پاکستان میں ملازم پیشہ خواتین کی تعداد دگنی

اقوام متحدہ کی طرف سے صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق جاری تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم اس وقت4 خواتین میں سے ایک افرادی قوت میں حصہ لے رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیتوں کا وسیع تر حصہ اب بھی بروئے کار لایا جانا باقی ہے۔
ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر یو این ڈی پی پاکستان ناوکو تکاسو نے رپورٹ کے اجراءکے موقع پر کہا کہ پبلک سیکٹر خواتین کیلئے اہم انٹری پوائنٹ ہے۔لیڈر شپ اور فیصلہ سازی میں خواتین کے کردار میں اضافہ سے صنفی مساوات اور پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 
یو این ڈی پی اور یو این ادارہ برائے صنفی مساوات نے سول سروس میں خواتین کی نمائندگی اور فیصلہ سازی کردار کے حوالہ سے مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔ 
یو این ویمن کنٹری نمائندہ جمشید قاضی نے کہا کہ بیجنگ پلیٹ فارم آف ایکشن کو آگے لے جانے کیلئے پاکستان لیڈرشپ پوزیشنز پر 30 فیصد خواتین کی نمائندگی کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔ 
تازہ رپورٹ سے یہ بات واضح ہے کہ فیصلہ سازی کے تمام سطح پر خواتین کی بامعنی نمائندگی حاصل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ تقریب میں یو این ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بھونے، خواتین کے ا سٹیٹس سے متعلق قومی کمیشن کے چیئرمین خاور ممتاز، ڈائریکٹر پروگرامز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی ہما چغتائی اور ڈائریکٹر محکمہ شماریات رابعہ اعوان نے بھی شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 

شیئر: