Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میڈیکل ٹیسٹ سکینڈل: ’نقل کرنے والے طلبہ کے والدین کو شامل تفتیش کیا جائے‘

خیبر پختونخوا کابینہ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے ایڈمیشن کے لیے انٹری ٹیسٹ دوبارہ لینے کی منظوری دے دی (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)
خیبر پختونخوا کی نگراں کابینہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ دوبارہ لینے کی منظوری دے دی ہے۔
خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلٰی اعظم خان کی زیرصدارت جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے ایڈمیشن کے لیے ہونے والے انٹری ٹیسٹ کو دوبارہ لینے کی منظوری دی گئی۔
سیکرٹری اعلٰی تعلیم نے کابینہ کو بریفنگ میں ایم ڈی کیٹ سکینڈل میں اہم پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا اور گرفتار ملزمان سے تفتیش سے متعلق بھی ارکان کو بتایا۔
کابینہ اجلاس کے بعد نگراں وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کا میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ ’میڈیکل انٹری ٹیسٹ چھ ہفتوں میں دوبارہ لیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس بار میڈیکل ٹیسٹ کا انعقاد ایٹا کے بجائے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کرے گی جبکہ ٹیسٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔‘
نقل میں ملوث طلبہ کے والدین کے خلاف کارروائی کی تجویز
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ بلو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے نقل کرنے والے طلبہ و طالبات کے والدین کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔
نگراں وزیر اطلاعات فیروز جمال کے مطابق ’نقل میں ملوث والدین بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ ایک طالب علم 35 لاکھ روپے کہاں سے لاسکتا ہے؟‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جرم میں والدین کا تعاون شامل ہے، اس لیے گرفتار طلبہ کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کی جانی چاہیے۔‘
نگراں وزیر اطلاعات کے مطابق ’ایم ڈی کیٹ سکینڈل کے دو مرکزی ملزمان جو سگے بھائی ہیں، گرفتار ہوچکے ہیں۔ دونوں ملزمان نے اہم انکشافات کیے ہیں۔‘
’سکینڈل میں ملوث سرکاری ملازمین کو سزا کے علاوہ ملازمت سے نکال کر نشان عبرت بنائیں گے۔‘
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام نے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے فیصلے کو پی ایم ڈی سی ایکٹ سے متصادم قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ سے متعلق کیس پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔‘

10 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بلو ٹوتھ کے ذریعے نقل کرنے والے 280 امیدوار پکڑے گئے تھے (فائل فوٹو: وِکی میڈیا)

’اگر ہائی کورٹ بھی یہی فیصلہ کرتی ہے تو پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔‘ دوسری جانب ایٹا حکام بھی میڈیکل انٹری ٹیسٹ دوبارہ لینے کے حق میں نہیں ہیں۔ 
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا ردعمل 
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ترجمان نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ لینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ ’یہ بلو ٹوتھ مافیا کی ہار ہے جبکہ محنت کرنے والے طلبہ جیت گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ینگ ڈاکٹرز نے ہمیشہ مافیا کا راستہ روکا اور مستقبل میں بھی مافیا کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔‘
ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ ’لاکھوں روپے دینے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی نقل کرنے کی جرات نہ کرے۔‘ 
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے 10 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لیا گیا تھا جس میں بلو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے نقل کرنے والے 280 امیدوار پکڑے گئے تھے۔
ایم ڈی کیٹ سکینڈل سے متعلق کیس تاحال پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

شیئر: