Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عامر جمال، جو کبھی ہمت نہ ہارے 

2015 میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ کھیلنے کے بعد عامر جمال ابتدا میں کلب کرکٹ کی سیاست کی نذر بھی ہوئے(فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پانچویں ٹی20 میچ کے آخری اوور میں پاکستان ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروا کر عامر جمال نے بین الاقوامی کرکٹ کے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا ہے۔ 
آخری اوور میں معین علی کے بلے کو خاموش رکھ کر میانوالی سے تعلق رکھنے والے عامر جمال نے پاکستان ٹیم کو فتح دلوانے کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ کے دل بھی جیت لیے ہیں۔
26 سالہ عامر جمال نے کریئر کے پہلے میچ میں یوں تو 2 اوورز ہی کروائے لیکن انہوں نے میچ کے آخری اوور میں وائیڈ یارکرز کروا کر ڈیتھ اوور کے بالر کے طور پر خود کو متعارف کروایا جبکہ آخری اوور میں چھکا لگنے کے باوجود دباؤ میں نہ آنے پر بھی شائقین کرکٹ عامر جمال کی تعریف کر رہے ہیں۔

عامر جمال ہیں کون؟ 

میانوالی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ عامر جمال نے پروفیشنل کرکٹ کا آغاز اسلام آباد سے کیا۔ نارتھ زون سے کریئر کی ابتدا میں ہی اتار چڑھاؤ دیکھے۔
2015 میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ کھیلنے کے بعد عامر جمال ابتدا میں کلب کرکٹ کی سیاست کی نذر بھی ہوئے۔ 
اسلام آباد میں ہاکس کرکٹ کلب کی نمائندگی کرنے والے عامر جمال کو قریبی ساتھیوں نے اسلام آباد سے کرکٹ چھوڑ دینے کا مشورہ بھی دیا۔
کلب کے ایک عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عامر جمال پر وہ وقت بھی آیا جب وہ بیگز اٹھا اٹھا کر کلبز کے چکر کاٹتے تھے لیکن ان کو کھلانے والا کوئی نہیں تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کرکٹ پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے خود کو منوایا۔‘

عامر جمال پشاور زلمی کے لیے بطور ریزرو کھلاڑی کے طور پر بھی پاکستان سپر لیگ کا حصہ رہے ہیں (فائل فوٹو: سکرین گریب)

عامر جمال نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں پاکستان ٹیلی ویژن کی نمائندگی 2018-19 کے سیزن میں کی جس کے بعد وہ برطانیہ کرکٹ کھیلنے چلے گئے۔ 
برطانیہ میں کلب کرکٹ کھیلنے کے بعد ان کے کھیل میں مزید نکھار آیا اور وہ کشمیر پریمئیر لیگ کے سیلکٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
عامر جمال پشاور زلمی کے لیے بطور ریزرو کھلاڑی کے طور پر بھی پاکستان سپر لیگ کا حصہ رہے ہیں۔ 
وسیم اکرم کو اپنا پسندیدہ کھلاڑی سمجھتے ہیں۔
عامر جمال نے 2019 میں سری لنکا کے دورہ پاکستان کے وقت بطور نیٹ بالر پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کیا تھا۔

شیئر: