”عودة سدیر“ میں تاریخی قصر دریافت

ریاض ... ماہرین آثار قدیمہ نے المجمعہ کمشنری میں غیلان کے مقام پر ابتدائی اسلامی دور کے آثار دریافت کرلئے۔ یہاں ملنے والے مٹی کے برتنوں سے المجمعہ میں گھنی آبادی کا پتہ چلتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ و سیاحت اور الشرق العربی کالجوں کے ماہرین تاریخی کھدائیاں کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ وادی سدیر پر سایہ فگن منفرد محل وقوع پر ”قصر غیلان“ 18ہزار مربع میٹر پر بنایا گیا تھا۔ یہ سطح سمندر سے 684 میٹر کی بلندی پر ہے۔ قصر غیلان کے ماتحت متعدد عمارتیں عقب میں بنائی گئی تھیں۔ مختلف شکل کے پتھر استعمال کئے گئے تھے۔ یہاں ہونے والی کھدائیوں سے ”لاقارة الزبیر“، ”مسافر خانہ“، ”القرنائ“ اور ”جماز“ بھی دریافت ہوئے ہیں۔ بیشتر مقامات کی تعمیر میں پتھر اور مٹی استعمال کی گئی۔ قصر غیلان کی فصیلوں اور بنیادو ں کے ملبے سے یہی تاثر ملتا ہے ۔ غیلان کا شمار المجمعہ کمشنری کے ماتحت ”عودة السدیر“ کے اہم تاریخی مقامات میں ہوتا ہے۔ قصر ”عودة سدیر“ تحصیل سے 600میٹر جنوب میں واقع ہے۔
 

شیئر: