Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان اٹک جیل میں کن حالات میں رہ رہے ہیں؟ 

محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران خان کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں قید چھ روز ہو چکے ہیں جہاں وہ اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو جیل میں اچھی حالت میں نہیں رکھا گیا اور اس حوالے سے کچھ ویڈیوز بھی زیرِ گردش ہیں جن میں ایک شخص کو بظاہر جیل میں مظطرب حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
اس حوالے سے جب اردو نیوز نے پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات سے رابطہ کیا تو ترجمان نے اس ویڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
ترجمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو حقائق کے برعکس اور بے بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر جیل میں علیحدہ حصے میں رکھا گیا ہے جہاں انھیں قانون کے مطابق ایئر کولر، چارپائی، چھت والا پنکھا، بیڈ، میٹرس، تکیہ، ٹیبل اور دو کُرسیاں مہیا کی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق بیرک کی صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو تمام ضروری طبی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں اور جیل مینوئل کے مطابق ڈاکٹرز کی نگرانی میں انہیں خوراک بھی مہیا کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے نمائندے اور صارفین  سے گزارش کی کہ بغیر تصدیق کے کوئی بھی خبر چلانے سے گریز کیا کریں۔
’عمران خان کو جیل مینوئل اور قانون کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ وکیل اور فیملی کو جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کی سہولت بھی حاصل ہے۔‘
دوسری طرف عمران خان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے کلائنٹ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
پیر کے روز ان کے وکیل نعیم پنجوتہ نے جیل میں عمران خان سے اپیل کی درخواست پر دستخط کروائے۔ عمران خان کو سزا دینے والے جج کے خلاف سوشل میڈیا پر بیانات دینے پر وکیل کو ایف آئی اے کی انکوائری کا سامنا بھی ہے۔ 
اسی طرح جیل حکام سے تلخی سے پیش آنے پر دو وکلا کے خلاف اٹک پولیس نے مقدمہ بھی درج کر رکھا ہے۔ 

شیئر: