#زرد_صحافت_مسترد

پاکستان میں دن بہ دن بگڑتی صورتحال اور اس پر میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں میڈیا کیا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی مسئلہ پر ٹویٹر پر ہیش ٹیگ” #زرد_صحافت_مسترد“ پاکستان میں دوسرے اور تیسرے نمبر کا ٹرینڈ رہا جس میں صارفین میڈیا کے کردار کو خوب نشانہ بنایا۔
جیو نیوز پر عاشہ گلالئی کے چلنے والے بیان پر قیصر عباس شیخ نے ٹویٹ کیا: کردار کشی کاکوئی وقت اور موقع ومحل ہوتاہے۔ذاتی عناد اور سیاسی ایجنڈا پورا کرنے کیلئے یہ عورت اورجیونیوز اورمیرشکیل رحمن اس حد تک گر جائیں گے؟
عمران شاہ نے کہا :جعلی خبروں نے سنجیدہ میڈیا کی کوریج کو بھی کمزور کر دیا ہے ۔ صحافیوں کے لئے اہم خبروں کی کوریج بھی بہت زیادہ مشکل بن گئی ہے۔
وجیہ صدیقی کا ٹویٹ تھا: پیمرا کو چیمہ اور جیو نیوز پر سخت ایکشن لینا چاہئے، انہیں دوسروں کی زندگی میں مداخلت کا کاوئی اختیار نہیں۔
عائشہ عمران نے کہا: صحافت ایک مقدس شعبہ ہے، اس کا تو کام ہی سچائی ہے لیکن بد قسمتی سے آج کل کام بس کہانی بنانا ہی رہ گیا ہے۔
مسعود خان نے لکھا :زرد صحافیوں نے سمجھ رکھا ہے کہ کچھ بھی ان کی حدود سے باہر نہیں،وہ ریٹنگ کے لیے کسی کی بھی ذاتی زندگی کو زیر بحث لا سکتے ہیں، اب وقت آ گیا ہی کہ زرد صحافت کو خیر آباد کہہ دیا جائے۔
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں