عیدی امین مغرب میں نہیں ہوتا

***وسعت اللہ خان ***
جب برطانیہ سے ا?زادی کے بعد یوگنڈا کے پہلے صدر ملٹن اوبوتے کا جھکاو? سوویت یونین کی جانب ہونے لگا تو مغربی طاقتوں کی بلا واسطہ رضامندی کے ساتھ یوگنڈا کی مسلح افواج کے سربراہ عیدی امین نے جنوری 1971 میں اس وقت اوبوتے کا تختہ الٹ دیا۔اگست 1972 میں صدر امین نے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا۔90 دن میں ملک نہ چھوڑنے والوں کو املاک کی ضبطی کا مڑدہ سنایا گیاچنانچہ برطانوی نوا?بادیاتی دور کے پاسپورٹ یافتہ ایشیائیوںنے جنوبی افریقہ ، کینیا ، بھارت ، پاکستان ، ا?سٹریلیا ، امریکہ اور کینیڈا کی راہ لی۔ان میں سے30 ہزار برطانیہ جا کر بس گئے۔غیرملکیوں کی بے دخلی کی پالیسی کی وضاحت اور دفاع کرتے ہوئے عیدی امین نے کہا ’’ ہمارا مقصد یوگنڈا کے عام باشندوں کو اپنی قسمت کا مالک بنانا ہے تاکہ وہ ملکی دولت میں پورے حصے دار ہو سکیں،یوگنڈا کی معیشت یوگنڈا کے باشندوں کے کنٹرول میں ہونی چاہئے،ہمارے لئے پہلے یوگنڈا ہے بعد میں کچھ اور‘‘
امریکی سفیر تھامس پیٹرک میلاڈی نے امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی کہ امین حکومت سے تعلقات پر نظرِ ثانی کی جائیکیونکہ یہ حکومت نسل پرست ، ظالمانہ ، نا اہل ، غیر عاقلانہ ، اشتعال انگیز ، ناقابلِ اعتبار عسکری سوچ پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اسرائیل سمیت بیشتر ’’ مہذب ’’ دوستوں نے امین حکومت کا عالمی بائیکاٹ کردیا۔برطانیہ سمیت یورپ کے کئی ممالک اور امریکہ میں عیدی امین کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ ان کی پالیسیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر برائے انسانی حقوق سے براہِ راست متصادم تھیں۔ عیدی امین کو مغربی ذرائع ابلاغ میں قصائی ، درندہ ، مخالفین کے خون کا پیاسا ، پاگل ، ابلیس ، کالا جادوگر ، مسخرہ ، بن مانس اور جانے کیا کیا قرار دیا گیا۔انیس1978 میں عیدی امین کو تنزانیہ میں جلا وطن معزول صدر ملٹن اوبوتے کے دستوں نے مغربی تائید سے معزول کردیا۔ امین نے پہلے لیبیا اور پھر جدہ میں پناہ لی اور2003 میں وہیں انتقال ہو گیا۔
یوگنڈا میں تو یوگنڈائی ہزاروں برس سے رہ رہے ہیںمگر تارکینِ وطن نے امریکہ نامی ایک پورا براعظم بسایا۔اس براعظم میں داخل ہونے والا پہلا غیرقانونی تارکِ وطن کولمبس نامی ایک شخص تھامگر کولمبس کی ا?مد کے بعد کے اگلے ساڑھے 4 سو برس کے دوران امریکہ ’’ غیر قانونی تارکِ وطن‘‘ کی اصطلاح سے ناواقف رہاجبکہ95 فیصد ریڈ انڈین اس اصطلاح کا پورا مطلب سمجھنے سے پہلے ہی ختم ہو گئے اور جو ا?ج تبرکاً موجود بھی ہیں، وہ اپنے ہی وطن میں تارک الدنیا ہیں۔
سفید امریکہ کی ڈکشنری میں ’’ غیر قانونی‘‘ تارک ِ وطن کی اصطلاح پہلی بار 1924 میں متعارف ہوئی جب امیگریشن ایکٹ نافذ ہوا اور یورپ سے ا?نے والے مہاجروں کا سالانہ داخلہ کوٹہ مقرر ہوامگر غیر یورپی مہاجرین کے لئے کوئی کوٹہ مقرر نہیں کیا گیا تاکہ ان کی قانونی ا?مد کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔امریکی ریاست ٹیکساس ، نیو میکسیکو ، ایریزونا اور کیلی فورنیا ڈیڑھ سو برس پہلے تک میکسیکو کا حصہ تھیں۔ انہیں فوج کشی کر کے امریکہ میں شامل کیا گیا اور اس فعل کو قانونی تصور کیا گیا۔
1920 کے عشرے تک میکسیکو کے باشندے ا?زادانہ ان سابق میکسیکن ریاستوں میں صنعتی و زرعی مزدوری کے لئے ا?یا جایا کرتے تھے۔بالکل ایسے ہی جیسے نیپالی بغیر ویزے کے بھارتی ریاستوں میں ا? جا سکتے ہیں یا کچھ عرصے پہلے تک یمنی سعودی عرب میں مزدوری کر سکتے تھیمگر 1924 میں امیگریشن ایکٹ کے نفاذ کے بعد حالات بدل گئے۔1929 میں جب امریکہ عظیم کساد بازاری کی لپیٹ میں ا?یا تو اس کا نزلہ پہلی بار تارکینِ وطن پر گرا جو اب تک سرحد پار سے امریکہ میں ا?نے جانے کے لئے قانونی دستاویزات سے ناواقف تھے۔
صدر ہربرٹ ہوور نے1929 تا1933 میں عظیم کساد بازاری سے تباہ حال امریکیوں کا دل جیتنے کے لئے ایک لاکھ21 ہزار میکسیکن باشندوں کو سرحد پار دھکیل دیا۔دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد صدر ٹرومین نے34 لاکھ تارکینِ وطن  ( میکسیکنز ) کو واپس بھیج دیا کیونکہ جنگ کے بعد خود امریکی باشندوں کے لئے بھی روزگار پیدا کرنا تھا۔ٹرومین کے بعد ا?نے والے صدر ا?ئزن ہاور نے بھی اپنے دور میں 13 لاکھ تارکینِ وطن کو غیر قانونی قرار دے کرنکال دیا۔ان کے بعد ا?نے والی حکومتوں نے ملی جلی پالیسی اختیار کی۔کبھی سختی تو کبھی نرمی۔ ا?خری بار بل کلنٹن کے دور میں 10 برس سے زائد عرصے سے قیام پذیر غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکی شہریت ملی۔اس سے تقریباً ایک ملین لوگوں کو فائدہ ہوا۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کو جزا و سزا کے پل صراط پر لٹکائے رکھنے کے کئی فائدے ہیں۔ان سے قانونی باشندے زرعی و صنعتی بیگار لے سکتے ہیں۔انکی روک تھام کے قوانین بنانے والے ارکانِ کانگریس ، سرکاری اہلکار ، سرمایہ دار اور سیاستداں وغیرہ چوری چھپے گھریلو ملازم  رکھ سکتے ہیں اور جب ووٹ بٹورنے ہوں تو انہیں جمہوریت کی قربان گاہ پر موقع پرستی کی چھری تلے لٹانا بھی ا?سان ہے۔
52 فیصد غیر قانونی تارکینِ وطن میکسیکن ہیں۔ناجائز تارکینِ وطن کی کل تعداد کا60 فیصد 6 امریکی ریاستوں ( کیلی فورنیا ، ٹیکساس ، فلوریڈا ، نیویارک ، نیو جرسی اور الی نائے ) میں پایا جاتا ہے۔لگتا ہے کہ ان6 ریاستوں کے امیگریشن اور پولیس حکام کی نگاہ خاصی کمزور ہے۔
اس بار غیرقانونی تارکینِ وطن کو بطور سواری استعمال کرنے کی ضرورت ڈونلڈ ٹرمپ کو پڑ گئی۔وہ ایسے امریکی صدر کے طور پر یاد رکھے جانے کے خواہش مند ہیں جس نے سب سے زیادہ غیر ملکی تارکینِ وطن ( کم ازکم30 لاکھ ) نکالنے کا فیصلہ کیا مگر اس بارے میں تمام  صدور کو ایک سہولت ہمیشہ حاصل رہے گی۔کوئی بھی انہیں امریکی عیدی امین کا لقب نہیں دے گاکیونکہ عیدی امین مغرب میں نہیں پائے جاتے۔
 

شیئر: