کراچی لیاری میں منی برازیل اور فٹبال میچ

 
فٹبال کے مداح اپنے پسندیدہ کھیل کو دیکھنے کے لیے جس طرح متحد ہوتے ہیں، ایسا شاید ہی کسی اور کھیل میں ہوتا ہو۔شاید کچھ لوگ فٹبال سے اس جنون کی حد تک لگاو¿ کو کٹر وطن پرستی سمجھتے ہوں لیکن یہ کھیل نسل، رنگ ذات اور قومیت سے بڑھ کر ہے۔مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص قومیت کے لحاظ سے عرب نژاد فرانسیسی ہو لیکن اس کا آبائی ملک الجزائر ہو اور وہ ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کر لے، تو شاید وہ شخص پیرس کی مشہور سڑک شانزے لیزے پر فرانس کے بجائے الجزائر کا جھنڈا لہراتا ہوا پایا جائے گا۔اسی تناظر میں جب گذشتہ ماہ میں فٹبال ورلڈ کپ کے کچھ مقابلے روس جا کر دیکھے تو ایسا نہیں تھا کہ بحیثیت پاکستانی میرے ملک کی ورلڈ کپ میں عدم شمولیت مجھے کسی اور ملک کی حمایت کرنے سے روک سکتی ۔ ذاتی طور پر میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان تھا کہ میں کس ملک کی حمایت کروں کیونکہ 2002ءسے کسی لاطینی امریکی ٹیم نے ورلڈ کپ نہیں جیتا تھا تو میری ہمدردیاں اس براعظم کے ممالک کے ساتھ تھیں۔یہ اور بات ہے کہ اب ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں اس بر اعظم کی کوئی ٹیم باقی نہیں ۔
روس میں فیفا ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے کے بعد ایک دوست نے میرے فٹبال کے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ روس جیسا جوش و جنون کراچی میں دیکھنا ہے تو لیاری چلتے ہیں ۔ یہ علاقہ جو منی برازیل بھی کہلاتا ہے کراچی کا سب سے پرانا علاقہ ہے اور اب منفی شہرت کا حامل ہے لیکن ورلڈ کپ کے دوران یہاں جرائم کے تناسب میں کمی ہوجاتی ہے اور اسے کراچی کے سب سے خطرناک علاقہ' کے بجائے ”منی برازیل“کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو لیاری سے تعلق رکھنے والے ہمارے گائیڈ ہمیں لیاری کی مشہور 'مومباسا اسٹریٹ' لے گئے جو کہ وہاں کے ایک رہائشی امجد میامی کے دادا سے منسوب ہے جو مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کے شہر مومباسا سے ترک وطن کر کے کراچی منتقل ہو گئے تھے۔مومباسا ا سٹریٹ فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے لیاری کی چند مشہور جگہوں میں سے ایک ہے۔ اس گلی میں جگہ جگہ مختلف ممالک کے جھنڈے دیواروں پر بنائے گئے تھے اور میچوں کے ا سکور کا ریکارڈ لکھا گیا تھا۔ لیکن ان تمام جھنڈوں کے درمیان نمایاں طور پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی بنا ہوا تھا۔اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ روس میں بھی کچھ ایسا ہی تھا اور دنیا بھر سے آئے ہوئے شائقین، جن کی ٹیم ورلڈ کپ کا حصہ بھی نہیں تھیں لیکن وہ جہاں جاتے اپنے ملک کے جھنڈے ساتھ لے جاتے۔
لیاری میں جس ملک کا جھنڈا سب سے زیادہ مقبول تھا، وہ تھا برازیل اور دوسرے نمبر پر برازیل کے روایتی حریف ارجنٹائن کا پرچم تھا۔میں نے وہاں لوگوں سے سوال کیا کہ برازیل ہی وہاں پر کیوں اتنا مقبول ہے تو مجھے جواب دیا گیا کہ وہ شکل و صورت میں ہمارے جیسے ہیں۔ میں نے روس میں برازیل کا کوسٹاریکا سے ہونے والے مقابلہ ا سٹیڈیم میں دیکھا تھا، میں نے فوراً تہیہ کر لیا کہ برازیل کا اگلا میچ لیاری میں دیکھنا ہے ۔لیاری کے باسی مختلف محلوں میں بڑی اسکرینز پر ورلڈ کپ دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔مومباسا اسٹریٹ کے بعد گائیڈ ہمیں لیاری کے مشہور میدان بھیا باغ لے گئے جہاں دو مقامی ٹیمیں فٹبال کا میچ کھیلنے میں مصروف تھیں۔اس میدان میں گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اتنے جوش و جذبے سے مقابلہ کر رہے تھے جیسے وہ لیاری کے سہولیات سے عاری میدان میں نہیں بلکہ ماسکو کے لوزہنیکی اسٹیڈیم میں میچ کھیل رہے ہوں۔لیکن ایک حیران کن بات جو نظر آئی کہ لیاری میں ورلڈ کپ میچز دیکھنے کے لیے جتنا واضح جوش و جذبہ وہاں کے رہائشیوں میں تھا، اس کے برعکس ویسا جذبہ مجھے اس بھرے ہوئے میدان میں نظر نہیں آیا۔ زیادہ تر تماشائی خاموشی سے، ساکت بیٹھ کر میچ دیکھ رہے تھے اور وہاں کوئی بینڈ باجا اور شور نہیں تھا۔ شاید وہ لوگ دو مقامی ٹیموں کے بجائے برازیل کے میچ کے بارے میں سوچ رہے تھے؟
برازیل کا میکسیکو کے خلاف ہونے والا میچ میں نے پروگرام کے مطابق لیاری میں دیکھا اور اس دن وہاں کا ماحول ہی کچھ اور تھا۔ ہر گلی محلے میں لوگوں نے میچ کے لیے اسکرین لگائی ہوئی تھیں، خواہ وہ کوئی کریانے کی دکان ہو یا چائے کا ڈھابا۔روس میں ورلڈ کپ کے دوران میں نے دیکھا تھا کہ وہاں فیفا کی جانب سے ایک مقررہ مقام پر باضابطہ طور پر ا سکرین کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اسے 'فین فیسٹ' کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر وہ شائقین میچ دیکھ سکتے ہیں جن کے پاس ا سٹیڈیم کے ٹکٹ نہیں ہوتے۔فیفا نے ورلڈ کپ میں مختلف شہروں میں بغیر ٹکٹ والے شائقین کے لیے فین فیسٹ کے مقامات قائم کیے جہاں مقابلے بڑی ا سکرین پر دکھائے جاتے تھے ۔لیاری میں بھی ایک سے زائد مقامات پر ایسی ا سکرینز لگی ہوئی تھیں جیسے مومباسا سٹریٹ، علی محمد محلہ وغیرہ۔ لیکن روس کے برعکس، یہ اہتمام فیفا یا کسی سرکاری باڈی یا کسی نجی ادارے نے نہیں بلکہ اس علاقے کے رہائشیوں نے اپنے شوق اور برازیل سے محبت کی خاطر اپنی مدد آپ کے تحت کیا تھا۔کچھ لوگوں نے ہمیں اپنے گھروں کی چھت پر بلایا تاکہ ہم اونچائی سے دیکھ سکیں کہ کتنی بڑی تعداد میں لوگ وہاں پر میچ دیکھنے کے لیے جمع ہیں۔
شام7بجے میچ شروع ہونے کے بعد اسکرینز پر میچ دیکھنے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے تھے اور برازیل کی جرسی پہنے غور سے میچ دیکھ رہے تھے۔ وہاں پر برازیل کے سب سے اہم کھلاڑی نیمار کے بے تحاشا مداح تھے اور ان کے کسی بھی ’پاس‘ پر بلوچی زبان میں 'جیے نیمار' کے نعرے بلند ہوتے تھے۔نیمار نے جب میکسیکو کے خلاف گول اسکور کیا تو وہاں پر تو جیسے ایک ہنگامہ مچ گیا۔ نوجوانوں نے زور زور سے نعرے لگائے ، ڈھول بجائے اور آتش بازی کی اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سب ا سٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے ہیں۔ 
لیاری میں میچ دیکھنے کے تجربے میں ایک چیز جس نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ تھا وہاں کی کم عمر لڑکیوں کا فٹبال دیکھنے میں دلچسپی رکھنا۔ ان میں سے کئی نے نیمار کے نام والی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔جب میں نے ان سے برازیل کے معروف کھلاڑی مارسیلو کے بارے میں سوال کیا تو ایک10 سالہ لڑکی نے مجھے بتایا کہ وہ زخمی ہونے کی وجہ سے میچ نہیں کھیل رہا۔ اس سے مجھے ظاہر ہوا کہ ان بچیوں کو واقعی فٹبال میں کتنی دلچسپی ہے۔برازیل کی جیت کے بعد علی محمد محلے میں زور و شور سے جشن منایا جا رہا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور میں بہت خوش قست ہوں کہ میں نے روس میں ورلڈ کپ کے مقابلے دیکھے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو مزہ مجھے لیاری میں میچ دیکھتے ہوئے آیا، وہ بھی ناقابل بیان ہے۔
 

شیئر: