ٹیسٹ اسکواڈ: فخر زمان کو باہر رکھناذاتی رائے کہلائے گی

16 رکنی ٹیم متوازن،امام الحق کا اعتماد بحال ہوا یا نہیں،کارکردگی دیکھنا ہو گی
صلاح الدین حیدر ۔کراچی
پاکستان اور نیوزی لینڈکے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز ابوظبی میں کھیلی جائے گی۔ویسے تو 16 رکنی ٹیم بہت متوازن ہے لیکن فخر زمان کو ایسے وقت آﺅٹ کرنا جبکہ وہ ون ڈے میچوں میں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کر چکا تھا ذاتی رائے ہی کہلائے گی۔کھلاڑیوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو اظہر علی اور حفیظ اوپننگ پارٹنر نظر آتے ہیں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف فخر زمان نے نصف سنچری بنائی بلکہ ایک میچ میں تو 8 رنز سے سنچری بناتے بناتے رہ گئے۔امام الحق بھی اچھے اوپنر ہیں، دیکھ بھال اور سنبھل کر کھیلتے ہیں ان کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے لیکن پہلے ون ڈے میچ میں انہیں سینے پر بال لگنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ کیا وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے ہیں؟ کیا ان کا اعتماد بحال ہوگیا ہے؟ یہ ہیں وہ سوال جن کا جواب ان کی پرفارمنس پر ہی مل سکے گا۔ ان کی پرفارمنس کچھ دنوں کے لیے ضرور خراب رہی تھی لیکن آخری دو میچوں میں تو بلا خوف و خطر کھیلے اور بولٹ جیسے بولر تک کی پٹائی کردی۔ بولٹ نے پہلے ون ڈے میں ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن دوسرے میچ میں فخر اور بابر اعظم نے اسے کہیں کا نہیں رکھا اور وہ سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے اور وکٹ بھی نہیں لے سکے۔پاکستان میں اظہر علی، اسد شفیق، محمد حفیظ، بابر اعظم، حارث سہیل، سرفراز احمد اور فہیم اشرف جیسے آل راﺅنڈر کی موجودگی میں ایک اچھی اننگ دیکھنے میں آسکتی ہے۔ پاکستان نے سرفراز کی غلطی سے پہلا ٹیسٹ ڈرا کروا دیاتھا لیکن دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹی 20 میں وائٹ واش اور پھر ون ڈے میں 1-1 سے سیریز برابرہوئی ، بارش کی وجہ سے تیسرے ون ڈے کا ڈرا ہونا نیوزی لینڈ کی خوش قسمتی تھی کیونکہ 280 جیسا بڑا ہدف ابوظبی کی وکٹ پر بننا محال تھا اور پاکستان باآسانی میچ جیت کر سیریز اپنے نام کر لیتا۔فاسٹ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، فہیم اشرف اور محمد عباس اچھے اچھے بلے بازوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔ اسپنر ڈیپارٹمنٹ میں یاسر شاہ، حفیظ، بلال آصف اچھا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
کھیلوں کی مزید خبریں اور تجزئیے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ میں "اردونیوز اسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: