#پاکستانی _معیشت _کو_بچاﺅ

اسٹاک مارکیٹ کے کریش کرنے اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافے پر تحریک انصاف کے مخالفین ٹویٹر پر بھی حکومتی پالیسیوں پر خوب تنقید کر رہے ہیں۔ کچھ ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں:
ماریہ چوہدری نے ٹویٹ کیا: پاکستان نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا باضابطہ فیصلہ کرلیا۔آئی ایم ایف کا پاکستان سے ڈالر کی قیمت 150 تک لے جانے کا مطالبہ۔کہاں گئی وہ سیاسی بیان بازی جو کہا کرتے تھے ہم آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے۔
بینش بٹ نے کہا :انصافیوں کی سب سے مزاحیہ لاجک یہ ہے کہ پچھلی حکومت خزانہ خالی کر گئی تھی جس کا پتہ عمران خان کو حکومت میں آنے کے بعد چلا۔یہ معیشت ہے یا کوئی انٹیلی جنس راز جو اسے الیکشن سے پہلے نہیں پتہ تھا۔ معیشت کے تمام فیگرز پبلک ہوتے ہیں، ان کو چھپا کے پاتال میں نہیں رکھا ہوتا۔
ڈاکٹر منصور کلاسرا کے مطابق کسی بھی ملک میں معاشی صورتحال چند ہفتوں کی معاشی پالیسی کا نتیجہ نہیں ہوتی، اس کی ذمہ دار کم از کم پچھلے2 سال کی پالیسیاں ہوتی ہیں۔غلط معاشی پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے معیشت کے بگاڑ کو مصنوعی معاشی ترقی کے ببل کے ذریعے چند مہینے تو چھپایا جا سکتا ہے مگر چند سال نہیں۔
چوہدری افضل نے سوال کیا: اگر فرض کیا پچھلی حکومت میں دبا کے کرپشن ہو رہی تھی تو پھر کیسے منصوبے بھی لگ رہے تھے اور معیشت بھی بڑھ رہی تھی ،اب تو یہ رک گئی ہوگی تو معیشت کیوں خراب ہو رہی ہے ؟
نادیہ اطہر نے ٹویٹ کیا: یقین کریں 2013 میں پاکستانی معیشت کی آج سے کہیں زیادہ گمبھیر صورتحال تھی مگر ن لیگی حکومت نے واویلا نہیں مچایا بلکہ کام کیا کیونکہ انہیں ملک میں سرمایہ کاری لانی تھی اور ملک کو آگے بڑھانا تھا۔
فخر درانی نے لکھا: پاکستان ایک عجیب وغریب دورمیں داخل ہو چکا ہے جہاںمیڈیا ٹیم معیشت کے معاملات دیکھے گی۔کس نے سوچا ہوگا کہ ہیلی کاپٹر کا کرایہ 55روپے فی کلومیٹر جبکہ سی این جی کے نرخ100 روپے فی کلو سے اوپرہوجائیں گے۔ 
ثانیہ خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا :ویسے الیکشن سے پہلے تک توملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھی۔معیشت کافی مضبوط تھی۔پاکستان پرکوئی قرضہ نہی تھا۔لوڈ شیڈنگ بالکل زیرو تھی بلکہ شہبازشریف نے تو مودی کو بھی بجلی دینے کی آفر کی تھی۔ پانی کی کوئی کمی نہیںتھی اتنے ڈیمز تھے کہ ڈونیٹ کرنے کا سوچ رہے تھے۔
نمرہ خان نے وزیراعظم کو مشورہ دیا: خان صاحب! آئی ایم ایف کے پاس جائیے، ضرور جائیے لیکن سب سے پہلے معیشت کو اس حال تک پہنچانے والوں کا کڑا احتساب کریں اور ذمہ داروں کو کھمبوں پر لٹکائیں اور اس کے بعد شوق سے آئی ایم ایف جائیے۔مسئلہ یہ نہیں کہ ہم قرضہ لے رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آخر پاکستان کو اس حال تک پہنچایا کس نے ہے؟
٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں