رمضان کرکٹ کراچی کی ثقافت ہے

کراچی:پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے 15 لاکھ روپے کے عوض رمضان ٹورنامنٹس کی این او سی کے اجراء پر شائقین کرکٹ اور کھلاڑی سخت ناراضی کا اظہار کررہے ہیں۔پی سی بی نے ٹی وی پر نشر کیے جانے والے رمضان ٹورنامنٹس کو این او سی کے عوض 15 لاکھ روپے جبکہ نشر نہ ہونے والے ٹورنامنٹس کو 5 لاکھ روپے فیس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ میچ فکسنگ کو روکنے کے لیے ٹی وی پر براہِ راست دکھائے جانے والے ٹورنامنٹ کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔ اصغر علی شاہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر جنید علی شاہ نے کہا کہ پی سی بی کا این او سی کے نام پر پیسے مانگنا مناسب نہیں ۔کارپوریٹ ٹی ٹوئنٹی کے آرگنائزر اور سابق کپتان معین خان نے کہا کہ رمضان کرکٹ اس شہر کی ثقافت کا حصہ ہے۔پی سی بی کا فیصلہ کھیل کے مفاد میں نہیں۔ معین خان نے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے اپیل کی کہ وہ کرکٹ دشمنی والے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر سمجھتا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ آمدنی کا ذریعہ ہیں تو بورڈ آگے آئے۔ پی سی بی کی نئی منطق سمجھ سے بالا تر ہے، اگر پی سی بی رمضان کرکٹ کو آئی سی سی سے منظور کرائے تو 15 کے بجائے 25 لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں، پی سی بی چاہے ٹورنامنٹ بند کردے حق اور کرکٹ کی بہتری کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شیئر: