Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’شدت پسند برطانوی فوجیوں پر حملے کریں،‘ شہزادہ ہیری کے بیان پر ردعمل

پرنس ہیری نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں 25 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے رہائشی انجم چوہدری نے شدت پسندوں پر زور دیا ہے کہ وہ شاہ چارلس سوم کے بیٹے شہزادہ ہیری کے ’اعتراف‘ کا بدلہ برطانوی فوجیوں کو نشانہ بنا کر لیں۔
خیال رہے چند روز قبل شہزادہ ہیری کی خودنوشت کا ایک اقتباس سامنے آیا تھا جس میں بتایا گیا کہ انہوں نے افغانستان میں تعیناتی کے دوران 25 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا اور ان کو ’شطرنج کے مہروں‘ سے تشبیہ دی تھی۔
عرب نیوز نے برطانوی اخبار میٹرو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انجم چوہدری نے شدت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب دنیا کو معلوم ہو رہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور دوسرے ممالک بار بار معصوم مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اس کے باوجود بھی ہیری نے اپنے تبصرے سے مسلمانوں کے دلوں میں چُھرا گھونپنا مناسب سمجھا۔‘
اس سے پہلے بھی اعجاز چوہدری پر حملوں کے لیے اکسانے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور 2016 میں انہیں دہشت گردی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
عرب نیوز کی سیریز میں ’ہیٹ پریچرز‘ یعنی نفرت کے مبلغین میں اعجاز چوہدری کا بھی ذکر ہے۔

پرنس ہیری نے اپنی کتاب ’سپیئر‘ میں لکھا کہ انہوں نے افغانستان میں 25 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا (فوٹو: اے پی)

55 سالہ انجم چوہدری نے شدت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام، عراق اور شمالی افریقہ میں برطانوی فوجیوں پر حملے کریں۔
کنزرویٹو پارٹی کے سابق رہنما لین ڈنکن سمتھ نے انجم چوہدری کے بیان کو ملک کے آئینی سربراہ، بادشاہت، حکومت اور تمام سرکاری ملازمین کے لیے براہ راست اور بالواسطہ خطرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
کنزرویٹو پارٹی کے ہی رکن اسمبلی ٹوبیس ایل وڈ نے کہا کہ ’میں اس پر شہزادہ ہیری کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ وہ عاجزی کے ساتھ سامنے آ کر کہیں کہ ایسا بیان دینا غیردانشمندانہ تھا اور وہ خود کو ان معاملات سے علیحدہ کریں جیسا کہ باقی مسلح افواج کرتی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انہیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ بیان کی غلط تشریح کی گئی جس کو نفرت کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور انجم چوہدری جیسے اور لوگ بھی اس آگ کو ہوا دینے کی کوشش کریں گے۔‘

شیئر: