Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین بجٹ میں ایسا کیا ہوگا جو ’گذشتہ 100 سالوں میں‘ نہیں ہوا؟

نریندر مودی نے یہ کہا ہے کہ سنہ 22-21 کا بجٹ پرانے پیکجز کا تسلسل ہوگا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن آئندہ مالی سال کا بجٹ ایک ایسے وقت پیش کرنے جارہی ہیں جب انڈیا کی معیشت کو سنگین مسائل درپیش ہیں۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وہ سنہ 22-2021 کا بجٹ یکم فروری کو پیش کر رہی ہیں۔
کورونا کی عالمی وبا کے سبب پوری دنیا کی معیشت منجدھار میں نظر آ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کے سبب انڈیا کی معیشت دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جبکہ آکسفورڈ اکنامکس کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں انڈین معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔
ایسے میں اقتصادیات کے مختلف شعبوں کی نظر پیر کو وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر پر ہوگی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی جی ڈی پی میں ترقی کی شرح منفی تک پہنچ چکی ہے ایسے میں معیشت کو واپس مثبت پر لانے کے لیے حکومت کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
شاید اسی تناظر میں وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ اس بار کا بجٹ ایسا ہوگا جو گذشتہ 100 سالوں میں نہیں ہوا ہے تاکہ تباہ حال معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لایا جا سکے۔
جبکہ دوسری جانب گذشتہ ہفتے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کہا ہے کہ سنہ 22-21 کا بجٹ پرانے پیکجز کا تسلسل ہوگا۔
خیال رہے کہ دنیا بھر کی معیشت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق انڈیا کی معیشت میں 21-20 میں آٹھ فیصد کی کمی متوقع ہے لیکن اس کے بعد 11 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں اقتصادی سست روی کو پوری طرح سے کورونا کی عالمی وبا کے سر نہیں منڈھا جا سکتا بلکہ اس وبا سے قبل بھی انڈیا کی معیشت میں گراوٹ کے آثار نمایاں تھے۔ ترقی کی شرح متواتر کم ہو رہی تھی اور بے روزگاری گذشتہ 45 سال میں اپنی سب سے زیادہ نچلی سطح پر تھی۔
لیکن کورونا وبا اور اس کے بعد نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن نے نہ صرف معیشت کی رفتار کو سست کیا بلکہ اسے بالکل روک دیا۔ منظم اور غیر منظم سیکٹرز میں کروڑوں افراد کی نوکریاں چلی ‏گئیں یہاں تک کہ بہت سے مزدوروں کی جانیں بھی چلی گئيں۔
ایسے میں انڈیا کی نازک مالی صورتحال کے پیش نظر وزیر خزانہ کو ان شعبوں پر محتاط انداز میں توجہ دینا ہوگی جن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں اخراجات میں اضافے کا قوی امکان ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں اخراجات میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ ابھی صحت کے شعبے میں جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ ہوتا ہے جو بڑھ کر ڈھائی سے تین فیصد تک ہو سکتا ہے۔
پورے ملک کو ویکسین دینے کے لیے بھی فنڈ مختص کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ رئیل سٹیٹ کے شعبے میں بھی بہت سی چھوٹ کی امید کی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اس میں کساد بازاری آئی تھی اور یہ شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔
بہر حال 22-21 مالی سال میں بجٹ کے فرق کا تخمینہ 3.4 فیصد سے بڑھ کر سات فیصد تک جا سکتا ہے۔
اس بجٹ میں بینکوں کی حالت بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز ہوگی۔ بینکوں کی خراب حالت  کے پیش نظر انہیں فنڈز کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ میں نئے قرض دینے کی پوزیشن میں ہوں۔
دیہی ملازمت کی گارنٹی والی سکیم ’منریگا‘ کی طرح کی سکیم شہری علاقوں کے لیے بھی متعارف کرائی جا سکتی ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود یہ بجٹ بازار اور عوام کی توقعات پر کتنا کھڑا اترتا ہے یہ نرملا سیتا رمن کی تقریر کے بعد ہی واضح ہوگا۔

شیئر: