مرافقین کا خروج وعودہ کی مدت میں توسیع ، طریقہ کیا ہے؟

ارسلان ہاشمی
 
 پاکستان سے حسین کاشف نے پوچھا ہے :
  •  اگر کسی فیملی کا طالب علم خروج و عودہ ( ایگزٹ ری انٹری ) پر پاکستان گیا ہواور وہاں رہتے ہوئے خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کرانا چاہتا ہو تو کیا طریقہ کارہے ؟ 
  • جواب: یہاں اس امر کا خیال رکھنا اہم ہے کہ جوازات کا ادارہ مملکت میں موجود غیر ملکیوں اور انکے اہل خانہ کے اقامتی امور کے سلسلے میں درکار سرکاری دستاویزات کی تجدید اور ایگزٹ ری انٹری ویزے کے اجراءیا تنسیخ کا ذمہ دار ہے بیرون مملکت ایسے تمام امور جو مملکت سے باہر ہوں وہ جوازات کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اس کےلئے فارن آفس ( وزارت خارجہ ) کا مخصوص شعبہ ہے جو ان امور کا ذمہ دار ہے ۔ وزارت خارجہ درخواست پر غور کرنے کے بعد ایکسٹینشن کی منظوری جاری کرتا ہے ۔ 
مذکورہ کیس میں جیسا کہ پوچھا گیا ہے کہ طالب علم کے خروج وعودہ میں توسیع کس طرح ممکن ہے ۔ اس کےلئے سب سے پہلے ایگزیٹ کی تاریخ دیکھنا ہو گی جو ائیر پورٹ پر اسٹیمپ کی جاتی ہے ۔ ایگزٹ ڈیٹ کے حساب سے خروج و عودہ کی آخری تاریخ دیکھی جائے گی ۔
 عام طور پر مملکت میں رہنے والے طلباءجو پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں انہیں تعلیمی رخصت کی بنیاد پر ایک برس کا خروج و عودہ ویزہ جاری کرایا جاسکتاہے تاہم یہ مشروط ہے اقامہ کی ایکسپائری ڈیٹ سے ۔ عام افراد یہ تصور کرتے ہیں کہ خروج و عودہ میں ایکسٹینشن " ابشر " سروس کے ذریعے کروائی جاسکتی ہے جو قطعی طور پر غلط ہے ۔ ابشر پر اس قسم کی کوئی سہولت موجود ہی نہیں ہے ۔ وزار ت خارجہ کی جانب سے خروج و عودہ میں توسیع کا جو طریقہ مقرر کیاگیا ہے اس کے تحت خروج عودہ پر جانے والی فیملی کا کوئی بھی فرد جو " تابع " یا " مرافق " dependent ) (کیٹگری میں ہے کو مملکت سے گئے ہوئے 13 ماہ سے کم ہوئے ہوں اور اقامہ کارآمد ہو تو وہ اپنے ہی ملک میں موجود سعودی سفارت خانے سے رجوع کر کے خروج و عودہ کی مدت میں اضافہ کر وا سکتا ہے ۔ دوسری صورت میں اگر ایگزٹ ری انٹری ویزے کی مدت کو 13 ماہ گزر چکے ہو ں تو اسکے لئے وزارت خارجہ ( فارن آفس ) کی پالیسی مختلف ہے جس پر عمل کرنا ہو گا ۔ مملکت میں مقیم طالب علم یا مرافق کے سرپرست کو چاہئے کہ وہ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ www.mofa.gov.sa پر لا گ ان کر کے وہاں visa سیکشن میں جاکر مخصوص فارم بھرنے کے بعد اپنے دفتر بعدازاں چیمبر آف کامرس ( غرفہ تجاریہ ) سے اسکی تصدیق کروا کر فارن آفس میں جمع کروائے جہاں سے معاملے پر غور کرنے کے بعد معاملے کی منظوری جاری کی جائے گی ۔ ا س عمل میں کم از کم 3 دن کا عرصہ لگ سکتا ہے ۔ وزارت خارجہ کی جانب سے منظوری وزارت داخلہ کو جائے گی جہاں سے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع ممکن ہوسکے گی ۔
 
 

شیئر: