منفردکرکٹرز فٹبال کے با صلاحیت کھلاڑی

 
 
 
کرکٹ کی دنیا میں چند ایسے کھلاڑی بھی آئے ہیں، جنہوں نے کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ فٹبال میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ان دنوںدنیا بھر میں فیفا ورلڈ کپ کی دھوم ہے اور پاک و ہند سمیت دنیا کے متعدد ملکوں کے شائقین ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم موجود نہ ہونے کے باوجود بھرپور جوش و جذبے سے ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے میں مصروف ہیں۔فٹبال اسٹارز کی مقبولیت اور شہرت اپنی جگہ لیکن کرکٹ کی دنیا میں بھی با صلاحیت فٹبالرزموجود رہے ہیں اورانہوںنے کرکٹ کے میدان میں کارنامے انجام دینے کے ساتھ ساتھ فٹبال کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔
ویوین رچرڈز : دنیا میں جب کبھی بھی کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی فہرست مرتب کی جائے گی تو عظیم ویسٹ انڈین بلے باز سر ویوین رچرڈز اس فہرست کا حصہ ضرور ہوں گے۔لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رچرڈز دنیا کے شاید وہ واحد مرد کرکٹر ہیں، جنہوں نے کرکٹ اور فٹبال دونوں کے ورلڈ کپ میچ کھیلے۔1975 سے 1987 تک کرکٹ کے 4 ورلڈ کپ مقابلوں میں حصہ لینے والے عظیم ویسٹ انڈین بلے باز نے کرکٹ کھیلنے سے قبل 1974 کے ورلڈ کپ کوالیفائرز مقابلوں میں انٹیگا کی نمائندگی کی اور یہ منفرد ریکارڈ بعد میں اس وقت ان کے حصے میں آیا جب وہ فٹبال چھوڑکر کرکٹ کی جانب چلے آئے اور بے مثال شہرت سمیٹنے میں کامیاب رہے ۔
ایلسی پیری: ویمنز کرکٹ کی بات کی جائے تو آسٹریلیا کی آل راﺅنڈرایلسی پیری کا شمار صف اول کی کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نے جولائی 2007 میں صرف 16سال کی عمر میں اپنا انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر شروع کیا۔اس کے2 ہفتے بعد ہی انہوں نے آسٹریلیا کی ویمن فٹبال ٹیم کے لیے بھی اپنا پہلا میچ کھیلا اور 2014 ءتک کرکٹ آل راو¿نڈ اور فٹبال کی دفاعی کھلاڑی کے طور پر یکساں عمدہ کھیل پیش کرتی رہیں، 2011 کے ویمن فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں کیا گیا ان کا گول آج بھی شائقین کو یاد ہے ۔ بعد میں انہوں نے اپنی توجہ مکمل طور پر کرکٹ پر مرکوز کرلی اور وہ دنیا کی نمایاں ترین خاتون آل راﺅنڈر ہیں۔پیری نے 7ٹیسٹ، 97 ون ڈے اور 90 ٹی20 میچوں میں آسٹریلیا نمائندگی کرتے ہوئے متعدد میچوں میں ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا ۔
آرتھر ملٹن :انگلش کرکٹر آرتھر ملٹن کا فرسٹ کلاس کیریئر ان کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے، انہوں نے کاﺅنٹی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 620 میچز میں 32ہزار 150رنز اسکور کئے تاہم ان کا انٹرنیشنل کیریئر بہت مختصر اور صرف 1958 سے 1959 میں پہنچ کر ختم ہو گیا اور وہ 6 ٹیسٹ میچ ہی کھیل سکے۔وہ ایک بہترین فٹبالر بھی تھے۔ 1945 میں معروف انگلش فٹبال کلب آرسنل سے معاہدے کے بعد انہوں نے 80 سے زائد میچز کھیلے۔بعد ازاں برسٹل میں ٹرانسفر کے بعد انہوں نے کرکٹ پر توجہ دینے کی ٹھانی اور اس میں نمایاں کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں خوب جوہر دکھانے میں کامیاب ہوئے ۔
چارلس برگس : ہر لحاظ سے ایک آل راونڈر کی زندگی گزاری۔ انہوں نے لانگ جمپ، رگبی، رائٹر، سیاستدان اور ٹیچر کی حیثیت سے خود کو منوایا جبکہ ایک زمانے میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ انہیں ایک مرتبہ البانیہ کے تاج کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ن سب کے ساتھ ساتھ ایک وہ بہترین کرکٹر اور فٹبالر بھی تھے۔ کرکٹ کے میدان میں انہوں نے انگلینڈ کے لیے 1896 اور 1912 کے درمیان 26 میچز میں ایک ہزار 223 رنز اسکور کیے تھے۔انہوں نے کرکٹ کے ساتھ ساتھ رائٹ بیک کی حیثیت سے انگلینڈ کی قومی ٹیم کے علاوہ ساو تھمپٹن، کورنتھیان اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیے فٹبال بھی کھیلا۔
ڈینس کومپٹن: 78ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ڈینس کومپٹن انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے 50سے زائد کی اوسط سے 5ہزار 807 رنز اسکور کیے لیکن اس سے قبل وہ فٹبال بھی کھیل چکے تھے۔ڈینس کا شمار بھی ان چند کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو کرکٹ کے ساتھ ساتھ فٹبال کے میدان بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے۔1933-34 کے سیزن میں وہ انگلش کلب آرسنل کا حصہ بنے اور کئی سال تک ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 1948 میں لیگ کا ٹائٹل اور 1950 میں ایف اے کپ جیتا۔انہوں نے انگلینڈ کے لیے بھی 16 فٹبال میچز کھیلے لیکن بدقسمتی سے ان میں سے ایک بھی انٹرنیشنل میچ نہیں تھا۔
مائیک گیٹنگ: انگلش ٹیم کے سابق کپتان مائیک گیٹنگ کے نام سے اکثر پاکستانی شائقین واقف ہیں جنہوں نے 551 فرسٹ کلاس اور اتنے ہی لسٹ اے میچز کھیلے جبکہ وہ شین وارن کی بہترین گیندکا شکار بننے والے کھلاڑی بھی ہیں۔گیٹنگ ایک اچھے فٹبالر بھی تھے اور واٹ فورڈ کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں لیکن کرکٹ میں زیادہ دلچسپی کے سبب انہوں نے فٹبال کو نہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی امپائر شکور رانا سے الجھنے کے واقعے نے بھی انہیں منفی شہرت دلائی۔
ٹپ فوسٹر: ٹپ ارسکن فوسٹر وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہیں فٹبال اور کرکٹ دونوں میں انگلینڈ کی قومی ٹیم کی قیادت کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔1903 کے سڈنی ٹیسٹ میں ان کے 287 رنز آ ج بھی کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میںکسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور ہے اور مجموعی طور پر 8میچوں میں 602 رنز بنائے۔اس سے قبل 1890 میں انہوں نے انگلینڈ کی قومی ٹیم فٹبال ٹیم کے لیے کیریئر شروع کیا اور 1902 میں کیریئر کا اختتام ویلز کے خلاف میچ میں کپتان کی حیثیت سے کیا۔
این بوتھم : اگرانگلینڈ کے عظیم آل راونڈرز کی بات کی جائے تو پہلا نام این بوتھم کا آتا ہے جنہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 7ہزار 313 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 528 وکٹیں بھی حاصل کیں۔تاہم کرکٹ سے قبل وہ فٹبال کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتیں آزما چکے تھے اور 1979 سے 1985 کے درمیان اسکن تھورپ یونائیٹڈ ٹیم کی جانب سے 11 میچوں میں نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔
گیری گومز: ویسٹ انڈین کھلاڑی گیری گومز نے 1939 سے 1954 کے درمیان ٹرینیڈاڈ کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی اور 29 ٹیسٹ میچوں میں ایک ہزار 243 رنزبنانے کے ساتھ ساتھ 58وکٹیں بھی حاصل کیں۔ وہ با صلاحیت کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے فٹبالر بھی تھے اور انہوں نے فٹبال میں بھی ٹرینیڈاڈ کے لیے بھی کھیلا اور بعدازاں اپنے ملک کی فٹبال ایسوسی ایشن کے نائب صدر بنے۔
آرنی سائیڈ بوٹم: اگر آرنی سائیڈ بوٹم انگلش فٹبال کلبز مانچسٹر یونائیٹڈ، ہڈرزفیلڈ اورہیلی فیکس کے لیے نہ کھیلتے تو شاید وہ اپنے کیریئر میں ایک سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیل پاتے۔میڈیم پیسر نے 1985 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے کیریئر کا واحد ٹیسٹ میچ کھیلا اور مجموعی طور پر 228 فرسٹ کلاس کرکٹ میچز کھیلنے کے ساتھ ساتھ 1972 سے 1975 کے درمیان یارکشائر کے لیے کھیلنے کے ساتھ ساتھ وہ انگلش فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے بھی کھیلتے رہے۔انہوں نے دیگر 2ٹیموں ہڈرزفیلڈ اورہیلی فیکس کی نمائندگی بھی کی۔ ان کا بیٹا ریان سائڈ بوٹم بھی انگلش ٹیم کی نمائندگی کر چکاہے۔ 
کین ہف :دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کین ہف نے 1959 میں انگلینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی جبکہ اس کے علاوہ 28 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیلے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دو ملکوں کے لیے عالمی سطح پر فٹبال بھی کھیلے۔انہوں نے آسٹریلیا کے لیے فٹبال کھیلنے کے ساتھ ساتھ بعد میں نیوزی لینڈ کے لیے گول کیپر کے طور پر بھی خدمات بھی انجام دیں۔
 

شیئر: