فنِ تحقیق اورعصری تقاضے

ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا جس پر ہمارے اکابر نے کہیں نہ کہیں ضرور کچھ لکھا ہوگا،شرط صرف تلاش اور کتب کی ورق گردانی کی ہے
 
* * *  مولاناغازی عبدالرحمن قاسمی ـ۔ ملتان* * *
 
(گزشتہ سے پیوستہ)
    یہ حدیث بھی بڑی وضاحت سے تحقیق کی اہمیت کو بیان کررہی ہے۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر قرآن وسنت سے تحقیق کرکے مسائل کا حل پیش کرنے کی صراحت فرمائی اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اگر قرآ ن وسنت سے مطلوبہ مسئلہ نہ ملا تو اپنی رائے سے اجتہاد کروں گااور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا یہ محض اپنی رائے سے کام لینے کی طرف اشارہ نہیں تھابلکہ اس کے پیچھے بھی قرآن وسنت پر گہرے غوروفکر اور تحقیق سے قائم ہونے والی رائے مراد تھی۔
    علامہ ابو سلیمان الخطابی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    ’’حضرت معاذکا فرمانا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اس سے ان کی مراد معاملات کے حل کرنے میں قرآن وسنت سے مستنبط علت کے ذریعے قیا س کرنا تھا اور وہ رائے مراد نہیں تھی جو اپنی ذات سے ذہن یادل میں قرآن وسنت میں سے اصل کے بغیرپیدا ہو۔‘‘
    ( الخطابی،معالم السنن شرح سنن ابی داؤد)۔
    قرآن وسنت کو14سوسال سے زائد کا عرصہ گزر چکاہے اور ہرصدی میں بے شمار کتب لکھی گئیں۔ذخیرہ تفاسیر ،شروح احادیث اور کتب فقہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ امت مسلمہ نے بہت کام کیاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کونسے ایسے موضوعات ہیں جن پر کام کی ضرورت ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہوتاہے کہ ہر موضوع پر بڑے عمدہ انداز میں مدلل ومفصل کام ہوچکا ہے؟
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اسلاف اور اکابرین نے اپنے اپنے زما نے میں وقت کی نزاکتوں کے پیش نظر اسلامی نقطہ نظرسے مسائل کاحل پیش کیا ہے۔جب ہم تاریخِ اسلام پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت سی علمی قدآور ایسی شخصیات کی فہرست سامنے آتی ہے  جن کے علمی رسوخ، تفقہ ،تفکراور علمی وتحقیقی تصانیف کے آگے نظریں عقیدت سے جھک جاتی ہیں اور زبان پر ان کے لیے دعائیہ کلمات آجاتے ہیں۔
    ٭  عصر حاضر میں اسلامی تحقیقات کی ضرورت:
    اسلام ایک عالمگیر مذہب اور دینِ فطرت ہے۔جوقیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔تہذیبوں کے تصادم رسم ورواج کے اختلاف،علاقائی ثقافت کے مختلف ہونے سے نئے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ان کے اسلامی حل کے لیے تحقیق کی اشد ضرور ت ہے۔
    « سائنسی کمالات:
    اس وقت سائنسی ترقی اور کمالات نے جہاں بہت سی سہولیات کا سامان فراہم کیاہے وہیں بہت سے سوالات بھی پیدا کردئیے ہیں۔مثلاً ایک شخص فضامیں چکرکاٹ رہاہے ،چاند پر قدم رکھ چکاہے۔نماز کے اوقات کی تعیین اور قبلہ کی طرف رخ کیسے کرے۔خانۂ کعبہ زمین پرہے اور وہ فضاء میں موجود ہے؟جہاز میں سفرکررہاہے، سورج کی ٹکیہ نظر آرہی ہے جبکہ جس شہر سے جہاز گزر رہا ہے وہاں سورج غروب ہے تو اب نماز جیسے اہم فریضے کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ یا ایک شخص کسی آبدوز میں بیٹھ کر سمندر کی تہہ میں ہے، وہ کس طرف رخ کرکے نماز پڑھے گا۔ اسی طرح سحری وافطاری کے وقت کا تعین کیسے ہوگا؟ اس پر غور و فکر کرنا ہے۔
     « طبی مسائل:
    عصر حاضر میں علم الطب میں بھی بہت ترقی ہوئی ہے۔انسان کے پورے جسم پر تحقیقات جاری ہیں ۔نت نئے تجربات ہورہے ہیں۔ایک شخص کے اعضاء دوسرے کو دئیے جاسکتے ہیں؟کیا ڈی این اے ٹیسٹ کی بدولت کسی شخص پر حدجاری کی جاسکتی ہے یاکسی کا نسب ثابت کیا جاسکتاہے؟ کیا آپریشن سے مرد وعورت میں جنسی تبدیلی کی جاسکتی ہے؟وغیرہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔
    « اسلامی بینکاری کا قیام:
    اس وقت ایک اہم کام سود سے پاک بینکاری نظام کا قیام ہے جس کی تشکیل عین شرعی قوانین کے مطابق ہو۔اگرچہ بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں کوششیں کی ہیں مگر اس پر دیگر اہل علم کے خدشات اور اعتراضات ہیںبلکہ فریقین کی طرف سے کتب مارکیٹ میں موجود ہیں۔اگرچہ اختلاف رائے مذمو م نہیں مگر عوام کو اس الجھن سے نکالنا تو ضروری ہے کہ کونسی رائے عصری تقاضوں کے مطابق ہے اور جولوگ اس نظام سے مطمئن نہیں ، ان کے اعتراضات کو دور کرنا اور صحیح خطوط پر اس طرح کام کرنا کہ اس حوالے سے اضطرابی کیفیت کا خاتمہ ہو وقت کا اہم تقاضا ہے۔
    سود کی حرمت پر تو کسی مسلمان کو شک وشبہ نہیں ؟مگر سود کا اطلاق کن صورتوں پر ہوگا اور کونسی صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں؟اس بارے میں اختلاف شدید ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں بہت سے ایسے اہل علم گزرے ہیں اور موجود ہیں جن کی نظر میں بعض صورتیں ایسی ہیں جن پر سود کا اطلاق نہیں ہوتامگر دیگر اہل علم کی رائے اسکے برعکس ہے۔؟اس لئے سودکی ایسی جامع ومانع تعریف ہو کہ جس پر عرب وعجم کے علماء کا اتفاق ہو۔یا کم از کم پاک وہند کے علماء تو متفق ہوںمگر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ جب4 ایسے ممالک جن میں بالترتیب،حنفی، مالکی،شافعی، حنبلی فقہ نافذ ہو اور جب وہ آپس میں لین دین کریں گے تو اس کی کیا نوعیت ہوگی؟ اس لئے کہ سود کی حرمت کی جو علت ہرامام نے اپنے اجتہاد اور نصوص پر گہرے غوروفکرکے بعد نکالی ہے، وہ دوسرے امام کی بیان کردہ علت سے مختلف ہے تو پھر عالمی سطح پر لین دین کرتے وقت اس مسئلہ کا کیا حل ہوگا؟
    ٭   مذہبی انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کاخاتمہ:
    انسانی زند گی میں مذہب بے حد اہمیت کاحامل ہے۔انسانی زندگی کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کے لئے جس قدر مذہب اثر انداز ہوتاہے اتنی کوئی دوسری قوت نہیں ۔ انسان کو عقل یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حیوانی زندگی سے نکل کر ایک مہذب معاشرے اور پرامن زندگی کے حصول کے لئے اسے کسی چیز کے سہارے کی ضرورت ہے اور وہ سہارا زندگی کے پیچیدہ راستوں پر مذہب کی صورت میں شمع بن کر اس کی رہنمائی کرتا ہے اور کامیاب ، مہذب اور پرسکون زندگی گزارنے میں اس کا معاون بنتا ہے جس کا کوئی مذہب نہ ہو اس کی زندگی بے معنیٰ سی ہوتی ہے جبکہ جو مذہب سے وابستہ ہوتے ہیں ان کی زندگی کا کوئی مقصد اور مفہوم ہوتا ہے۔
    یہ مذہب ہی ہے جو زندگی کے تمام گوشوں کے بارے میں واضح لائحہ عمل رکھتا ہے جس کی بدولت انسان حقیقی کامیابیاں حاصل کرلیتاہے۔روحانی غذا بھی مذہب کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ انسا ن کی نظر اور فکر میں وسعت وعالمگیریت پیدا ہوجاتی ہے مگر یہ سارے اثرات اس وقت مرتب ہوتے ہیں جب مذہب کو اس کی اصل پر باقی رکھتے ہوئے اس پرعمل کیا جائے۔ـ اگر اس میں افراط وتفریط(زیادتی وکمی)پیدا ہوگئی تو مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جائیں گے۔
     پورا عالم اسلام مختلف تباہ کن مسائل سے دور چار ہے۔ ان میں مذہبی انتہاء وشدت پسندی بھی ہے، جس نے فرقہ واریت کو مزید فروغ دیاہے اور اس سے امن عامہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ایک دوسرے کا قتل عین ثواب سمجھ کر کیا جارہاہے مگر معمولی سے اختلاف رائے اور اظہار رائے کرنے پر ایک دوسرے پر سخت قسم کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور بسا اوقات معاملات حد سے زیادہ سنگینی اختیارکرلیتے ہیں۔ان حالات میں ضرورت ہے مذہبی انتہاء پسندی کے پس منظر، اسباب کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کے خاتمہ کے لئے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ عالم اسلام ہرقسم کے داخلی نقصانات سے محفوظ رہے۔
    ٭ کرپشن کے نقصانات اور اس کا سدباب:
    اس وقت پاکستان کوکرپشن نے بری طرح کھوکھلا کردیاہے۔اعلیٰ سے ادنیٰ فرد کسی نہ کسی صورت میں کرپشن میں مبتلا ہے۔کرپشن کا مفہوم کیاہے؟کیا اس کا دائرہ صرف مالی بدعنوانی تک محدود ہے یا اور صورتیں بھی داخل ہیں؟آج کل رشوت کو ’’ہدایا ‘‘کے نا م سے موسوم کرکے وصول کیا جارہاہے۔ہدایا اور تحائف کے بارے میں شریعت کا کیا موقف اور مزاج ہے؟کن صورتوں میں ہدایا کا شمار رشوت میں ہوگا؟یا تحائف اور ہدایا کا وصول کرنا ناجائز ہوگا؟کونسی صورتوں میں رشوت دی جاسکتی ہے؟
    کوئی افسر اپنے ماتحت کو غلط کام کا حکم دے اور حکم عدولی کی صورت میں جانی یا مالی نقصان کا اندیشہ ہو توکیا حکم ہے؟یونیورسٹیز اور کالجز کے اساتذہ کا طلباء سے ہدایا اور تحائف وصول کرنا یا مطالبات کرنا ا ن کا کیا حکم ہے؟تحائف اور ہدایا وصول کرکے اساتذہ کا غیر معیاری گائیڈ نما کتب طلباء کو خریدنے کاحکم دینا۔ڈاکٹر اور ٹیچر کا اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا ،سرکاری اوقات میں پرائیویٹ کلینک ،اکیڈمی چلانا،صحافی یا اینکر کا پیسوں کی خاطر بک جانا ،علمائے سوء اور ان کا کردار، اپنے ماتحتوں سے غیرمہذب رویہ ،ملاوٹی اشیاء وغیرہ بیسیوں ایسے موضوعات ہیں جن پر حقائق کو مد نظررکھتے ہوئے کام کیا جاسکتاہے۔
    ٭   معاشرتی رسوم ورواج کا جائزہ:
    اس وقت ہمارے معاشرہ میں بہت سی ایسی رسوم رائج ہوچکی ہیں، جن کے بارے میں اکثریت کو یہی نہیں علم کہ کام شرعی ہے اس لئے کررہے ہیں یا ایک رسم کے طور پر سرانجام دے رہے ہیں؟کونسے کام شرعاً مباح ہیں اور کونسے ناجائز ہیں۔خوشی وغمی کا شرعی تصور کیاہے؟ اظہار مسرت وغم میں کس حد تک آگے بڑھا جاسکتاہے؟شادی وبیاہ اور تجہیز وتکفین کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟بعض خاندانوں میں کزن میرج (چچازاد اور پھوپی زاد کی آپس میں شادی) کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔اس کا پس منظر کوئی خاندانی رواج ہے؟طبی رائے ہے؟وغیرہ۔
    ٭ انٹرنیٹ ،ٹی وی ،کیمرہ کا استعمال:
    عصرحاضر میں بہت سی ایجادات منظر عام پر آئی ہیں۔ان کے استعمال کے حوالہ سے اسلام کا موقف کیاہے؟مثلاً ٹی وی ،سی ڈی پلیئر،ڈی وی ڈی،کمپیوٹر،انٹرنیٹ ،کیبل ،موبائل فون وغیرہ کا استعمال کس حد تک جائز ہے۔ میوزک ومو سیقی،ناچ گانا،قوالی وغیرہ کے کیا احکامات ہیں؟کیمرہ کی تصویر کا حکم اور ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر کی شرعی حیثیت متعین کرنا اسلامی محقق کی ذمہ داری ہے تاکہ لوگوں پر صحیح صورتحال واضح ہوسکے۔
    ٭ مستشرقین کا تعاقب:
    مستشرقین کے اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات، قرآن مجید اور بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ پر اٹھائے گئے سوالات کے صحیح جوابات دینا اسلامیات کے اسٹوڈنٹ کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے جن میں نہ معذرت خواہانہ انداز ہو اور نہ ہی روحِ شریعت اور مزاجِ شریعت سے صرف نظرکیا گیا ہو۔
    ٭ مغرب کی برتری کا جواب:
    آج یورپ کی برتری کے نعرے بلندہورہے ہیں۔ کسی چیز کے صحیح اورمستند ہونے کے لئے یورپ کی تصدیق کافی سمجھی جاتی ہے او راسلامی تہذیب وتمدن کا مذاق اڑایا جارہاہے۔ایسے حالات میں اسلامیات کے محقق پر لازم ہے کہ وہ احکام ِاسلام کی ایسی توضیح وتشریح کرے جس سے اسلام کی صحیح ترجمانی ہو۔
    اس کے علاوہ اور بھی موضوعات ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    ٭تحقیق کے فوائد:
    تحقیق کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
    * نئی معلومات کاحصول* اصل ماخذ تک رسائی* کارکردگی میں اضافہ*حقیقت سے آگاہی*توہمات سے چھٹکارہ*تعصبات کاخاتمہ* صحیح وغلط کی پہچان* ندامت سے بچائو  * علم میں وسعت وگہرائی کا پیدا ہونا* صلاحیتوں کا نکھرنا*صحیح نتائج تک رہنمائی* جمود کا خاتمہ* صحیح نظریات کی سچائی کا ادراک* باطل اور جھوٹ کا رد*قوت فیصلہ کا پیدا ہونا* آلام ومصائب سے نجات* ترقی میں ممد ومعاون*پرسکون زندگی گزارنے کے طریقوں کا علم* کائنات کے رازوں اور بھیدوں کا علم*شکو ک وشبہات کی فضاء کا خاتمہ۔
    ٭ طریق کار:
    اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ہم قرآن وسنت اور ان کی توضیح وتشریح میں لکھی اپنے اسلاف کی کتب کی طرف مراجعت کریں گے اور ان اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسائل کا حل پیش کریں گے، جن پر صدیوں غوروفکر ہوا اور وہ مزید نکھر کرسامنے آگئے ہیں۔
    چونکہ ہم لوگ فقہ حنفی کے مطابق عمل کرتے ہیںاس لئے دورانِ تحقیق فقہائے احناف کی کتب کوضرور مد نظر رکھیے اور چونکہ دیگر ائمہ عظام مالکیہ،شوافع ،حنابلہ کی کتب بھی تحقیقی کاموں میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں، اس لئے کہ ائمہ اربعہ اور ان کے متبعین میں جتنے بھی نامور اہل علم گزرے ہیں وہ سب حق کی ہی اتباع کرنے والے تھے۔ صرف حق کو فقہ حنفی کے ساتھ خاص سمجھنا یہ بہت بڑی غلطی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو جو اللہ تعالیٰ نے فقہی بصیرت عطا فرمائی تھی اور جو آپ رحمہ اللہ کی نصوص پر گہری نظر تھی اس کا مقابلہ کوئی آپ کا ہم عصر اور بعد کے افراد میں بھی کوئی نہ کرسکا تاہم اپنے اپنے زمانے میں بہت سی علمی شخصیات گزر ی اور ان کے علمی کارنامے داد تحسین کے مستحق ہیں۔
    ایک اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کام دار العلوم دیوبند ہندوستا ن اور اس کے فضلاء سے لیاہے بر صغیر اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی نظیر ملنی دشوار ہے۔الحمد للہ علمائے دیوبند نے جس اعتدال اور للہیت وخلوص سے علوم ِاسلامیہ کی خدمت کی ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتااس لئے دور ان تحقیق خاتم الفقہاء حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری ،حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی،شیخ العرب والعجم حضرت سید حسین احمد مدنی ،شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی ،علامہ ظفراحمدعثمانی،شیخ الحدیث مولانا یوسف بنوری ،شیخ التفسیر والحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ، مولانا مفتی عزیز الرحمن ،حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی ومولانا بدر عالم میرٹھی رحمت اللہ تعالیٰ اجمعین اور بھی بہت سے نام ہیں جو طوالت کے خوف سے حذف کررہا ہوں، کی علمی کتب کو ضرور مطالعہ میں رکھیے۔
    ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا جس پر ہمارے اکابر نے کہیں نہ کہیں ضرور کچھ لکھا ہوگا ۔شرط صرف تلاش اور کتب کی ورق گردانی کی ہے۔ان شاء اللہ العزیز اپنے دوسرے مقالہ میں اس پر بھی روشنی ڈالوں گا کہ حدیث وتفسیر وفقہ میں کونسی کتب میں زیادہ بہتر انداز میں مباحث کو سمیٹا گیاہے اور جو مسئلہ عام کتابوں میں نہ ہو تو وہ کن کتابوں میں ملے گااور دیگر مفید امور پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
مزید پڑھیں:- - - - - سوئے ہوئے طالب علم پر تشدد کرنیوالی ٹیچر واقعہ کے بعد مستعفی

شیئر: