Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: مسلمان نوجوانوں پر گائے ذبح کرنے کا جھوٹا الزام، چار انتہا پسند ہندو گرفتار

گرفتار ہونے والے ملزمان میں ایک کا نام سنجے جٹ ہے جو اپنے آپ کو دائیں بازو کی تنظیم کا ترجمان ظاہر کرتا ہے (فائل فوٹو: پِکرل)
انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے شہر آگرہ میں پولیس نے مسلمان نوجوانوں کو گائے ذبح کرنے کے جھوٹے الزام میں پھنسانے والے دائیں بازو کی جماعت کے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق 30 مارچ کو چار مسلمان نوجوانوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے گائے کو ذبح کیا ہے۔
مسلمان نوجوانوں کے خلاف دائیں بازو کی مذہبی جماعت اکِھل بھارت ہندو ماہاسبھا (اے بی ایچ ایم) کے چار ارکان نے جعلی درخواست دائر کی تھی جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اے بی ایچ ایم نے مسلمان نوجوانوں کے مخالفین کے ساتھ مل کر ان سے بدلہ لینے کے لیے جھوٹا الزام لگایا۔
گرفتار ہونے والے ملزمان میں ایک کا نام سنجے جٹ ہے جو اپنے آپ کو دائیں بازو کی تنظیم کا ترجمان ظاہر کرتا ہے۔
اس سے قبل سنجے جٹ متنازع اور نفرت آمیز بیانات کے باعث خبروں میں جگہ بنا چکا ہے اور ان ملزمان پر انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 120 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے ایڈیشنل کمشنر آر کے سنگھ کہتے ہیں کہ ’اے بی ایچ ایم کے چار ارکان جن میں جتندر کشواہا، سنجے جٹ، براجیش بھاڈوریا اور ساؤربھ شرما شامل ہیں انہیں رام نوامی کے حساس تہوار پر سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اے بی ایچ ایم کے اِن چار ارکان کے علاوہ پولیس نے بے گناہ نوجوانوں کے مخالفین میں سے بھی تین افراد کو گرفتار کیا ہے جو اس سازش میں پیش پیش تھے۔‘
خیال رہے کہ 30 مارچ کو اے بی ایچ ایم کے عہدیدار جتندر کشواہا نے آگرہ کے تھانے میں درخواست دائر کروائی تھی کہ چار مسلمان نوجوانوں نے رام نوامی کے تہوار کے دن گائے ذبح کی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا ہے کہ جن نوجوانوں پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگایا گیا وہ وہاں موجود ہی نہ تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے درخواست میں یہ بھی لکھا تھا کہ وہ اے بی ایچ ایم کے بقیہ اراکین کے ساتھ موقع پر پہنچے تھے، تاہم تب تک ’ملزمان‘ بھاگ چکے تھے۔
تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا ہے کہ جن نوجوانوں پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگایا گیا ہے وہ اس دن اُس جگہ پر موجود ہی نہیں تھے اور ان پر مخالفت کے باعث درخواست دائر کروائی گئی تھی۔
ان کے خلاف یہ سازش شانو عرف اِلی، عمران قریشی، اے بی ایچ ایم کے چار اراکین اور تین بقیہ افراد نے کی۔
یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ شانو اور عمران قریشی ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان پر چھ مقدمات درج ہیں۔
اس سے قبل جھوٹی سازش کا شکار ہونے والے نوجوان نکیم نے عمران اور شانو کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
نکیم کی درخواست پر ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس وجہ سے ملزمان نے بدلہ لینے کی غرض سے ایک جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا اور جعلی کیس میں انہیں ملوث کیا۔

شیئر: