بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کی وجہ، باب الرحمہ

عبد الستار خان
@nazarhijazi
 اسرائیلی افواج نے مسجد اقصی کو نمازیوں سے خالی کرنے کے بعد اس کے دروازے بند کر دیے ہیں جس کے بعد فلسطینیوں نے صحن میں نماز ادا کی ہے ۔نمازیوں کی جانب سے فوجیوں پر تشدد کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے جس کے بعد فلسطین کے مختلف شہروں میں کشیدگی کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
فلسطینی اسلامی کونسل کے رکن حاتم عبدالقادر نے کہا کہ اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری اچانک مسجد اقصی میں گھس گئی اورخواتین، بچوں اورمسجدانتظامیہ کے عہدیداروں پر بھی تشدد کیا۔
اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد اقصی کے ایک گیٹ پر قائم چیک پوسٹ پر آتش گیر بوتل پھینکی گئی جس کے بعد مسجد نمازیوں سے خالی کراکے دروازے بند کیے گئے۔ 

لندن سے شائع ہونے والے اخبارالشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی کونسل کے رکن حاتم عبدالقادر نے کہا ہے کہ اسرائیلی پولیس کا یہ دعوی من گھڑت ہے۔وہ آگ کا کھیل کھیل رہا ہے۔ اس صورت حال نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

 فلسطینی اتھارٹی نے مسجد اقصی کے خلاف اسرائیل کے پرتشدد اقدامات رکوانے کے لیے عالمی برادری سے مدد طلب کی ہے۔ 

العربیہ نیوز ٹی وی کے مطابق منگل کو نماز ظہر کے بعد اسرائیلی فوجی مسجد اقصی میں داخل ہوئے اور وہاں نماز ادا کرنے والے فلسطینیوں پرتشددکیا ۔
العربیہ نیوز کے مطابق مسجد الاقصی میں شعبہ تعلقات عامہ کے سربرا ہ فراس الدبس نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کی طرف سے پیدا کی جانے والی حالیہ کشیدگی مسجد کے باب الرحمہ نامی دروازے کو بند کروانے کی سازش ہے۔

واضح رہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی عدالت نے باب الرحمہ کو بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے جسے بیت المقدس کے اوقاف کونسل نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصی اور بیت المقدس میں اسلامی آثار پر اسرائیل کا اختیار نہیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقو ں کے احاطے میں موجود تمام اسلامی آثار پر اردن کی نگرانی پوری دنیا میں مسلم ہے۔ اسرائیلی ریاست اسلامی آثار کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
باب الرحمہ کیا ہے؟
باب الرحمہ مسجد اقصی کے 15دروازوں میں سے ایک تاریخی دروازہ ہے جو مرکزی ہال سے بیرونی صحنوں کی طرف کھلتا ہے۔ اسرائیلی افواج نے اسے 2003 میں بند کردیا تھا جسے 16 برس بعد گزشتہ دنوں فلسطینی نمازیوں نے کھول کروہاں نماز ادا کرنا شروع کی ہے ۔

 تاریخی حوالوں کے مطابق باب الرحمہ کی تعمیر اموی خلافت کے دور میں ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اس دروازے کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اسے مجازی طور پر جنت کا دروازہ کہا جاتا ہے کیونکہ کئی مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ سورہ الحدید کی آیات13میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ 
مورخین نے لکھا ہے کہ بیشتر اسلامی ادوار میں باب الرحمہ کو بند رکھا گیا۔ اس کی وجہ سورہ الحدید کاحوالہ ہے جس میں بند دروازے کا ذکر ہے جس میں آیت کے مطابق دروازے کے باہر عذاب اور اندر رحمت ہے۔
مسلمان مورخین کا کہنا ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کرنے کے بعد مسجد اقصی کا باب الرحمہ بند کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

عثمانی سلطنت کے دور میں بھی باب الرحمہ سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر بند کردیا گیا۔ بیت المقدس میں ہونے والی کئی جنگوں کے دوران حملہ آور افواج نے اس دروازے کو نشانہ بنایا۔ کئی مرتبہ اسے منہدم کیا گیا اور بار بار اسے تعمیر کیا گیا۔
مسیحیوں اور یہودیوںکے نزدیک باب الرحمہ کی اہمیت
باب الرحمہ نہ صرف مسلمانوں کے ہاں مقدس ہے بلکہ مسیحیوں کے نزدیک بھی اس کی اہمیت ہے۔ مسیحیوں کا خیال ہے کہ آخر الزمان میں جب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا تو وہ باب الرحمہ سے ہیکل میں داخل ہوں گے۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ 586قبل مسیح تعمیر کردہ ہیکل کا یہی دروازہ تھا۔ 
 
 

شیئر: