Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تیل کی منڈی کے استحکام کےلیے اوپیک کی کوششیں قابل ستائش: اعلان الجزائر

ایکسپو 2030 کی میزبانی کےلیے سعودی عرب کی درخواست کی مکمل حمایت کردی( فوٹو ٹوٹئر)
 عرب سربراہ کانفرنس نے بدھ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا جسے ’اعلان الجزائر‘ کا نام دیا گیا ہے جاری کیا ہے۔
اعلان الجزائر میں عالمی تیل کی منڈیوں کے استحکام کو یقینی  بنانے کے لیے اوپیک پلس کی کوششوں کی ستائش کی گئی۔
الشرق الاوسط اورعاجل ویب کے مطابق عرب قائدین نے ایکسپو 2030 کی میزبانی کےلیے سعودی عرب کی درخواست کی مکمل حمایت بھی کی۔
دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ اقوام متحدہ میں متعین الجزائر کے مستقل مندوب نذیر العرباوی نے پڑھ کر سنایا۔
عرب قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ’ مسئلہ فلسطین عربوں کا مرکزی مسئلہ تھا، ہے اور رہے گا۔ فلسطینی عوام کے حقوق کی تائید و حمایت کرتے رہیں گے‘۔خصوصا چار جون 1967 کی سرحدوں کے اندر خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے حق کی تائید کی گئی ہے۔
اعلایے کے مطابق’ 1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 194 کے بموجب فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حامی اور عرب امن فارمولے 2002 کے پابند ہیں۔ تمام عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بغیر مکمل اور منصفانہ امن قائم نہیں ہوگا‘۔ 
عرب قائذین نے مقبوضہ بیت المقدس اور وہاں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ’ بیت المقدس کی قانونی و تاریخی حیثیت اور اس کے اسلامی و عیسائی و عرب تشخص اور آبادی کو تبدیل کرنے کی قابض اسرائیلی حکام کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں‘۔ 

یوکرین کا بحران اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق حل ہونا چاہیے(فوٹو عرب نیوز)

عرب قائدین نے اسرائیل سے غزہ پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ اور فلسطینیوں کے خلاف قابض حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ 
کانفرنس میں کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بنوایا جائے گا اور ان ممالک سے جنہوں نے اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا، تسلیم کرنے کے لیے کہا جائے گا‘۔ 
اعلامیے میں بعض عرب ممالک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اورعربوں کی قومی سلامتی کے جامع تصور کے تحفظ کے لیے مشترکہ عرب جدوجہد تیز کرنے کا عزم بھی کیا۔
عرب ممالک کے اندرونی امور میں ہر طرح کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے طے کیا گیا کہ عرب ممالک کے مسائل کوئی اور نہیں بلکہ عرب لیگ کے تحت عرب ہی حل کریں گے۔ 
عرب سربراہ کانفرنس نے لیبیا کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ شامی بحران کے سیاسی حل تک رسائی کے سلسلے میں عربوں کے اجتماعی قائدانہ کردار کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ عراق میں آئینی زندگی کو موثر بنانے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا۔ امن و استحکام کے حوالے سے  لبنان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ 
اعلان الجزائر میں صومالیہ، جیبوتی اور اریٹیریا کے حوالے سے روایتی موقف کا اعادہ کیا گیا۔
کانفرنس میں کہا گیا کہ ’یوکرینی بحران کے حوالے سے غیر جانبداری کے اصولوں کے پابند تھے اور رہیں گے۔ عرب طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں اور عرب وزرا کے رابطہ گروپ کی جانب سے قیام امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ یوکرین کا بحران اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق حل ہونا چاہیے‘۔ 

شیئر: