تامل ناڈو کے ممتاز رہنما ڈاکٹر ایم کروناندھی چل بسے،آخری رسومات کل ادا کی جائیںگی

نئی دہلی ۔۔۔۔ہندوستان کی سیاست پر گہر نظر رکھنے والے جنوبی ہند کے عظیم رہنمااور ڈی ایم کے سربراہ ڈاکٹر ایم کروناندھی کا طویل علالت کے بعد94برس کی عمر میں چنئی کے کاویری اسپتال میں چل بسے۔کرونا ندھی کی موت کی خبر سن کرپوری ریاست اورانکے مداحوں میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئ۔وزیر اعظم نریندر مودی، صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے ان کی موت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے کرونا ندھی کے اہل خانہ اور اعزہ و اقارب سے اظہار ہمدردی کیا۔اہم سیاسی رہنماؤں کی جانب سے   کروناندھی کی موت پر اظہارِافسوس کا سلسلہ ری ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی خلوص خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کو صبر کی تلقین کی۔مشہور فلمی اداکار کمل ہاسن نے کروناندھی کی موت کو انتہائی تکلیف دہ بتایا۔انہوں نےکہا کہ کروناندھی  سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ بہترین قلمکار بھی تھے۔ان کی رہائش پرپارٹی کے حامیوںاور ان کے مداحوں زبردست بھیڑ جمع ہو رہی ہےجس کے پیش نظر رپیڈ ایکشن فورس تعینات کردی گئی۔۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کرناٹک کی ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے فی الحال تمل ناڈو  کیلئے اپنی خدمات  بند کر دی۔کانگریس نے اپنے ٹوئٹر پر کروناندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کےسیاسی کارناموں کو یاد کیا۔ کانگریس نے کروناندھی کو ڈائنامک لیڈر قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ کروناندھی نے تامل ناڈو اور ملک کے لیے جو کچھ کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اشوک گہلوت، سی پی جوشی، رجنی کانت اور سہواگ نے خراج عقیدت پیش کیا۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ہستیوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوت، کانگریس سینئر لیڈر سی پی جوشی، مشہور و معروف اداکار رجنی کانت اور ہندوستان کے سابق کرکٹر ویریندر سہواگ نے ٹوئٹ کے ذریعہ اظہار افسوس کرتےہوئےڈاکٹرکروناندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔کروناندھی کے جسد خاکی کو ان کی رہائش گوپال پورم لے جایا جائے گاجہاں عوام کے دیدار کیلئے راجہ جی ہال میں رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کل شام ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ یہ رسومات چنئی کے مرینا بیچ پر ادا میں ہوں گی۔
کروناندھی کا سیاسی سفر
کرونا ندھی3جون  1924کوتھنجاور م (ناگاپٹنم) میں پیدا ہوئے۔سب سے پہلے 1957میں اسمبلی انتخابات میں منتخب ہوئے اس وقت جواہر لال نہرو ہندوستان کے وزیر اعظم تھے۔1967میں سیڈا پیٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئےبعد ازاں 1977اور 1980سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔وہ تاحیات رکن اسمبلی کا الیکشن جیتتے رہے۔ 2016میں تھرورو سے منتخب ہوئے۔ 5مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی کے منصب پر فائز رہے۔1973میں ریاست تمل ناڈو کے تمام اسکولوں میں ہندی زبان کو لازمی قراردیا۔
مزید پڑھیں:- - - - -جوسف کی سپریم کورٹ جج کے بطور حلف برداری

شیئر: