#راؤ_انوار‎

راؤ انوار کی نقیب اللہ قتل کیس میں ضمانت منظور ہونے پر ٹویٹر صارفین نے شدید احتجاج کیا اور اسے ریاست اور عدلیہ کی ناکامی قرار دیا۔
جبران ناصر نے ٹویٹ کیا : راؤ انوار کو نقیب اللہ قتل کیس میں ضمانت مل گئی ہے لیکن وہ ابھی تک غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے کیس میں ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے تحویل میں ہے ۔ ریاست کے پاس ایسے موقع کم ہی آتے ہیں جب وہ اپنے شہریوں کا اعتماد بحال کر سکے لیکن اس موقع پر ریاست نے اپنے لوگوں کے بجائے ایک قاتل کو سپورٹ کیا ہے۔
افراسیاب خٹک نے ٹویٹ کیا : راؤ انوار اور جنرل مشرف کے مقدموں میں ننگی بےانصافی کے بعد عدلیہ کے کٹھ پتلی ہونے میں ہر ایک شک دور ہوگیا ہے۔ نام نہاد احتساب کا کھڑاک محض ایک پارٹی کو عام انتخابات جتوانے اور دوسری کو ہرانے کے لئے رچایا گیا ہے ۔ اب انصاف صرف عوام کی عدالت میں ہوگا۔ 
جلیلہ حیدر نے کہا : راؤ انوار کو کس قانون کے تحت ضمانت دی گئی؟ اے ٹی سی کے تحت رجسٹر ہونے والے کیسز ضمانت ممکن نہیں ہوتی ۔
رحمت محسود نے کہا : ہماری ریاست اور اس بدقسمت قوم کو مبارک ہو۔ جعلی مقابلوں کے ماہر اور نقیب اللہ کے قتل میں ملوث راؤ انوار کو ہائی پروفائل کیس میں ضمانت دے دی گئی ہیں۔ یہ اس قوم اور نقیب اللہ کی فیملی کے لیے ایک بری خبر ہے۔
مینا خان آفریدی نے کہا : راؤ انوار کی ضمانت منظور ہوگئی۔ یہ کیسا انصاف ہے۔ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ یہ فیصلہ ہرگز منظور نہیں۔ کیا ہمارا خون اسی طرح برائے فروخت ہے؟
اینکر پرسن ناجیہ اشعر نے کہا : انصاف ہمارے ہاں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ راؤ انوار کو نقیب اللہ کیس میں ضمانت مل گئی ہے۔
واحد شیرانی کا کہنا ہے : اس فیصلے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ راؤ انوار ایک کٹھ پتلی اور اسٹیٹ ایکٹرز کا آلہ کار تھا اور اس نے جو کچھ کیا اسٹیٹ ایکٹرز کی آشیر باد کے ساتھ کیا۔
خرم حسین نے ٹویٹ کیا : آج ایک قاتل کو آزاد کر دیا جائے گا جبکہ انصاف کو قید کر دیا جائے گا۔

شیئر:

متعلقہ خبریں