Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ میں انتہاپسندی کی نئی تعریف کا ’ہدف‘ مسلمان ہو سکتے ہیں: مسلم گروپس

مسلم گروپس کا کہنا ہے کہ نئی تعریف سے تقسیم کو ہوا ملے گی (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے مسلمان گروپوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جانب سے انتہاپسندی کی نئی تعریف کا منصوبہ اختلافات کو ہوا دے گا اور اس کی وجہ سے ’دوسرے لوگ بدنام ہوں گے۔‘
عرب نیوز کے مطابق برطانوی حکومت نے جمعرات کو انتہاپسندی کے حوالے سے قانون سازی میں ترامیم کے لیے تجاویز پیش کی تھیں۔ موجودہ تعریف کے مطابق ’برطانوی اقدار کے خلاف آواز اٹھانے یا پھر سرگرم ہونے‘ کو انتہا پسندی مانا جاتا ہے۔
نئی تعریف کے بعد اس میں نفرت پر مبنی نظریات کی ترویج، عدم برداشت یا تشدد، دوسروں کے آزادی اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے نکات شامل ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ جمعرات کو برطانیہ نے یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کے بعد انتہا پسندی کی نئی تعریف متعارف کروائی تھی، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ آزادی اظہار رائے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
نئی تعریف کے تحت انتہا پسندی ’تشدد، نفرت یا عدم برداشت پر مبنی نظریے کی ترویج یا ترقی‘ ہے جن کا مقصد بنیادی حقوق اور آزادی کو تباہ کرنا ہے، یا برطانیہ کی آزاد پارلیمانی جمہوریت کو ہٹانا یا نقصان پہنچانا ہے، یا جان بوجھ کر دیگر عناصر کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ وہ یہ نتائج حاصل کر سکیں۔‘
پانچوں تنظیموں کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’انتہاپسندی کی جس نئی تعریف سے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ ہماری تکثیری جمہوریت کے اہم سنگ بنیاد پر حملہ کرتی ہے جو بولنے کی آزادی ہے۔‘
پانچ تنظیمیں کیج انٹرنیشنل، فرینڈز آف الاقصٰی، دی مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن، مسلم انگیجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اور فائیو پلرز کا کہنا ہے کہ ’یہ تجاویز شہری آزادیوں پر حملہ ہیں۔‘
تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’یہ قانون کی پاسداری کرنے والے ایسے لوگوں کو ’انتہاپسند‘ قرار دیتا ہے جو حکومت کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔‘
’کسی بھی شخص کو مذہب یا سیاسی رنگ سے مبرا ہوتے ہوئے موجودہ حکومت پر تنقید کی آزادی ہونی چاہیے بغیر ’انتہاپسند‘ کے لیبل کے۔‘
رواں ہفتے کے آغاز میں کینٹربری اور یارک کے آرک بشپس نے کہا تھا کہ ’اس مںصوبہ بندی کا نشانہ برطانوی مسلمان بن سکتے ہیں۔‘
انتہا پسندی کی نئی تعریف متعارف کرنے والے محکمے کے وزیر مائیکل گوو نے رواں ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ لندن میں فلسطینیوں کے حق میں مارچ کا اہتمام ایک انتہاپسند تنظیموں نے کیا تھا۔‘ 

شیئر: