابو پایا۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر قابو پایا۔ اس کے دفاع کے لئے 8 ماہ تک یمامہ کے علاقہ میں لڑائی ہوتی ہے۔ مسلمان کامیاب رہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ایک ایک کر کے ختم ہو گئے ۔ ان کی قوت اور طاقت فنا ہو گئی۔
    قارئین کرام! سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ کے دور میں یمن میں بعض عورتوں نے بڑا تخریبی کردار ادا کیا۔ تاریخ میں انہیں’’ حرکۃ البغایا‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔
     بعض یہودی اور یمنی عورتیں اللہ کے رسولﷺکی وفات پر خوشی سے پھولے نہ سماتی تھیں۔ انہوں نے اس موقع پر فسق و فجور اور لہو و لعب پر مشتمل رنگین راتوں کا اہتمام کیا۔ ان پروگراموں میں وہ بدکاری کی ترغیب دیتی تھیں۔ ان راتوں میں شیطا ن اور اسکے چیلے ان کے ساتھ مل کر رقص کرتے تھے۔ لوگوں کے دین اسلام سے منحرف ہونے‘ سرکشی اور بغاوت کی دعوت دینے پر شیطان اور اس کے چیلے بیحد خوش تھے۔ ان بد بخت عورتوں نے اسلام اور اللہ کے رسولﷺکے خلاف اپنے خبث باطن کا برملا اظہار کیا۔ ہاتھوں پر مہندی لگائی‘ خوشی سے دُف بجا کر گیت گانے شروع کئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ نے جیسے ہی یمن میں بغاوت پر قابو پایا‘ اسود عنسی قتل ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ نے اپنے گورنر کو خط لکھا۔ جب تمہیں میرا خط ملے تو پیدل اور گھڑ سوار دستوں کے ساتھ ان عورتوں کی طرف روا نہ ہو جانا۔
     ان کے ہاتھ کاٹ دینا۔ اگر کوئی شخص رکاوٹ بنے تو دلیل سے سمجھانا اگر نہ سمجھے تو اسکے خلاف جنگ کرنا۔ کہا جاتا ہے کہ ان عور تو ں کی تعداد 20تھی چنانچہ خلیفہ کے حکم پر ان باغی اور خبیث عورتوں کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے۔ ان میں اکثر مر گئیں باقی کوفہ بھاگ گئیں۔
    خلیفہ اول کا دور اسلام کا سنہرا دور تھا۔ قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کا کارنامہ انہی کے دور میں سرانجام پاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے سید نا عمر فاروق  ؓ کے مشورہ پرسیدنا زید بن ثابت  ؓ کا انتخاب بڑا عمدہ رہا۔ امت ایک قرآنی نسخے پر قیامت تک متفق ہو گئی۔سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ کی حکمت عملی ‘ مسلسل جدوجہد‘ انتھک کوشش اور اللہ کی طرف سے خصوصی مدد کے نتیجہ میں سارے فتنے یا تو ختم ہو گئے یا دب کر رہ گئے۔
مزید پڑھیں:- - - - -ماہ صیام، اہل ایمان کا ریفریشر کورس

شیئر: