Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں سائبر کرائم، چار سال میں چھ گنا اضافے کی وجوہات؟

اعداوشمار کے مطابق  ایف آئی اے کو گذشتہ سال 56 ہزار 696 شکایات موصول ہوئیں (فوٹو:انسپلیش)
آج سے چند سال قبل پاکستان میں اکثر افراد کو سائبر کرائمز کا مطلب بھی نہیں پتا تھا مگر سال 2016 میں پری ونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے نفاذ کے بعد اب تک گذشتہ چار سالوں میں سائبر کرائمز میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور اس قانون کے تحت درج شکایات ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
اردو نیوز کو حاصل ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی دستاویزات کے مطابق سال 2016 سے اب تک سائبر کرائمز کے حوالے سے ادارے کو 94 ہزار سے زائد شکایات درج کروائی جا چکی ہیں جس میں جنسی استحصال اور سوشل میڈیا  جرائم اور بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیوز کے مقدمات شامل ہیں۔

سائبر کرائم کی بڑھتی شرح

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر وقار چوہان نے اردو نیوز کو بتایا کہ سائبر کرائم کی بڑھتی شرح کی ایک وجہ عوام میں آن لائن جرائم کے حوالے سے آگاہی پیدا ہونا بھی ہے۔  
انہوں نے بتایا کہ اگلے تین سالوں میں سائبر کرائم کی شرح مزید بڑھ کر سن دوہزار بائیس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار کیسز تک پہنچ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ جہاں سہولتیں آتی ہیں وہیں جرائم پیشہ افراد اسے منفی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اعداوشمار کے مطابق  ایف آئی اے کو گذشتہ سال 56 ہزار 696 شکایات موصول ہوئیں جو 2018  کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھیں۔ اعدادوشمار کے مطابق 2016 میں نو ہزار شکایات موصول ہوئیں جبکہ 2017 میں بھی تعداد نو ہزار تین سو تک رہی تاہم 2018 میں ایف آئی اے کو وصول ہونے والی سائبر کرائم کی شکایات کی تعداد انیس ہزار ہو گئی اور گذشتہ سال یہ تعداد  چھپن ہزار سے زائد ہو گئی۔ 

سائبر قوانین کے تحت جرائم کی اقسام

پیکا قانون میں کل چوبیس شقیں ہیں جس میں سے سیکشن 10، سیکشن 21 اور سیکشن 22 ناقابل ضمانت ہیں۔ یاد رہے کہ سیکشن دس سائبر دہشت گردی، سیکشن 21 کسی کی  فحش تصاویر یا ویڈیوز پھیلانے اور سیکشن 22 بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیو ز بنانے اور پھیلانے سے متعلق ہے۔
پیکا کے تحت غیر قانونی سموں کی فروخت بھی قابل گرفتاری جرم ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے کمپیوٹر یا موبائل تک غیر قانونی رسائی بھی جرم ہے اس کے علاوہ دہشت گردی یا کالعدم تنظیموں کے حوالے سے جرائم کی تعریف یا بہتر بنا کر پیش کرنا بھی ایک بڑا جرم ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق کہ فیس بک پر خواتین کو ہراساں کیا گیا ہے (فوٹو:اےا یف پی)

نفرت پر مبنی تقاریر یا تحریریں بھی پیکا کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ الیکٹرانک فراڈ یا ردوبدل بھی اس قانون کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔ دوسروں کی شناخت جیسے بینک اکاؤنٹ نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر وغیرہ  چوری کرنا اور اسے غیرقانونی طور پر استعمال کرنا بھی سائبر کرائمز میں شمار ہوتا ہے۔ سائبر سٹاکنگ یعنی کسی کا  انٹرنیٹ پر پیچھا کرنا، کسی کو فون یا نیٹ کے ذریعے اس کی مرضی کے بغیر بار بار میسج بھیج کر تنگ کرنا بھی پیکا کے تحت جرم ہے۔

کون سے سائبر کرائمز کی تعداد زیادہ ہے؟

وقار چوہان کے مطابق ایف آئی اے کے پاس سب سے زیادہ کیسز مالی جرائم جیسے بینک فراڈ، کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈ نمبر کی چوری وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ ایف آئی اے کے اعدادوشمار کے مطابق  گذشتہ دو برسوں میں ایف آئی اے سائبر ونگ نے جنسی استحصال کے 500 کےقریب مقدمات درج کیے۔
بچوں کی فحش ویڈیو اور تصاویر کے حوالے سے بھی شکایات میں اضافہ دیکھنے کو ملا اور دوہزار سترہ میں صرف ایک کیس رپورٹ ہونے کے بعد دوہزار اٹھارہ میں بچوں کے فحش مواد کی شکایات پچیس تک پہنچ گئیں۔ گذشتہ دو سالوں میں 300 سے زائد مقدمات الیکٹرانک فراڈ، 100 سے زائد سائبر سٹاکنگ اور50 کے قریب مقدمات نفرت انگیز مواد کے تحت قائم کیے گئے۔‘
اس کے علاوہ پچھلے دو سالوں میں شناخت کی چوری کے ایک سو گیارہ مقدمات درج کیے گئے جبکہ سائبر دہشت گردی یا اہم تنصیبات کے حوالے سے جرائم کی تعداد پینتالیس رہی۔

ایف آئی اے کے پاس سب سے زیادہ کیسز مالی جرائم کے ہوتے ہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)

ایف آئی اے کے کیسز میں ابھی تک سزائیں ملنے کی شرح خاصی کم ہے تاہم وقار چوہان نے بتایا کہ  ایف آئی اے کو مزید تربیت یافتہ سٹاف ملنے اور وسائل ملنے کے بعد سزا ملنے کی شرح مزید بہتر ہو گی۔ 
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال مختلف نوعیت کے 581 مقدمات درج کر کے 620 ملزمان کو گرفتار کیا۔ گذشتہ سال چودہ افراد کو عدالتوں سے سزا ملی جبکہ چوبیس افراد بری ہو گئے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کیسے کام کرتا ہے

حکام کے مطابق اس وقت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے پاس دو سو کے قریب ریگولر سٹاف کام کرتا ہے جبکہ تین سو پچاس نئے افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو ٹریننگ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے تحت پانچ سائبر زونز بنائے گئے ہیں جو راولپنڈی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں کام کرتے ہیں جبکہ دس نئے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹرز بنائے گئے ہیں جو اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سکھر، حیدرآباد، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد می گلگت اور گوادر میں قائم کیے جا رہے ہیں۔

سائبر کرائم ونگ کی مشکلات

ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر وقار چوہان کے مطابق ان کا شعبہ مختلف مشکلات کا سامنا بھی کر رہا ہے جن  میں سوشل میڈیا کے حوالے سے دائر کی گئی شکایات اور کیسز کی صورت میں ڈیٹا کا نہ ملنا، موبائل کمپنیوں کی طرف سے ڈیٹا کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالنا اور پیکا کے قانون میں تین کے علاوہ باقی شقوں کا قابل گرفت نہ ہونا شامل ہیں۔

پیکا قانون میں سیکشن 10، سیکشن 21 اور سیکشن 22 ناقابل ضمانت ہیں۔ (فوٹو:سوشل میڈیا)

وقار چوہان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک فراڈ، شناخت کی چوری اور غیر قانونی سموں کی فروخت کو بھی ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جانا چاہیے۔اسی طرح مالیاتی ادارے جیسے بینک وغیرہ معلومات کی فراہمی میں خاصی تاخیر کر دیتے ہیں اور کوئی مرکزی ڈیٹا بینک نہیں جہاں سے ایک شناختی کارڈ کے سب اکاؤنٹس کو چیک کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سموں کی روک تھام کے لیے جلد تمام سموں کی دوبارہ سے تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا کیونکہ جرائم پیشہ افراد دوردراز کے دیہات میں مقیم معصوم افراد سے انگوٹھے لگوا کر ان کے نام کی سمیں جاری کروا لیتے تھے اور انہیں سموں کو استعمال کرکے جرائم کرتے تھے۔ اب اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جس کے نام پر سم ہے وہی اسے استعمال کرے۔
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں