ابو ظبی ون ڈے: سرفراز کی 2 غلطیاں شکست کا سبب بن گئیں

7 گیندوں پر 4 وکٹیں ملنے کے بعد بولنگ میں تبدیلی اور نیوزی لینڈ کا 266رنز تک پہنچنا کپتان کی پہلی غلطی ، کولن ڈی گرینڈہوم کی کمزور گیند پر وکٹ گنوانا ان کی دوسری فاش غلطی تھی 
ابو ظبی: نیو زی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کے دوران کپتان سرفراز احمد اور بیٹسمین سرفراز احمد کی 2فاش غلطیاں ٹیم کی شکست کا سبب بن گئیں ورنہ پاکستانی ٹیم ناکامیوں کے گرداب سے نکل کر وہ اعتماد حاصل کرتی جو پورے سیزن میں اس کے کام آتا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اننگز کے آغاز میں انہوں نے دونوں کیوی اوپنرز کو قابو کیا جوان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد روس ٹیلر اور ٹام لیتھم کی عمدہ بیٹنگ اپنی جگہ لیکن شاداب خان کی ایک اوور میں 3 وکٹوں اور عماد وسیم کی وکٹ سمیت 7گیندوں پر4 وکٹوں کے بعد کیویز کا 266 رنز بنانا سرفراز کی پہلی غلطی تھی۔جب ٹام لیتھم او ر روس ٹیلر آخری پاور پلے میں داخل ہوئے تو امکان تھا کہ نیوزی لینڈ 280 کے لگ بھگ ٹوٹل کر جائے گا مگر جب پاکستانی اسپنرز شاداب اور عماد وسیم نے 7 گیندوں پہ 4 وکٹیں لے کر کیویز کے لوئر آرڈر کو تباہی سے دوچار کیا تو 250 رنز بننا بھی مشکل دکھائی دیتا تھا۔ اس مرحلے پر سرفراز کا اسپنرز کی جگہ فاسٹ بولرز کو لے آنا ناقابل فہم ہے۔ میچ کے بعد سرفراز نے کہا کہ انہوں نے جلد وکٹیں لینے کیلئے یہ فیصلہ کیا۔مگر غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں ا سپنرز نے 7 گیندوں پہ4مستند بلے بازوں کی وکٹیں لے لی تھیں، وہاں ٹیل اینڈرز کے لئے فاسٹ بولرزکو واپس لانا کون سی مجبوری تھی؟ جب مستند بلے بازبھی ا سپن کو سمجھ نہیں پا رہے تھے تب ساوتھی اور سوڈھی کیسے ا سپن کو کھیل پاتے؟اور ایسا بھی نہیں تھا کہ اسپنرز کے کوٹے میں اوورز ختم ہو گئے ہوں۔ اسپن کے 6 اوورز باقی تھے اور اس کے باوجود آخری پانچ اوورز فاسٹ بولرزسے کروا دئیے گئے۔ حالانکہ جو صورتحال تھی اس میںبعید نہیں تھا کہ ا سپنرز پچاس اوورز سے پہلے ہی کیوی اننگز کی بساط لپیٹ دیتے۔ تجزیہ نگاروں کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح جب سرفراز بیٹنگ کے لئے کریز پر آئے تو ان کی ٹیم شدید مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔ کیوی فاسٹ بولرزبہترین لائن اور لینتھ پہ گیندیں پھینک رہے تھے اور کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا کہ پاکستانی بیٹنگ لائن اس گرداب سے نکل پائے گی۔عموما ایسے مواقع پہ بیٹسمین جذبات میں آ کر گڑبڑا جاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ رہی سہی امید بھی ختم ہوجاتی ہے۔ خلاف توقع سرفراز نے پریشان ہونے کی بجائے کریز پہ جمنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاٹ بالز کی تعداد بڑھتی گئی مگر سرفراز نے جلد بازی نہیں کی، عماد وسیم کے ساتھ اچھی شراکت بننے لگی، گو کہ مطلوبہ رن ریٹ بڑھ رہا تھا مگر ساتھ ہی رنز بننا شروع ہو چکے تھے۔ امید پھر روشن ہونے لگی تھی کہ پاکستان کی ون ڈے فارم پلٹنے کو ہے۔اسی دوران اش سوڈھی کا اوور آیا اور عماد وسیم نے کریز سے نکل کر ایک جرات مندانہ شاٹ لگایا۔ قسمت کی خوبی کہ چھکے کے ساتھ ہی فری ہٹ بھی مل گئی۔ فری ہٹ پہ عماد نے ایک اور چھکا لگا دیا۔ جہاں مطلوبہ رن ریٹ کا دباو¿ سر پہ سوار ہونے کو تھا، وہیں2 گیندوں پہ 13 رنز مل گئے۔ ولیمسن کے چہرے پہ پہلی بار پریشانی کی جھلک دکھائی دی۔ یکبارگی پاکستان میچ میں واپس آتا نظر آیا۔ نان ا سٹرائیکر اینڈ پہ سرفراز مسکراتے ہوئے عماد وسیم کو داد دے رہے تھے۔اگر پاکستان یہ میچ جیت جاتا تو یقیناًسارا کریڈٹ سرفراز کو ہی جاتا کہ اننگز کے شروع میں ٹرینٹ بولٹ کی ہیٹ ٹرک اور مڈل آرڈر کی ناکامی کے بعد بھی اگر پاکستان اٹھ کھڑا ہوتا تو ایشیا کپ کی ناکامیوں کے سارے داغ دھل جاتے اور پاکستان کی ون ڈے ٹیم میں نیا عزم جاگ اٹھتا۔لیکن نجانے کیوں ایسے مواقع پر قسمت ساتھ چھوڑجاتی ہے۔کولن ڈی گرینڈہوم کی اس کمزور گیند میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی کہ وہ سرفراز کی بڑی وکٹ کی مستحق ٹھہرتی۔ یہ سادہ سی فل لینتھ ڈلیوری تھی جسے بآسانی ڈرائیو کیا جا سکتا تھا اور جس رفتار سے یہ گیند بلے تک پہنچی، ایسا شاٹ لگا یا جاسکتا تھا جس پر چار رنز مل جاتے لیکن سرفراز ذرا سا چوک گئے اور بطور بیٹسمین یہ وہ غلطی ثابت ہوئی جس نے میچ بھی چھین لیا ۔۔گرینڈہوم کی وہ گیندجسے سرفراز سویپ کرنا چاہ رہے تھے، وہ ان کے بلے سے دور ہی رہی اور گلوز کو چھو کر ا سٹمپس سے ٹکرا گئی۔ یہ سرفراز کی بدقسمتی تھی کہ ایسی بھرپور اننگز کھیل کر بھی وہ اپنی ٹیم کو جیت تک نہ پہنچا سکے ۔کپتان سرفراز اور بیٹسمین سرفراز کی یہی غلطیاں ہی ان کی ٹیم کے لئے ناکامی کا سبب بھی بنیں اور دباﺅ میں مزید اضافہ بھی ہوگیا۔
 کھیلوں کی مزید خبریں اور تجزئیے پڑھنے کیلئے اردونیوز"واٹس ایپ اسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: