” ایسا شکستہ حال غزل خواں نہ آئے گا “

 
 ڈاکٹر وسیم احمد نے ڈاکٹر کلیم عاجز کی کہانی، خوبصورت انداز میں بیان کی ہے 
 زینت ملک۔جدہ
شہنشاہ تغزل میر محمد تقی میر نے اپنے کلام میں اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کی عکاسی کی ہے جب اورنگ زیب عالمگیر 
کے بعد مغلیہ سلطنت کمزور ہوتی چلی گئی۔ دیکھئے یہ چند اشعار اس زمانے کی سیاست کو کیسے پیش کرتے ہیں:
 جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا 
 کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت 
اسباب لٹا راہ میں یہاں ہر سفری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام 
آفاق کی اس کار گہِ شیشہ گری کا 
اور میر ثانی کہلائے جانے والے ڈاکٹر کلیم عاجز کو بھی ویسے ہی سیاسی اور سماجی حالات کا سامنا کرنا پڑا اور یہی سبب بنا کہ لہو کے وہ قطرے جو آنسو بن کر کلیم عاجز کی آنکھوں سے بہہ نہ سکے ،غزل کے اشعار بن کر صفحہ قرطاس پر بکھر گئے:
جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے
بنے ہیں وہ اشعار میری غزل کے 
بہت ٹھوکریں لگ رہی ہیں گلوں کو
سنبھل کے اے باد بہاری سنبھل کے
٭٭٭
مجھ کو بننا پڑا شاعر کہ میں اپنا غم دل
ضبط بھی کر نہ سکا، پھوٹ کہ رویا بھی نہیں
٭٭٭ 
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاں
آئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے 
چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کے غزل کے بول
میں ڈھونڈتا رہا مرے نالے کہاں گئے 
” ایسا شکستہ حال غزل خواں نہ آئے گا “، کلیم عاجز کی کہانی شعروں کی زبانی، کے مصنف ڈاکٹر وسیم احمد ہیں جنہوں نے اپنی تصنیف کے انتساب میں لکھا ہے کہ ان دو مقدس روحوں کے نام ”اماں اور ابا“ جن کی دعاﺅں کی بدولت میں اس مقام پر ہوں ۔
اسے بھی پڑھئے:ایوب صابرکے ا عزاز میں شام،”آل پنجاب مشاعرہ“ بن گئی
جامعتہ الملک عبدالعزیز، مکہ مکرمہ کے مولانا عبداللہ عباس ندوی نے کلیم عاجز کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ کی شاعری پر ایک دنیا 
 فریفتہ ہے” ہر کہ از دل خیزد، بردل ریزد“۔
لوگ کہتے ہیں آپ نے میر کی زبان اور میر کا انداز اپنایا ہے۔ اس پر ایک اضافہ میری طرف سے یہ ہے کہ بخشنے والے مالک حقیقی نے آپ کو اس درد کا حصہ وافر عطا فرمایا ہے جو میر کے کلام کا مرکزی عنصر ہے بلکہ یوںکہئے کہ میر کی شاعری میں درد کا عنصر ہے اور آپ کے درد میں شاعری کا عنصر ہے ۔آپ جیسے اہل دل اور اہل درد مل جاتے ہیں تو ان اصطلاحات کو مجسم محسوس کرنے لگتا ہوں۔
ڈاکٹر وسیم احمد لکھتے ہیں کہ کلیم عاجز کے جانے کے بعد میں عجیب ذہنی پریشانی مین مبتلا ہو گیا اور گھبرا کر امریکہ چلا گیا اور وہاں تقریباً پانچ ماہ رہا ۔وہیں میں نے قلم اٹھایا ۔ ان کی کتابوں کو جمع کیا اور لکھنا شروع کیا۔ قیام امریکہ کے دوران ہی کتاب کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو گیا۔
کلیم عاجز کا حافظہ بے پناہ تھا۔انہوں نے زندگی میں کبھی بھی کسی مشاعرے میں کوئی نظم، کوئی غزل، کتاب دیکھ کر یا پرزے پر لکھ کرنہیں پڑھی ۔ کلیم عاجز تو چاک گریباں والے مشہور تھے :
سن کے فرمانے لگے کیا یہ انہیں کی ہے غزل
وہ جو پٹنہ میں ہیں اک چاک گریباں والے 
ایک اچھے اور پائیدار فن کی خصوصیات کے ساتھ ایک اہم اور بنیادی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فنکار کا تعارف ہوتا ہے۔ کلیم عاجز کی تمام شاعری ہی انکا بھرپور تعارف ہے۔ ان کی غزلوں میں ان کی زندگی مجسم ہے:
اس طرح مرے ساتھ چلی ہے مری غزل 
ہر شعر زندگی کا سفر نامہ ہو گیا 
فنکار کی پوری حیات اور اس حیات کے سارے اجزااس کا عقیدہ، اس کا نظریہ ،اسکی پسند، اس کی نا پسند ،اس کی خواہشات، اس کے معمولات، کچھ شعوری ،کچھ غیر شعوری طور پر اس کے فن میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ فن وہی پائیدار ،اچھا اور مکمل ہوتا ہے جو اس دور کی عقل، بصیرت اور فہم کے ذریعے فنکار کا مکمل تعارف کرائے۔ ہر فنکار یہ چاہتا ہے کہ اس کی تخلیق کے ذریعے اسے پہچانا جائے۔ 
میر کی طرح کلیم عاجز کی شاعری بھی سہل ممتنع کا بہترین نمونہ ہے۔ میر بہت بڑے فنکار ہیں اس لئے کلام سہل اور آسان ہونے کے باوجود میر کی شحصیت تک رسائی سب کی نہیں ہوسکتی۔ میر، شوق کلام میں آئے بڑے بڑے لوگوں کو لوٹا دیا کرتے تھے کہ آپ ہمارا کلام نہیں سمجھ سکتے۔ کلیم عاجز بھی اپنے آخری دور میں یہ کہنے لگے تھے کہ ”آپ ہم کو نہیں سمجھ سکتے“ اس لئے انہوں نے عام مشاعروں میں شرکت تقریباً ترک کر دی تھی۔
کلیم عاجز نے اپنی کوئی شاعری ہو یا نثر، کبھی سنبھال کر نہیں رکھی لیکن قدرت نے کسی وسیلے سے محفوظ کروادی۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:
ہر دور میں ہماری غزل گائی جائے گی
جیسی بھی دھوپ آئے یہ سایہ نہ جائے گا
٭٭٭
اپنی سرشاری نہیں صہبا کی ممنون کرم 
کس نے میرے ہاتھ میں دیکھا ہے پیمانہ کہے 
٭٭٭
 ہم بھی چلو میں لہو دل کا لئے بیٹھے ہیں
مری مے ہے یہی،ساغر یہی، مینا ہے یہی
٭٭٭
 کہتا ہوں غزل اور پڑا رہتا ہوں سرشار 
میرا یہی مینا ہے، یہی جام ہے پیارے
٭٭٭
کس مشکل سے چل کر عاجز اس منزل تک پہنچے ہیں
عقل کا دامن چھوٹ گیا تو درد کا دامن تھا م چلے 
کلیم عاجز ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کا نا م ہے: 
دامن پہ کوئی چھینٹ ،نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو 
کلیم عاجز نے یہ شعر اپنے وقت کے حکمران کے لئے کہے تھے لیکن آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے رفقا ان سے ہی یہ کہہ رہے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلیم عاجز ایک عہد کا نام ہے ۔یقیناآئندہ بھی چراغ سے چراغ جلتا رہے گا۔

شیئر: