میانمار میں تقریباً 10کروڑ سال پرانے پرندے کی باقیات دریافت

ینگون ، میانمار..... سائنسدانوں نے تقریباً10کروڑ سال پرانے پرندے کی مسلم و محفوظ باقیات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا ہے کہ عنبر نامی خوشبو دار شہد نما موم جامہ کے اندر اُسے بہت حفاظت سے رکھا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ تقریباً 10کروڑ سال گزرنے کے باوجود پرندے کا محجر ڈھانچہ اتنی اچھی حالت میں ہے ۔ یہ ڈھانچہ ڈائنا سو رعہد کے اختتامی زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ عنبر کے جس خول میں اسے محفوظ رکھا گیا تھا ،وہ ایک چھوٹا سا فریم ہے جسے سائنسدانوں نے ہیرے جواہرات اور زیورات فروخت کرنے والی ایک دکان میں بطور زیور فروخت ہوتے ہوئے خرید لیا تھا۔ سائنسدانوں کا کہناہے کہ اس ڈھانچے سے زمانہ قدیم کی اس مخلوق کی ہیئت اور ساخت پر اچھی خاصی روشنی پڑتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پرندے کے اس محجر ڈھانچے کو میانمار کی مشہور وادی ہوکونگ سے دریافت کیا گیا ہے جہاں اس سے پہلے بھی بہت سے قدیم نوادرات کا سراغ ملا ہے۔ دریافت ہونے والے اِس پرندے کے بارے میں تحقیقی ٹیم کی سربراہ لیڈا ژنگ کاکہناہے کہ یہ اپنی قسم کی پہلی اور اہم دریافت ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہوکونگ علاقے یا اس کے آس پاس ایسی بہت ساری چیزیں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حالت میں آج بھی موجود ہوں جن سے ان پرندوں اور ان پرندوں سے پہلے دنیا میں موجود پرندوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

شیئر: