سعودی جامعات میں غیر ملکی اسکالر کیوں؟

دمام ۔۔۔شقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عوض الاسمری کے اشتعال انگیز بیان نے مملکت بھر کی جامعات کے حوالے سے رائے عامہ میں ہلچل پیدا کردی۔ انہوں نے فیکلٹی آف میڈیسن کے طالب علم کے اس سوال پر کہ ہماری یونیورسٹی میں غیر ملکی اساتذہ کیوں ہیں، سعودی کیوں نہیں؟اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ اور آپ سے پہلے کے بھائی اس کے ذمہ دار ہیں۔ مکہ اخبار نے اس حوالے سے ایک جائزے کے نتائج شائع کئے جس میں بتایا گیا کہ سعودی جامعات میں مقامی اسکالرز نہ ہونے کے 4اہم اسباب ہیں۔مطلوبہ تعداد میں سعودی اسکالرز مہیا نہیں۔ جامعات اور اعلیٰ تعلیم کا ضابطہ یہ ہے کہ جب تک اسکالرنے بی اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی’’ ویری گڈ‘‘ درجے میں حاصل نہ کی ہوتب تک اسے تدریس اور تحقیق کے شعبے سے منسلک نہ کیا جائے، تیسرا سبب یہ ہے کہ بی اے ، ایم اے اور پی ایچ ڈی تینوں مرحلوں میں خصوصی مضمون کے اندر یکسانیت ضروری ہے۔ ایسا نہ ہونے پر تدریسی عملے یا تحقیقی شعبے سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ چوتھا اور آخری سبب یہ ہے کہ بعض سعودی اسکالرز بڑے شہروں میں موجود جامعات میں ہی ملازمت کرنا چاہتے ہیں ، قصبوں اوردوردراز مقامات پر قائم جامعات سے منسلک ہونا پسند نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں:- - - -مملکت کو کسٹم سے 9.5ارب ریال کی آمدنی

شیئر: