نیک اعمال کی قبولیت کی شرط ، رزق حلال

آج کے دور میں  اگر ہمیں حلال  اور حرام میں تمیز  کی  سمجھ  آجائے تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں  سنور  جائینگے
* * * فرخندہ شاہد۔ ریاض* * *

 

 ہماری زندگی میں رزق حلال کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔وہ اس لئے کہ اس پر ہماری عبادات کا دارومدار ہے۔ اس پر دعائوں کی قبولیت کا انحصار ہے اور اسی سے اجروثواب اور نیکیوں کا تعلق ہے اور اگر یہ ضائع ہو جائیں تو ہماری عبادات بے مقصد، ہماری دعائیں رائیگاں اور ہماری جو ریا ضتیں اور کو ششیں ہیں وہ بے ثمر ہوں گی اس لئے اس موضوع کو بہت سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین اسلام دراصل ایک مکمل اور جامع دین ہے۔ اس میں ایمان اور عقائد کی بات بھی ہے، اعمال کی بات بھی ہے اور اخلاقیات کی بات بھی کہی گئی ہے اور حرام اور حلال کا مسئلہ بڑی اہمیت کے ساتھ قرآن مجید میں اور احادیث نبوی ؐ  میں کئی جگہ بار بار پیش کیا گئی اور اس موضوع پر جید علمائے کرام نے بہت کچھ بیان فرمایا ہے۔
    قرآن کی تفا سیر میں جگہ جگہ حرام اور حلال کی نشان دہی کی گئی ہے اور احادیث کی کتابوں میں بھی ہمیں حلال اور حرام میں تمیز سکھا ئی گئی ہے۔ ہم یہ سب پڑھتے بھی ہیں اور علمائے کرام کے درس بھی سنتے ہیں۔ آج ہم نے یہ جاننا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے ہمیں جو سنت دی ہے، لیا ہم نے؟ اُسے اپنی زندگی میں اپنایا ہے؟ یا اس پر ہم کسی حد تک عمل کر رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ہم انسانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ ہمیں انواع و اقسام کے کھانے دیئے جن سے ہم اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انکی لذتوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اگر وہی رزق حلال ہوتوبہترین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار حلال کی تاکید اور حرام سے بچنے کا حکم دیا ہے ۔سورہ نحل کی آیت نمبر 114 میں اللہ فرماتا ہے :
     "جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھا اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔"     اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت نمبر 168 میں اللہ نے حکم دیا ہے:
     " اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ  چیزیں ہیں انھیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو ،وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن  ہے۔ "
    کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ حلال کے مسئلے میں شیطان  کا ذکر کیوں  ہے ؟ کیونکہ  یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے شیطان آسانی سے انسان پر مسلط ہوتا ہے۔ اکثر ہم حلال  کما نے کے لئے اتنی مشکل اور پریشا نی سے گزر رہے ہوتے ہیں اور پھر بھی گزارا  نہیں  ہوتا تو پھر شیطان  ہمیں  مختلف راستے  دکھاتا ہے کہ یہ راستہ اختیار کر لو اِس میں بڑی سہو لت ہے، زیادہ پیسے مل جائیں گے چاہے وہ دھوکہ دہی کے ذریعے ہو یا کسی اور نا جائز طریقے سے ہو ،کیونکہ  شیطان  غلط راستے کو پُرکشش  بنا کر پیش کرتا ہے اور جو لوگ شیطان کے دھوکے میں  آجاتے ہیں وہ حلال اور حرام  کی تمیز  چھوڑ  بیٹھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے  ہمیں  خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے اور بھلا دشمن سے کوئی بھلائی کی توقع کر سکتا ہے؟
     ہم اپنے آپ کو مسلمان  کہتے ہیں تو جو چیزیں حرام  ہیں  تو کیا ایک  مسلمان اس میں  جا سکتا ہے؟  غور کرنے کی بات  ہے کہ حلال  اور حرام  کا مسئلہ اتنی اہمیت کے ساتھ قرآن مجید اور احادیث نبویؐ میںکیوں  پیش کیا گیا ہے ؟حرام اور حلال کی تمیز دوسری قوموں اور مسلمانوں کے درمیان  بنیادی فرق ہے۔ اس کے برعکس  ہم میں سے اکثرلوگوں کا یہ خیال  ہے کہ دوسری قوموں نے اس لئے ترقی کی کہ انھوں نے اس تمیز کو چھوڑ دیا ۔
    آج کے دور میں  اگر ہمیں حلال  اور حرام میں تمیز  کی  سمجھ  آجائے تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں  سنور  جائینگے۔ صحیح مسلم کی حدیث مبارک ہے:
     " ایک انسان  مشکلات  میں گھرا ہوا ہے، جب اللہ کی بارگاہ میں  دعا کیلئے  ہاتھ  اٹھاتا ہے لیکن  اس کی دعا  رد کر دی  جاتی ہے کیونکہ اسکا کھانا  حرام  ،اُسکا پینا حرام  کا   ،اُس کا لباس  حرام  کا  ،  اُس کا جسم  حرام  کا بنا ہوا ہے، تو اللہ تعالیٰ  اس کی دعا  کو کیسے  قبول  فرمائیں گے۔ "
    ہمیں  سوچنا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی دعائیں کریں اور وہ اللہ کی طرف سے  رد کر دی جائیں۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے  کہ ہمارے ذرائع آمدن  حلال  کے ہیں ؟ اگر نہیں تو  ہمارا کھانا پینا  پہننا، اوڑھنا  سب حرام ہے۔ آج ہم مال کی محبت میں  اللہ اور اسکے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ سلم  کے احکامات  کو بھول گئے ہیں اور ایک  عجیب  بات ہے کہ یہ امت حرام  چیزوں کی  طرف بڑھ رہی ہے۔  لوگ حرام  چیزوں کو   بہانوں  سے ناموں کی تبدیلی  سے جائز  قرار دے رہے ہیں۔  آج ہم دیکھ  رہے ہیں کہ جو چیز  سود تھی  اس کا نام  بدل کر  منافع  کا نام  دے دیا گیاہے  ۔کیا کسی چیز کا نام  بدلنے  سے وہ حلال ہو جاتی ہے؟  آج کل یہی ہو رہا ہے۔ ہم اپنی  زندگی  اوسط سے زیادہ  اچھی  جینے کے لئے سود  لے رہے ہیں۔ ہم ایسا رہن سہن، ایسا لباس اپنانے ہوئے ہیں جو ہماری دسترس سے باہر  ہوتے ہیں  اور یہ سب  حاصل کرنے کے لئے سود اور رشوت کو ذریعہ  بناتے ہیں اور جس کو آج کل ہم اچھا لائف اسٹائل  کہتے ہیں،وہ  حاصل کرنے کے لئے  غلط کام کرنے  پر مجبور  ہو جاتے ہیں۔ بد دیانت اور دھوکہ  ہمارے  ہر کام میں  شامل ہو گیا ہے۔ آج کل ہماری اکثر  تجارتیں ،خرید وفروخت دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ  عام ہے۔ ناقص مال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے مہنگے داموں بیچنا عام ہے۔  اصل اور نقل کی تمیز  مشکل ہو  گئی ہے۔ سورہ مومنون  کی آیت نمبر 51میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں :
     "اے پیغمبر(   صلی اللہ علیہ وآلہ سلم)!حلال  چیزیں  کھائو اور نیک عمل کرو۔" یعنی  حلال  کے ساتھ ہی عمل  صالح  قبول  ہونگے۔  اگر آپ کا رزق حلال  ہے تو تب ہی آپ کے نیک اعمال  قبول  ہونگے  اس لئے  اللہ تعالیٰ  نے  تمام  پیغمبروں کو حلال  کے ساتھ عمل  صالح  کی تاکید کی ہے لیکن  آج کے دور کا مسلمان  ہر جائز  اور نا جائز  طریقے  سے کماتے ہوئے مال کو حلال کرنے کی کوشش  میں کثرت سے  حج اور عمرے کرنے  میں  لگا  ہوا ہے۔ آج ہم اپنا مال صا ف کرنے کے لیے  خیرات زکات اور مختلف  نیکی کے کاموں میں پیسہ  خرچ کرتے  رہتے ہیں اور خود کو مطمئن کرتے ہیں کہ  اس طرح  ہمارا کمایا  ہوا مال  پاک اور حلال  ہو جائے گا ۔  نمازوں کے  ڈھیر ہوں ، نوافل کے انبار ہوں لیکن اگر آپ  کی  ہر چیز  حرام  کی ہو تو کچھ قبول  نہیں ہوتا۔   حرام کمانے والا شخص اگر اللہ کی  راہ میں خرچ کرے گا  تو اللہ کو قبول نہیں  ہوگا۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
      "   حلال کیا ہے  یہ بالکل  واضح ہے، حرام  کیا  ہے یہ  بھی بالکل واضح ہے، ان دونوں کے درمیان کچھ  مشتبہ  چیزیں ہیں جن کے بارے میں  یقین سے کہنا  مشکل ہے کہ حلال  ہیں کہ  حرام،  (فرمایا)  یہ مشتبہات ہیں، ان سے بچو کہ اگر کسی  چیز  سے تمہارے دل میں کھٹکا  پیدا ہو جائے اسے چھوڑ  دو اور اُس کو اختیار کر لو جس سے دل میں کوئی  تشویش  پیدا  نہ ہو ۔" (بخاری و مسلم)۔
    لیکن  جس دل میں  ایمان  ہے وہ دل گواہی  دیگا۔  آج کل تو ہمارے دل مردہ  ہو چکے  ہیں۔  حرام  کاموں  اور چیزوں کو  اپنانے کے لئے ہم نے ڈھیروں حیلے  بہانے بنا کر اپنے دلوں کو مطمئن  کر لیا  ہے اور یہ سوچتے ہی نہیں کہ  ہم اپنے حلال  رزق  کو کیسے  حرام  کر رہے  ہیں۔  ہم روزے کی حالت میں  کاروبار کر رہے ہوتے ہیں ،لوگوں کو  جھوٹ بول کر  مال  بیچ رہے ہوتے ہیں۔  جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا  پینا  چھوڑ نا ،فاقہ کرنا منظور نہیں  اور عین روزے کی حالت میں سود بھی لے رے ہوتے ہیں۔  روزے کی حالت میں  تو اللہ تعالیٰ  نے  حلال رزق  بھی  حرام کر دیا  ہے  تو جھوٹ بولنا ، سود لینا  رشوت  لینا یا دینا تو ہے ہی حرام  تو ظاہر ہے کہ  ایسا  روزہ کیسے قبول  ہو گا ۔ایسے انسان کو نہ ہی قیام اللیل  اور نہ ہی عبادتوں  نمازوں  سے کچھ حاصل  ہو گا۔ اس کی یہ جدو جہد بے کار ہو گی ۔ہماری دعاؤں کی قبولیت کے درمیان سب سے بڑی  رکاوٹ  حرام  چیز ہے۔ چونکہ آج کا دور نفسا نفسی کا ہو گیا ہے۔ حالات  ایسے  ہو چکے ہیں  کہ کوئی بات کہہ دینا  آسان نہیں۔ آج ہم نا جائز کو  جائز  بنانے کیلئے مختلف  وضاحتیں  پی  کرتے ہیں کہ یہ تو سسٹم ہی ایسا ہے کہ آگے بڑھنے کے لئے یہ ضروری ہے اس کے بغیر  کامیاب ہونا ناممکن ہے ۔یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر  لیتے ہیں۔  بد قسمتی سے  آج ہم ان دنیاوی  معاملات میں  پھنسے ہوئے ہیں۔ دن رات فکر ہے تو  بس انہی معاملات  کی کہ پیسہ  کیسے کمایا  جائے، آگے کیسے بڑھا  جائے اور اپنے مختلف کام نکلوانے کے لئے اپنے مال کو رشوت کے طور پر پیش کر نا اور رشوت  لینا  ان سب کے مرتکب  ہو رہے ہیں۔رسول اللہ    صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کا فرمان ہے:       " رشوت  لینے والا اور رشوت  دینے والا دونوں  جہنمی  ہیں۔ " (ابن ماجہ ،طبرانی)۔
    لیکن  رشوت کو آج کل ہم نے مختلف  نام دے رکھے ہیں۔  ـتحفے تحائف کی  شکلوں میں  ہم اپنے  کام نکلوانے کے لئے اپنے سے اوپر  کے عہدوں پر فائز افسروں کو  دے رہے ہوتے ہیں۔ آج کل یہ سب تحفے  رشوت  میں  دئیے جا تے ہیں  اور جائز  سمجھے  جاتے ہیں  ۔مختلف  لوگوں  کا جائز  کام رشوت  لے کر کرنا  ایک  عادت  سی ہوگئی ہے کہ دوسرے400 اوپر آجاتے ہیں۔  اس طرح  ہر شعبے میں  اوپر  کی  کمائی  اصل  لفظوں میں  رشوت ہی  ہے  لیکن  ہمیں  محسوس  ہی نہیں  ہوتا  کہ ہم کوئی  گناہ  کر رہے ہیں۔ یہ باتیں  تو اب زندگی کا  معمول  بنتی جارہی ہیں۔  لینے والے کو  احساس ہوتا ہے  نہ ہی  دینے  والے کو کہ وہ کتنے  بڑے گناہ  کا مرتکب ہو  رہا ہے۔  ایسا ہی ایک واقعہ  آپ کے  سامنے  بیان کرنا چاہوں گی۔
    کچھ سال پہلے ہمارے بیٹے کواپنے ملک میں  ڈرائیونگ  لائسنس  لینے کی ضرورت پیش  آئی  تو اسکے لئے  فارمز وغیرہ  بھرے۔ فیس جمع  کی۔ اب ایک کمپیوٹر  ٹیسٹ اورایک  ڈرائیونگ  ٹیسٹ  دینا تھا  جس کے  بعد  ہی  بیٹے کو  لائسنس  مل سکتا تھا۔  خیر  پہلا  ٹیسٹ تو بیٹے  نے پہلی بار میں  آسانی سے  پاس کر لیا۔  اب ڈرائیونگ  ٹیسٹ  کی  باری آئی۔  بیٹے نے بڑی خود اعتمادی سے گاڑی  چلائی  لیکن  خلاف  توقع  اُس انسٹرکٹر نے چھوٹی  سی غلطی کی  نشاندہی کر کے  بیٹے کو  ڈرائیونگ ٹیسٹ میں  ناکام  قرار دیدیا  کہ آپ نے ڈرائیونگ ٹیسٹ  دوبارہ  دینا  ہے۔ بیٹا  بہت ہی  حیران  ہو ا لیکن ہم سب  نے  بھی یہی  کہا کہ ہاں تم نے غلطی  کی ہو گی تبھی تو  ناکام ہوے ہو ،دوبارہ  ٹیسٹ  دے دینا۔ اس میں  2موقعے اور دیئے جاتے ہیں۔  اگر دونوں مواقعو ںمیں  ناکامی  ہو جائے تو دوبارہ  فیس  جمع  کرکے پھر سے کمپیوٹر    اور ڈرائیو نگ ٹیسٹ  دینا  پڑتا ہے۔ بحر حال  اب جو دوسرا موقع  آیا تو اتفاق سے  بیٹے کا ڈرائیونگ ٹیسٹ اسی انسٹرکٹر  نے لیا اور اس بار بھی اسے چھوٹی سی غلطی  پر ناکام قرار دیا ۔ اب تو بیٹا  بہت  ہی دلبرداشتہ  ہوااور یہی  کہے جارہا  تھا  کہ مجھے  یقین ہے کہ انھوں نے مجھے جان بوجھ کر ناکام قرار دیا ہے ورنہ میں نے تو تمام ڈرائیونگ  صحیح طریقے سے کی  تھی۔  اتفاق سے اسی دن ہمارے  ہاں  کچھ رشتے دارمہمانوں کا آنا ہوا ۔ ہمارا بیٹا تو بہت اداس تھا چنانچہ  مہمانوں کے  سامنے  بھی  اس بات کا  ذکر ہوا تو سب نے  ایک  ہی  رائے  دی  جسے سن کر ہم سب گھر والے  دم بخود  رہ گئے۔ سب کا یہ کہنا تھا کہ بیٹا جب تیسری بار آپ ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے جائوتو انسٹرکٹر  کے باتھ  میں 500 روپے تھما دو ،دیکھنا  کیسے  آپ کو بغیر  ٹیسٹ  لئے  کامیاب  قرار  دیدیگا۔  ہر بار آپ کو چھوٹی  سی  غلطی پر ناکام قرار دینے کا یہی   مطلب ہے کہ آپ سے وہ کچھ تقاضا  کر رہا ہے اس کے بغیر  آج کل کوئی  کام  نہیں ہوتا۔  آپ آزما کر دیکھ لیں  تبھی  آپ کو کامیابی ملے گی۔  یہ سننا تھا کہ  بیٹے  نے  جھٹ سے  کہا  کہ نہیں  انکل  رشوت  لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں  ،میں  اپنی تمام عبادتیں عمرے نمازیں اور حج کیوں  خراب  کروں ۔اگر لائسنس  نہیں  دینا تو نہ دیں میں ایسا  ہر گز نہیں  کروں گا  ۔اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے  ہمارے تینوں  بچوں  نے  یک  زبان ہو کر  یہی الفاظ  دہرائے  اور ہماری  آنکھوں میں تشکر کے آنسو بھر آے۔ ہم نے  اپنے رب کا بہت شکر  ادا کیا  ۔ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں  پڑی  اور ہمارے  گھر آے مہمان  اپنا  سا منہ لے کر رہ گئے کہ بچوں نے تو  انھیں  شرمندہ  ہی کر دیا ۔
     دراصل یہ  چھوٹی چھوٹی باتیں  ہمارے  معاشرے میں اتنی  عام  ہو گئی  ہیں کہ ہمیں  ان کا  احساس  ہی نہیں ہوتا ۔ آج کل  صاحب اقتدار  لوگ  ووٹ خرید نے کیلئے  غریب  لوگوں  میں  اناج اور مختلف  ضروریاتِ زندگی کا سامان الیکشن کے  دنوں میں  بے دریغ  تقسیم  کرتے ہیں اور نا سمجھ  لوگ  خوش  ہو کر بک  جاتے ہیں  یعنی  دوسرے لفظوں میں رشوت لینے کے  مرتکب ہو جاتے ہیں  اور ان  کی یہ ساری ضروریات زندگی کا سامان  بھی حرام  ہو جا تا ہے اور ان کے ووٹ سے منتخب ہونے  والے  شخص  کا عہدہ اور کمائی  سب حرام  ہوجا  تی ہے لیکن  یہ  سب  اتنا عام ہو  چکا ہے کہ ہمارے ہاں  لوگ اسے رشوت  لینے  یا  دینے  کے زمرے میں  نہیں  ڈالتے  بلکہ  جائز  قرار  دیتے ہیں  اور اسے وقت کا تقاضا  لیتے ہیں  ۔اگر ایک ملازم اپنی  ڈیوٹی پوری  نہیں کرتا جس کی اسے تنخواہ ملتی ہے تو اس کی تنخواہ  بھی  حرام ہو جا تی ہے۔  مختلف  سرکاری  اداروں میں ملازمین  صرف حاضری  لگوانے  جاتے ہیں  اور تنخواہ پوری لیتے ہیں  تو انھیں  سوچنا چاہئے کہ  ان کا رزق  حلال ہے ؟ ۔
(جاری ہے)
مزید پڑھیں:- - - - -تمباکو نوشی کارجحان اور اس کی ہلاکت خیزی

شیئر: