مشک پر بیٹھنے والے ، ائمہ اور موذنین

  اور مؤذنین کے تئیں لوگوں کے دلوں میں احترا م پیدا کیاجائے، اسلام میں ان کاجومقام بتایاگیاہے، اس سے لوگوں کوروشناس کیاجائے
* * *  مولانا اسرارالحق قاسمی۔نئی دہلی* * *
اسلام اور مسلم معاشرے میں امامت ایک معززمنصب رہاہے اوراس پر فائزرہنے والے لوگوں کوعام و خاص ہر طبقے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتارہاہے۔جب دنیاکے بیشتر خطوں میں سیاسی و سماجی اور تہذیبی و علمی اعتبار سے مسلمانوں کاغلبہ تھااور مسلم تہذیب کی دنیاکی مقبول ترین تہذیب تھی۔اس وقت امام کا مرتبہ اس اعتبار سے غیر معمولی تھاکہ وہ نہ صرف پنج وقتہ،جمعہ و عیدین اور جنازے کی نمازوں میں مسلمانوں کے پیشواہوتے تھے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے بھی انہی سے رجوع کیاکرتے تھے۔ماضی میں دین و دنیاکے کئی اہم کارنامے انجام دینے والے بے شمار اشخاص مساجدکے منبروں سے ہی وابستہ تھے۔ اسلامی کتب خانے کااچھاخاصاذخیرہ ائمہ کی علمی و فکری قابلیتوں کی منہ بولتی تصویر ہے۔ ان کی اہمیت و برتری اور فضیلت کودراصل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بٹھایاتھا۔ایک موقع پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرما یا:امام اس لئے بنائے گئے ہیں کہ ان کی اقتداکی جائے۔
     اس کاایک ظاہری مطلب یہ ہے کہ نمازکے دوران اماموں کی اقتداکرنی چاہیے اوران کے عمل کے مطابق عمل کیاجائے تاکہ ہماری نمازدرست اور مکمل ہوسکے لیکن ایک مطلب اس کایہ بھی ہے کہ معاشرے میں امام کے منصب کااعتراف کرتے ہوئے ان کے اچھے اوراعلیٰ اخلاق و کردار کواپنایاجائے اوراس سلسلے میں بھی انھیں اپنا رہنمابنایاجائے۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی مسجدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے امام و خطیب رہے اور مسلمانوں کودی جانے والی تمام تر تعلیمات مسجدوں کے ذریعے ہی پایۂ تکمیل کوپہنچتی تھیں۔چاہے معاشرتی مسائل ہوں یا اللہ کے راستے میں جہادکیلئے نکلنے کی تدبیریں، چاہے تعلیم و تعلّم ہویادیگرامورسب امام یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہی لوگوں تک پہنچتے تھے۔اسی طرح لوگوں کونمازکے اوقات کی خبر دینااور انھیں دن کے5 وقت کامیابی اور خیر کی طرف بلانابھی نہایت ہی شرف اور فضیلت والاعمل ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے ساتھ ساتھ مؤذنین کے لئے بھی بڑے اجروثواب کی بشارت دی ہے۔
    امام ابن تیمیہؒ رحمہ اللہؒ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اورانھوں نے دریافت کیاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے کوئی کام بتائیں،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی قوم کے امام بن جاؤ،توانھوں نے کہا:اگریہ ممکن نہ ہوتو؟، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھرمؤذن بن جاؤ(شرح العمدہ)۔
    اس حدیثِ پاک سے سیدھے طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی نگاہ میں امامت اور مؤذنی ایک اعلیٰ اور شرف والاعمل تھا،اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کواس کی تلقین فرمائی۔
    ایک دوسری حدیث جسے امام ترمذیؒنے نقل کیاہے،اس میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’3 قسم کے لوگ قیامت کے دن مشک کے ڈھیرپر ہوں گے:ایک وہ جس نے اللہ کے اوراپنے غلاموں کے حقوق اداکیے ہوں گے،دوسرا وہ شخص جس نے لوگوں کی امامت کی اوراس کے مقتدی اس سے خوش رہے اورتیسراوہ شخص جس نے روزانہ5 وقت لوگوں کونمازکی دعوت دی۔‘‘
    یعنی جواذان دیاکرتاتھا۔
    اس حدیثِ پاک سے تو اوربھی وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتاہے کہ امامت اور مؤذنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک موقرعمل ہے اور دونوں قسم کے لوگوں کے لئے اللہ کی خاص رحمت ومہربانی مقدرہے۔
    ایک حدیث میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
     ’’محشرکے دن مؤذنین کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔‘‘
    یعنی وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں نمایاں ہوں گے اوربآسانی پہچانے جاسکیں گے۔
    ایک موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
    ’’اگر لوگوں کوپہلی صف میں نماز پڑھنے اور اذان دینے کی فضیلت کاعلم ہوجائے توقرعہ اندازی کی نوبت آجائے گی۔‘‘
    اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاص طورپرامام اور مؤذن کے لئے رشدومغفرت کی دعافرمائی ہے (سنن ابوداؤد)۔
    ایک طرف ائمہ اور مؤذنین کے بارے میں اتنی فضیلتیں واردہیں، جنہیں جان کرایک انسا ن کے دل میں حسرت پیداہوتی ہے کہ کاش وہ امام یامؤذن ہوتالیکن دوسری جانب جب ہم موجودہ وقت میں اپنے معاشرے کے ائمہ اور مؤذنین کی صورتحال اوران کے ساتھ لوگوں کے رویوں کامشاہدہ کرتے ہیں تونہایت افسوس اورتکلیف ہوتی ہے اورپھرعام حالتوں میں کوئی بھی شخص امام یامؤذن بننے کاخواب نہیں دیکھتا۔مختلف اسباب کی بناپرآج کل ایسا ماحول بنادیاگیاہے کہ دوسرے لوگوں کوتوچھوڑیں خودمسلمان اوروہ بھی باشعور سمجھے جانے والے مسلمان بھی امامت اورمؤذنی کوحقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںحالانکہ دوسری جانب ایک ناقابلِ انکارحقیقت یہ ہے کہ5 وقتوں اور عیدین کی نمازوں کے علاوہ بھی پیدائش سے لے کرموت تک ہم ایک امام اورمؤذن کے محتاج ہوتے ہیں۔ایساباورکیاجاتاہے کہ مساجدکے امام اور مؤذنین معاشرے پربوجھ ہیں اورپھران کے ساتھ عام طورپراسی قسم کا برتاؤ کیا جاتا ہے،یقین جانئے ہمارایہ عمل خود ہماری بدبختی اور اللہ کی ناراضگی کاسبب ہے اوراس سے خودہمیں ہی دنیاوآخرت میں خسارہ ہوگا۔
    یہ کس قدرحیرت اور افسوس کامقام ہے کہ ایک جانب توہم یہ سمجھتے ہیں کہ امامت اورمؤذنی کرنا معمولی کام ہے،یہ کام کرکے انسان پرسکون طریقے سے اپنی زندگی نہیں گزارسکتا اوراس میں اپنی اولاد کولگاناگویاان کی زندگی کوبربادکرناہے جبکہ دوسری جانب جب ہم ہی مسجدکے ٹرسٹی یامتولی بنتے ہیں توامام یامؤذن کی تنخواہ پانچ ،6 ہزار سے زائد کرنے کیلئے کسی بھی صورت تیارنہیں ہوتے۔معمولی سے معمولی شخص بھی جس کامعاشرے میں کوئی وزن نہیں ہوتا،وہ کسی بھی وقت امام یامؤذن پر اپناغصہ نکال سکتاہے،کسی بھی وقت اسے یہ کہہ کرنکال دیا جا سکتاہے کہ آپ ہماری مسجدکے لائق نہیں۔ ہمارا تقاضا ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کوانسان نہیں،فرشتہ ہوناچاہیے مگر خودہم کسی کے ساتھ انسانی اخلاق کے ساتھ بھی پیش نہیں آتے۔
    پس اِس وقت مسلمانوں میں بے شمارسماجی اصلاحات کے ساتھ کرنے کا ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کے تئیں لوگوں کے دلوں میں احترا م اور وقار کاجذبہ پیدا کیاجائے۔ اسلام میں ان کاجومقام و مرتبہ بتایاگیاہے، اس سے لوگوں کوروشناس کیاجائے اور لوگوں کو مساجدسے جوڑتے ہوئے ائمہ کی مخلصانہ اقتداکاماحول بنایاجائے۔
    ہر دورمیں عوام کامساجداور اماموں سے گہراربط رہاہے۔آج بھی عام مسلمانوں کادن رات کاتعلق اپنے اماموں سے ہوتاہے۔ اگر عوام اور ائمہ کے مابین تعلقات مضبوط ہوں گے اور دونوں طرف افادہ و استفادہ کی راہ ہموارہوگی تواس طرح مجموعی طورپرپورے مسلم معاشرے میں ایک خوشگوارسماجی انقلاب برپا ہوسکتاہے۔ ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں ہم مساجدکی تعمیر و تزئین میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں اورہرمحلے،بستی اور شہرکے مسلمان اپنی اپنی استطاعت کے بہ قدریہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے علاقے کی مسجدوں میں نمازیوں کوہر قسم کی سہولت دستیاب ہوچنانچہ گرمیوں میں اے سی،پنکھوں اور کولر کا انتظام کیاجاتاہے اور ٹھنڈیوں میں گرم پانی کاانتظام کیاجاتاہے،بہت ساری مسجدوں میں مخمل اور گدے والے مصلے بھی بچھادیے جاتے ہیں،توان سب کے ساتھ ساتھ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ جوشخص ہمیں 5 وقتوں کی نمازپڑھاتاہے اورجوہمیں ان نمازوں کے اوقات کی خبر دیتاہے، ہر طرح کے موسم اور حالات میں بروقت اذان دیتا ہے،ان کی تنخواہیں بھی بہترکی جائیں۔
    آج کادورتواتنائی مہنگاہوگیاہے کہ لاکھوں کمانے والے لوگ بھی پریشان ہی رہتے ہیںلیکن کیامساجدکی تعمیر وتزئین میں لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے والے ہم مسلمان اپنے ائمہ اور مؤذنین کواتنی تنخواہیں نہیں دے سکتے کہ وہ ایک بہتراور اطمینان بخش زندگی گزارسکیں؟اس سلسلے میں مساجدکے متولیان اور ٹرسٹیان کوخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
     ایک گزارش ائمہ کرام سے بھی ہے کہ وہ معاشرے میں اپنے مقام و مرتبے سے باخبررہیں۔وہ صرف نمازوں کے امام نہیں بلکہ ان کے اعمال، اخلاق اور کردار کااثردوسرے لوگوں پر بھی پڑتا ہے۔ آپ کوئی ایساعمل نہ کریں جوآپ کی شان اور مرتبے کے خلاف ہو،صرف نمازپڑھادیناہی آپ کی ذمے داری نہیں بلکہ لوگوں کے اعمال و عقائد کی اصلاح کاذمہ بھی شریعت نے آپ کے اوپر رکھاہے۔مسلمانوں کی اخلاقی و عملی بے کرداری کے خاتمے میں ائمہ کرام اہم کرداراداکرسکتے ہیں اوران سے یہ مطلوب بھی ہے۔یہ حقیقت ہر وقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ جومنصب یامقام جتنااہم اور عظیم ہوتا ہے، اس کی ذمے داریاں بھی اسی قدراہم ہوتی ہیں۔جہاںآ پ کے اچھے اور عمدہ اخلاق و اعمال معاشرے پراچھے اثرات مرتب کرتے ہیں،وہیں آپ کی معمولی لغزش بھی بے شمارلوگوں کے لئے فساداور برائی کاسبب بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے :امام ضامن ہوتا ہے۔
     مطلب یہ کہ امام نہ صرف اپنے مقتدیوں کی نمازوں کاضامن ہے اوراس کی نمازکی صحت پر مقتدیوں کی نمازوں کی درستگی موقوف ہے بلکہ اس کامطلب یہ بھی ہے کہ اپنی عملی زندگی میں بھی امام اپنے مقتدیوں کاضامن ہے۔اگرکوئی اس کے اچھے اخلاق و اعمال سے متاثرہوکراچھے راستے کواپناتاہے تواس بندے کے ساتھ امام بھی ماجور ہوگاجبکہ اگرکوئی شخص اس کی غلط نقل و حرکت کی وجہ سے دین اور مسجدسے متنفرہوجاتاہے تواس کابھی ذمے داروہی ہوگا۔
    بہرکیف یہ بے حد ضروری ہے کہ ائمہ اور مقتدی دونوں اپنے اپنے مطلوبہ کرداروں کواداکریں۔یہ عمل ہمارے معاشرتی نظام کو بہتری کی طرف لے جانے میں کلیدی رول ادا کر سکتا ہے۔

شیئر: