سانحہ حویلیاں،طیارہ گرنے کی وجوہ سامنے آگئیں

اسلام آباد... حویلیاں کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گرنے کی وجوہ سامنے آگئیں۔ اس میں معروف نعت خواں جنید جمشید بھی سوار تھے ۔ سیفٹی انو یسٹی گیشن بورڈ نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی جانب سے طیاروںکی دیکھ بھال کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے کے انجن نمبر ون کا پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کی وجہ سے انجن بند ہوا اور طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔طیارے کی آخری جانچ اور مرمت حادثے سے 25 دن پہلے ہوئی تھی۔ اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار چار گھنٹے چل چکے تھے۔بلیڈز فوری تبدیل ہونا لازمی تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیاسی اے اے کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈٍپارٹمنٹ نے طیارے کو درست طریقے سے چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دی۔حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں کو حادثے کا ذ مہ دار قرار دے دیا۔واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد پرواز کرنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا ۔
 

شیئر: