سی پیک کی رفتار پہلے سے کم ہوگئی؟

کراچی ( صلاح الدین حیدر) یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ 1962ءسے اب تک 56 سال ہوگئے۔ نصف صدی سے بھی اوپر۔ کبھی چین یا اس کے کسی بھی اہلکار نے پاکستان پر تنقید نہیں کی، اس لئے چینی سفیر یاو جنگ کا تازہ ترین بیان جو انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس میں دیا حیران کن ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چین نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی۔ فی الحال تو اسے ایک اشارہ ہی کہا جاسکتا ہے یا کسی فرد کا اپنا نکتہ نظر لیکن چین کا سفیر جب میزبان ملک میں ہماری پالیسیوں پر تنقید کرے تو سب کو سوچنا پڑے گا کیا ہم واقعی غلطی پر ہیں۔ یاو جنگ نے کہا کہ پاکستان کی تجارتی پالیسیوں میں مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ ٹیکسوں کی شرح بہت زیادہ ہے، اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہ ہیں جو اب تک چینی سرمایہ کار پاکستان میں پیسہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ایک اہم چینی اہلکار کی زبان سے ایسے الفاظ تعجب خیز ضرور ہیں لیکن پاکستانی کاروباری طبقہ بھی برسوں سے شکایت کرتا رہا کہ اسلام آباد کی بنائی گئی پالیسیوں میں استحکام نظر نہیں آتا۔ آج کچھ فیصلہ ہوتا ہے، کل کچھ اور ایک حکومت بدلتی ہے تو اس کی جگہ آنے والی حکومت بالکل ہی مختلف رویہ اختیار کر لیتی ہے جس سے تاجر برادری ہر وقت پریشان رہتی ہے۔ صرف چند چینی سرکاروں کی اب تک پاکستان میں سرمایہ کاری کی بڑی وجہ یہی ہے۔ غیر ضروری پالیسیوں میں تبدیلیاں، ٹیکسوں کی غیر پسندیدہ شرح، ٹیکسوں کی شرح کا غیر متحرک ہونا یہ ساری چیزیں غلط تاثر پیدا کرتی ہیں اور ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سفیر نے یہ بیان اس وقت دیا جب پاکستانی کاروباری حضرات نے سوال کیا کہ چینی صنعتیں پاکستان کی بجائے، کمبوڈیا، ہند اور دوسرے ممالک میں زیادہ تعداد میں لگ رہی ہیں۔ یاو جنگ نے چین پاکستان راہداری کے بارے میں بتایا کہ جہاں تک گوادر کی بندرگاہ کا معاملہ ہے سرمایہ کاری کی بہتر فضا پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔توانائی اور خصوصی اکنامک زونز بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر تھا کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سی پیک کی ترقی کی رفتار پہلے سے کم ہوگئی ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ عمران خان کے لئے یقینا باعث درد سر ہوگا۔ چین نے اس میں 67 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اہتمام کیا تھا۔ اب صورت حال کیا ہے، صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن عمران خان کے لئے یہ بیان کہ نواز شریف کی حکومت نے صرف گوادر بندرگاہ اور سہو لتوںپر توجہ دی لیکن معاشی زون جہاں چینی صنعت کار نئے کارخانے لگا سکیں اس میں انہوں نے اتنی دلچسپی نہیں دکھائی جتنی دکھانا چاہیے تھی۔ سفیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ چین پاکستان راہداری منصوبے کے تحت اگر وقت پر اکنامک زون بنا لئے جاتے ہیں تو اب تک ان کے مثبت نتائج سامنے اور کئی کارخانے وجود آجاتے جس سے پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی۔ خصوصی تجارتی علاقوں میں چینی سرمایہ کاری کا ایک اور 4.1 کی شرح پر لگایا جانا تھا۔ چینی صنعت کاروں کا 20 یا 30 فیصد ہوتا اور پاکستانی کاروبار طبقے کا حصہ 70 سے 80 فیصد تک ہوتا۔ انہوں نے اپنی بات اس جملے پر ختم کی کہ راہداری میں دوسرے ممالک کو خوش آمدید کہا جائے گا اور یہ منصوبہ پاکستانی معیشت کیلئے عمدہ ترین ہوگالیکن حکومت وقت کو صحیح پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔
 

شیئر: