Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید 190 ملین پاؤنڈ کیس کے ماسٹر مائنڈ ہیں: فیصل واوڈا

فیصل واوڈا نے کہا کہ ’پرانے عمران خان نے جو سکھایا وہ فرض آج پورا کر دیا۔‘ (فوٹو: ٹیم فیصل واوڈا ٹوئٹر)
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید 190 ملین پاؤنڈ کیس کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں۔ 
اسلام آباد میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ’190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں کرپشن ڈھونڈنا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ اس حوالے سے مجھ سے بہت تفصیل سے سوالات ہوئے ہیں، نیب کو سب کچھ تحریری طورپر دیا ہے اور اس پر دستخط کیے ہیں، مجھے کوئی دستاویز دینے کی ضرورت نہیں۔‘
سابق وزیر نے کہا کہ ’جب یہ معاملہ چلا تو وفاقی وزیر تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں ایک بند لفافہ دکھا کر جلدی جلدی نمٹا دیا گیا تو اسی وقت کہا تھا اس پر نیب کیس بنے گا۔ کابینہ میں جو بند لفافہ دکھایا گیا وہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ اس پر کہا کہ جب فیصلہ ہی کرانا تھا تو خود ہی کر لیتے۔ اس معاملے میں اہم کاروباری شخصیت کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔‘
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ’اس کیس میں سب سے زیادہ کرپشن جس نے کی وہ فیض حمید ہیں۔ اس سارے معاملے کا ماسٹر مائنڈ فیض حمید ہیں۔ اب تک کسی نے فیض حمید کا نام نہیں لیا۔ شہزاد اکبر اور کچھ آدمیوں کو بھگانے میں بھی فیض حمید کا ہاتھ ہے۔ فیض حمید کی باقیات سینیٹ اور دائیں بائیں موجود ہیں۔ ابھی میں ان کے پاکستان کے اثاثوں کی بات کر رہا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پرانے عمران خان نے جو سکھایا وہ فرض آج پورا کر دیا۔ اب تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا آیا ہوں۔ میں کسی کے کہنے پر کچھ نہیں کہتا۔ آج پہلا قدم اٹھالیا ہے، ابھی میں پی ٹی آئی کے دیگر گھناؤنے جرائم کی بات نہیں کر رہا۔‘ 
سابق وزیر کا کہنا تھا کہ ’عمران کو مشورہ دیا تو پارٹی سے نکالا گیا۔ جب پارٹی سے نکالا گیا تو پارٹی آسمان پر تھی۔ پی ٹی آئی پر پابندی لگا کر کوئی فائدہ نہیں اس وقت تو پابندی لگانے سے زیادہ کام ہو گئے ہیں۔‘ 
ایک سوال کے جواب میں فیصل واوڈا نے کہا کہ ’صدر عارف علوی نے جو کام کیا وہ دشمن بھی نہیں کرسکتا، اس مِس انڈر سٹینڈنگ میں سب سے بڑا رول ایوان صدر اور عارف علوی کا ہے۔‘ 

شیئر: