Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بے روزگار شوہر کے ہاتھوں بیوروکریٹ بیوی قتل، واشنگ مشین نے پکڑوا دیا

نیشا نیپتکے شاہپورہ میں بطور سب ڈویژنل میجسٹریٹ کام کرتی تھیں (فوٹو: این ڈی ٹی وی)
انڈیا میں ایک بیوروکریٹ خاتون کو ان کے بے روزگار شوہر نے قتل کر دیا اور واقعے کو طبعی موت کا رنگ دینے کی کوشش کی، تاہم واشنگ مشین نے پکڑوا دیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق واقعہ مدھیہ پردیش میں اتوار کو پیش آیا، جس کے بعد ملزم نے ثبوت مٹانے کی کوشش کی اور پولیس کے ساتھ بھی غلط بیانی کی۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ منیش شرما پریشان تھا کہ کیونکہ ان کی اہلیہ نیشا نیپت جو دندوری کے شہر شاہپورہ میں سب ڈویژنل میجسٹریٹ کے طور پر تعینات تھیں، نے اپنی سروس بک، انشورنس اور بینک اکاؤٹ میں ان کا ذکر نہیں کیا تھا۔
’ملزم نے خاتون کو تکیے سے سانس بند کر کے مارا اور اس کے بعد ثبوت مٹانے کی غرض سے خون آلود کپڑوں کو واشنگ مشین میں دھویا، پولیس کو واشنگ مشین سے تکیہ اور بیڈ شیٹ بھی ملی جس سے کیس کو حل کرنے میں بہت مدد ملی۔‘
کیس میں نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب نیشا نیپت کی بہن نیلیما نیپت نے منیش شرما پر شک کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے وہ پیسوں کے حصول کے لیے ان کی بہن پر تشدد کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ پیسوں کے لیے نیشا کو ہراساں کرتے رہتے تھے۔ میری بہن کو کوئی بیماری نہیں تھی، شوہر نے یقیناً کچھ کیا ہے اور ملازم کو بھی ان کے کمرے میں نہیں جانے دیا۔‘
اس کے بعد 45 سالہ منیش سے پوچھ گچھ شروع کی گئی، جس سے صورت حال واضح ہو گئی۔
نیشا نیپت اور منیش شرما نے ایک پرفضا مقام پر ملنے کے بعد 2020 میں شادی کر لی تھی جس میں خاندان والے شریک نہیں ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد اتوار کو شوہر خاتون کی لاش کو ہسپتال لے گیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ دم توڑ چکی ہیں۔
اطلاع ملنے پر پولیس بھی ہسپتال پہیچنی اور منیش سے واقعے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں گردوں کی بیماری لاحق تھی، تاہم اسی وقت ہسپتال پہنچنے والی خاتون کی بہن نے اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ انہیں کوئی بیماری نہیں تھی۔
جس پر پولیس کو شبہ پیدا ہوا اور مزید پوچھ گچھ پر منیشن نے بتایا کہ انہیں گردوں کی بیماری تھی اور انہوں نے روزہ بھی رکھا ہوا تھا، رات کے وقت الٹیاں کیں، جس پر دوا دی تاہم صبح کے وقت وہ نہ جاگ سکیں۔‘
منیش نے بتایا کہ ’میں بھی جلدی نہیں اٹھا کیونکہ اتوار تھا اور انہوں نے بھی کام پر نہیں جانا تھا۔ 10 بجے ملازمہ کے آنے کے بعد میں ان کے کمرے میں گیا اور اس کے بعد گھر سے باہر چلا گیا، دو بجے لوٹا تو وہ تب بھی سوئی تھیں، جس پر انہیں جگانے کی کوشش کی، پھر ڈاکٹر کو فون کیا تو ہسپتال لانے کا کہا گیا۔‘
پولیس نے جب خاتون کو چیک کیا تو ان کے منہ اور ناک میں خون کی موجودگی کا انکشاف ہوا اور پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا گیا۔
اس کے بعد پولیس کی ٹیم ملزم کے گھر پہنچی جہاں انہیں ایسا تکیہ اور بیٹ شیٹ ملی جس کو دھویا گیا تھا تاہم خون کے دھبے پوری طرح سے مٹ نہیں پائے تھے۔
تھوڑی دیر بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ موت سانس بند ہونے سے ہوئی اور پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

شیئر: