آزادی کپ : پہلے میچ سے کرکٹ کلچر کی آمد

 
لاہور: پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان آزادی کپ سیریز کے پہلے میچ کو اگرخالصتاً کھیل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں کچھ بھی ایسا نہیں ہوا کہ بر سوں یاد رکھا جا سکے۔ واحد اہم بات یہ ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد8 سال میں یہ عالمی کرکٹ برادری کی جانب سے پاکستان کرکٹ کی پہلی باقاعدہ امداد تھی۔ اس سے پہلے زمبابوے کا دورہ اور پی ایس ایل فائنل صرف پی سی بی کی کاوشیں ہی تھیں، کرکٹ برادری نے ان کاوشوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود یہ میچ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ قذافی اسٹیڈیم کی نشستوں پہ نظر ڈالی جائے تو جس جوش و خروش کی توقع تھی، وہ ہمیں نظر نہیں آیا۔ سکیورٹی حصار میں گھنٹوں قطار اندر قطار چلنے کی دقت تھی یا ٹکٹوں کی قیمتیں آڑے آئیں یا پھر شیڈولنگ ایسی تھی کہ ہاو¿س فل نہ ہو سکا۔ اگر یہی میچ معمول کے کاروباری ایام کی بجائے ہفتہ وار چھٹیوں میں شیڈول کیا گیا ہوتا تو یقیناکراو¿ڈ زیادہ جاندار ہو سکتا تھا۔بہرحال یہ میچ ہر صورت میں یاد تو رکھا جائے گا کیونکہ اس کی وجہ سے روایتی کرکٹ کلچر ایک مرتبہ پھر اپنے پورے رنگ میں نظر آیا۔جس کا ثبوت قذافی اسٹیڈیم میں تماشائی تھے ۔
 
 
 
 
 

شیئر: