پارلیمنٹ کب تک عضو معطل رہے گی؟

کراچی ( صلاح الدین حیدر) پاکستانی پارلیمان کو وجود میں آئے ہوئے 4 ماہ سے زیادہ ہوگئے لیکن ابھی تک یہ محض عضومعطل ہی ہے۔ وجہ اس کی حزب اختلاف کی ہٹ دھرمی ہے جو نت نئی نکات پر آتی رہتی ہے۔ پہلے 3 مہینے تو صرف اس بات پر ضائع کردیئے گئے کہ صرف اپوزیشن لیڈر ہی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا اصرار تھا کہ روایت یہی ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ بےنظیر کے دوسرے دور حکومت میں ان کے شوہر نامدار آصف زرداری اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ اس وقت کسی نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ حزب اختلاف سے چیئرمین ہونا کوئی قانونی ضرورت بھی نہیں۔ طویل بحث مباحثے کے بعد عمران خان اس بات پر راضی ہوئے کہ جو اپوزیشن کہتی ہو مان لیا جائے لیکن کرپشن اور منی لانڈرنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ شہباز شریف اے پی سی کے چیئرمین منتخب ہوگئے لیکن ہر دوسرے تیسرے ہفتے کمیٹی کا اجلاس بلاتے رہتے ہیں تاکہ نیب سے جس قدر ممکن ہو چھوٹ مل سکے۔ وزیراعظم اور ان کی پارٹی سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہے کہ خواہ مخواہ کی مصیبت کیوں مول لی جائے۔ اب تک باقی کمیٹیاں نہیں بن پائی ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمانی امور کے وزیر سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈر خورشید شاہ اورن لیگ کے نمائندوں مریم اورنگزیب اور رانا ثناءاللہ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ہر قسم کے امور زیر بحث آئے۔ اپوزیشن کی شکایت صرف اتنی ہے کہ شہباز شریف اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو نیب کی قید سے اسمبلی کے اجلاس میں بلالیا جائے۔ اسپیکر کو اس پر اعتراض نہیں بلکہ انہوں نے جب بھی ضرورت پڑی، وزیر داخلہ کو بلا کسی تاخیر کے خط لکھ دیا کہ دونوں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ اسپیکر نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ وہ خود بھی اسمبلی کو صحیح طور پر چلانا چاہتے ہیں بلکہ انہوں نے تجویز بھی دی کہ حزب اختلاف کے اشتراک سے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی جائے جو کہ اسمبلی کو صحیح طور پر چلانے کی تجویز پیش کرے۔ حکمران پارٹی پارلیمان کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتی ہے اسی لیے فوری ان باتوں سے کنارہ کشی کی جائے تو بہتر ہوگا لیکن جو لوگ مریم اورنگزیب اور رانا ثناءاللہ کی فطرت سے واقف ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ دونوں عمران کےلئے مشکلات کھڑی کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے رویہ سے یہ بات صاف ظاہر ہے۔
 

شیئر: