آخر ننھو میاں کا کیا بنے گا؟

عنبرین فیض احمد۔ ینبع
ننھو میاں تھے بڑے نکمے نہ ان کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی شوق تھا اور نہ کوئی ہنر سیکھنے میں دلچسپی تھی۔ ان کا کام تو بس صرو کبوتروں کو اڑانا ، ان کی دیکھ بھال کرنا اور چڑیا کے پنجرے کی صفائی کرنا تھا۔ یہ ان کے محبوب مشغلے تھے۔ والدین ان کے لئے بڑے فکر مند رہتے کہ نہ ہی ان کے پاس کوئی ڈگری ہے او رنہ ہی کوئی ہنر آتا ہے۔ آخر کیسے ان کی پہاڑ جیسی زندگی گزرے گی۔ باقی بہن بھائیوں کے پاس سب کچھ تھا۔ عزت، شہرت، بنگلہ ، گاڑی غرضیکہ ان کے گھروں میں دولت کی بھرمار تھی مگر یہ کہ ننھو میاں کے پاس کیا ہے ہر لمحہ ان کے والدین یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جاتے تھے کہ آخر ننھو میاں کا کیا بنے گا۔ اچانک ایک دن ننھو میاں کی سوچوں کا دھارا تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے سوچا مجھ میں کیا کمی ہے صحت وتندرستی کی دولت سے مالا مال ہوں، خوبصورت ہوں بس ایک ڈگری ہی کی تو کمی ہے۔ تو ایسی کوئی خاص بات بھی نہیں جس کی اتنی فکر کی جائے۔ جن کے پاس ڈگریاں ہیں وہ بھلا کون سے سکون میں ہیں۔ وہ کون سا خوش دکھائی دیتے ہیں ۔ بے چارے مصیبت میں گرفتار ہی تو دکھائی دیتے ہیں۔ ہر وقت خبروں میں سننے کو ملتا ہے کہ فلاں نوجوان نے بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کر لی اور باقی دفتروں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں اور ڈاکٹر ی کا پیشہ تو ایسا ہے یا تو انسان اس میں خوب کمائی کرتا ہے یا پھر کچھ بھی نہیں کماتا ۔ آج کل ڈاکٹروں کا کیا کہئے وہ تو بے چارے چند ہزار روپے کی خاطر ساری رات اپنی برباد کر ڈالتے ہیں۔ اس کے عوض ان کو کیا ملتا ہے۔ مزدوروں سے بھی کم دہاڑی بناپاتے ہیں ۔ راج، مزدور بھی ان سے زیادہ کما لیتا ہوگا اور تو اور کباب پراٹھے والے یا بریانی بیچنے والے بھی ان سے زیادہ کما لیتے ہیں پھر ایک معمولی ڈگری یافتہ کا بھلا ان سے کیا مقابلہ۔ 
ڈگری یافتہ لوگوں کا انجام دیکھ کر ننھو میاں کو ڈگری تو فضول جیسی چیز لگنے لگی۔ ایک ڈاکٹر کے پاس کچھ عرصے کے لئے کام سیکھنے کےلئے گئے جو ننھو میاں کے بھائی کے دوست تھے، پھر کیا تھا جلد ہی وہ جنرل پریکٹس کے بیشتر گروں سے آگاہ ہو گئے مثلاً نسخہ لکھنا لکھانا ، ٹانکہ لگانا ، ٹیکہ لگانا آ گیا ۔ پھر ایک دن بیٹھے بٹھائے ننھو میاںکے اندر خدمت خلق کا جذبہ جاگ اٹھا۔ سوچا ہمارے ملک میں غریبوں کی آبادی تو بہت ہے کیوں نہ ان کی خدمت کی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کلینک کہاں کھولا جائے۔ شہر میں یا دیہی علاقے میں، کیونکہ دیہی علاقوں میں کوئی ڈگری یافتہ ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تو چلو ہم ہی وہاں جا کر غریبوں کی کچھ خدمت کر آتے ہیں۔ ویسے بھی کلینک کھولنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں۔ وہی جرا¿ت کر سکتا ہے جو نڈر اور بے باک ہو اور خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ رکھتا ہو او ریہ ساری خوبیاں ننھو میاں میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ کسی نہ کسی طرح کلینک کا آغاز ہو ا او ردیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت بھی آگیا جب ننھو میاں کے کلینک کے باہر لوگوں کا جم غفیر رہنے لگا۔ اردگرد کے علاقوں میںننھو میاں کو لوگوں نے بہت جلد نامی گرامی ڈاکٹر تسلیم کرلیا۔ 
اب کیا تھا ننھو میاں مشہور ہو گئے ۔ وہ غریبوں کا بڑا خیال رکھتے تھے اتنا خیال رکھتے کہ دوسرے کیا خاک خیال رکھیں گے کیونکہ ننھو میاں یہ بخوبی جانتے تھے کہ غریبوں کے ہی دم سے ان کے کلینک میں رونق ہے ورنہ جس دن یہ راز فاش ہو جائے کہ وہ ڈاکٹر نہیں تو کیا ہو گا۔ 
ایک دن ننھو کے پاس ایک عورت دوا لینے آئی۔ انتہائی غریب معلوم ہو رہی تھی پورے پیسے نہ دے پائی۔ ننھو میاں نے بھی پیسے بڑھا کر بتا دیئے۔ کہنے لگی ڈاکٹر صاحب میں بہت غریب ہوں بہت دور سے آئی ہوں کچھ رعایت کر دیں۔ ننھو میاں نے کہا کوئی بات نہیںجو چاہے دے دیں۔ نہ ہوں تو بھی کوئی بات نہیں۔ اس نے جو بھی دیا، انہوں نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔وہ دعائیں دیتی چلی گئی۔ وہ غریبوں کا دل کبھی نہیں دکھاتے تھے ، وہ جو دیتے رکھ لیتے ۔ ننھو میاں کی حکمت عملی یہ تھی کہ لوگوں کا بخار ٹوٹنا چاہئے۔ مریضوں کا دل نہیں ٹوٹنا چاہئے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چار چار اور اکثر اوقات پانچ پانچ انجکشن ایک ساتھ لگوا دیتے ۔ چاہئے کسی کو ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بھلاکوئی ڈگری یافتہ ڈاکٹر ایسا کر سکتا ہے۔ اب ہر کسی کو انجکشن لگانا ننھو میا ںکی عادت سی ہو گئی۔ ویسے بھی وہ ڈاکٹر ہی کیا جسے انجکشن نہ لگانا آئے۔ آخر حکیم اور ڈاکٹر میں کوئی تو فرق ہونا چاہئے۔ 
ننھو میاں کے مریضوں کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ کہیں سے بھی علاج کرالیں مگر ان کو تسلی نہیں ہوتی تھی جب تک وہ ننھو میاں کے پاس نہ آتے لہٰذا وہ گھوم پھر کر ان ہی کے پاس آجاتے ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر وںکو دکھا لیں لیکن کیا مجال جو ان کی اجازت کے بغیر ایک گولی بھی کھا لیں۔ ننھو میاں کی مقبولیت دیکھ کر اکثر ڈاکٹر حضرات حسد و رقابت کی آگ میں لوٹتے پوٹتے دکھائی دیتے ۔ آئے دن ان کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی جاتی۔ ننھو میاں بڑے ذہین اور ہوشیار تھے چنانچہ جب وہ دیکھتے کہ ان کے سر پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں تو جھٹ اپنی کلینک میں کسی نہ کسی ضرورت مند ڈگری یافتہ ڈاکٹر کو ملازم رکھ لیتے اور خود پروپرائٹربن جاتے اور وہ سند یافتہ شخص ڈاکٹر کے فرائض انجام دیتا ۔ یوں ننھو میاں کا کاروبار بحسن و خوبی چلتا رہا ۔ ان کا اتائی کاروبار کئی دہائیوں تک چلتا رہا کیونکہ حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں مگر اب عدالت نے نوٹس لے لیا ہے ،سنا ہے ننھو میاں کئی روز سے غائب ہیں۔ نجانے کہاں ہوں گے بے چارے؟ہمیں فکر ہے کہ ننھو کا کیا بنے گا؟
 

شیئر: