Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہوٹل سے باہر نہیں نکل سکتے‘، پناہ کے متلاشی برطانیہ میں خوف کا شکار کیوں؟

ڈنسٹیبل کے ہوٹل کے باہر مظاہرہ کیا گیا جہاں پناہ کے متلاشی مقیم ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
انگلینڈ کے مشرقی صوبے بیڈفورڈشائر میں سیاسی پناہ کے متلاشی غیرملکیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہوٹل سے نکلنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ مقامی لوگ ان کی ویڈیوز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پناہ گزینوں میں زیادہ تر کا تعلق یمن، شام اور افریقی ملک اریٹریا سے ہے اور ڈنسٹیبل کے جس ہوٹل میں یہ رہ لوگ رہ رہے ہیں اس کے سامنے جمعے کو مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسی کے رہائشی ایک پناہ گزین نے دعوٰی کیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے گروپ پیٹرییورٹک الٹرنیٹیو نے ہوٹل کے خلاف کتابچہ مہم چلائی جس میں یہ نعرہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’ یو پے، مائیگرینٹس سٹے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خیال تھا کہ انگلینڈ میں اچھی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا مگر کچھ نہیں بدل سکا۔‘
’ہم زیادہ تر ہوٹل سے باہر نہیں جاتے کیونکہ ہم خطرناک صورت حال میں ہیں۔‘
جان گرنی جو ڈنسٹیبل کے مقامی کونسلر ہیں، وہ سیاسی پناہ کے لیے وہاں آنے والوں کے مخالف ہیں۔
ان کی فیس بک پوسٹوں میں پناہ گزینوں کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں جن میں وہ ہوٹل کے اندر بھی نظر آ رہے ہیں اور باہر واک کرتے ہوئے، کیفے اور پارک میں گھومتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ہوٹل میں موجود پناہ گزین کا مزید کہنا تھا کہ ’آخر کس وجہ سے یہاں کے مقامی افراد ہوٹل سے باہر گھوم رہے ہیں اور یہاں رہنے والوں کی تصویریں بنا رہے ہیں اور ہم اس حوالے سے کچھ کر بھی نہیں سکتے۔‘
ان کے مطابق ’اگر آپ کسی مقصد کے تحت مہمانوں کا پیچھا کرتے ہیں اور پھر ان کی تصویریں اور ویڈیوز آن لائن ڈالتے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ پولیس دوسروں کو ہراساں کرنے پر آپ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔‘

 


’پناہ گزینوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، یمن اور افریقی ملک اریٹریا سے ہے‘ (فوٹو: یو این ایچ سی آر)

انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’براہ مہربانی دوسروں کا پیچھا مت کریں اور ان کی تصویریں بھی نہ بنائیں۔‘
پیٹریوٹک الٹرنیٹیو نے رواں ماہ کے آغاز میں نوزلی اور مرسی سائڈ کے علاقے میں کتابچہ مہم چلائی تھی۔
انتہائی دائیں بازو کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کیمپین گروپ ہوپ ناٹ ہیٹ کے مطابق پیریورٹک آلٹرنیٹیو نے سنیچر کو مظاہرے سے قبل لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں اور انہیں احتجاج پر تیار کیا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ پناہ کے متلاشی چار افغان نوجوانوں کو ایک 15 سالہ لڑکی کے ریپ میں ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے تاہم بعد میں پولیس نے بتایا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ان کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔
سیاسی پناہ کی تلاش میں وہاں پہنچنے والے ڈنسٹیبل کے ایک ہوٹل میں مقیم ہیں جو اس سے قبل گرینیچ کے ایک ہوٹل میں رہ رہے تھے۔
ہوم آفس کی جانب سے انہیں ہوٹل چھوڑ دینے کا کہا گیا تاہم 40 نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جبکہ باقی دوسرے ہوٹل میں چلے گئے۔ گرینیچ ہوٹل میں رہ جانے والوں کو لوکل کونسل کی حمایت حاصل ہے۔

شیئر: