Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب خواتین وزیر اور سی ای او کے عہدوں پر فائز ہیں

اس کے باوجود عرب خواتین کو صلاحیتیں منوانے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ فوٹو عرب نیوز
عرب خواتین کے بارے میں دقیانوسی اور زمانہ قدیم کے تصورات مغربی اور ایشیائی میڈیا میں اب بھی قدرے غالب ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ایسے تمام تصورات کے باوجود کاروبار، سیاست، مالیاتی شعبے، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں عرب خواتین اپنے قدم جما رہی ہیں۔
اس کے باوجود بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عرب خواتین کے لیے بیرونی دنیا کی نظروں میں اپنی صلاحیتوں کے بارے میں غلط فہمیوں اور بے بنیاد سوالوں سے نمٹنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ڈی نوو کارپوریٹ ایڈوائزرز کی بانی اور ایگزیکٹو چیئرپرسن مسز مے نصراللہ کا کہنا  ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں  لوگ تاریخی طور پر ہمارے علاقے کو  روایتی انداز سے دیکھتے ہیں جہاں خواتین کی خاندان اور گھر میں زیادہ اہمیت ہےلیکن حقیقت اس سے بہت آگے ہے اور یہاں کام کے طریقہ کار میں بدلاو آ گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ہمارے پاس حکومتی امور میں، قیادت کےعہدوں پر، خاندانی گروپوں اور بینکوں کی سربراہ سے لے کر وزراء کے عہدوں تک خواتین موجود ہیں، جس سے واضح ہے کہ ہم بہت بدل چکے ہیں لیکن علم کی کمی ہے۔

براڈکاسٹرز عرب خواتین لیڈروں کے بارے میں مزید آگاہی دیں۔ فوٹو عرب نیوز

عرب خواتین کے بارے میں بیرون ملک کے تصور کو تبدیل کرنے کے لیے مے نصراللہ نے میڈیا اور ٹیلی ویژن براڈکاسٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ عرب خواتین لیڈروں کے بارے میں مزید آگاہی دیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں یہ خواتین بہت متاثر کن ہیں اور اب ہمیں دنیا کو یہ د یکھانا ہے کہ یہ خواتین کیا کچھ کرنے کے قابل ہیں۔
مسز نصراللہ نے کہا کہ ہمیں اپنی روایتی تصویروں کو اندرونی طور پر بدلنے کی بھی ضرورت ہے جو کہ نسل در نسل بدلتا ہے اور ہم وہاں پہنچ رہے ہیں۔
مے نصراللہ کا خیال ہے کہ خود اعتمادی میں کمی ایک ایسی رکاوٹ ہے جسے عرب خواتین کے ذہن سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انویسٹمنٹ بینکنگ میں اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے مے نصراللہ  یاد کرتی ہیں کہ اس کے باوجود کہ وہ اس قابل تھے یا نہیں مرد ساتھیوں نے خود کو ترقی یا نئے کردارکے لیے آگے بڑھایا۔

خود اعتمادی میں کمی ایسی رکاوٹ ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو عرب نیوز

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ایسی خواتین ہیں جو خود اپنا اندازہ لگاتی ہیں اور یہ موروثی طور پر ہماری تربیت میں شامل ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
مسز نصراللہ نے اپنے ذاتی تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ اس کے لیے گھر کی جانب سے بھی مکمل سپورٹ کے لیے ایک نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میرے چار بچے ہیں اور میرے  والد اور شوہر دونوں کی طرف سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے، میں نے اپنے کل وقتی کیریئر کو برقرار رکھنے  کے لیے یہ سب کیا ہے۔
ہمارے ارد گرد ایسے مردوں کا ہونا جو ہمیں کاروباری دنیا یا افرادی قوت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں ایک بہت اہم اور انتہائی مثبت رویہ ہے۔
 

شیئر: