حج ، حرمتوں کی پاسداری کی تربیت

  مسافرِ حج جب کعبہ کی حرمت کو تصور میں لاتا ہے تو مسلمان بھائی کی حرمت فوراً اس کے حیطۂ خیال میں آ جاتی ہے
 * * *اِرشاد الرحمن ۔ ہند* * *
    اللہ تعالیٰ نے انسان سے اپنی عبادت کا مطالبہ کیا تو اس کیلئے مواقع کا اہتمام بھی کردیا کہ کسی نہ کسی موقعے سے انسان فائدہ اٹھا لے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عبدیت کا اظہار کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے روز ایک ’’ساعتِ خاص‘‘ رکھ دی جس میں مومن اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگنا چاہے تو اْسے عطا ہو جائے۔ رات کے لمحاتِ پْرسکون میں رات کا پچھلا پہر انسان کیلئے دعا و مناجات اور ادائے نوافل کیلئے مخصوص کر دیا۔ ہفتے کے7 دنوں میں جمعہ کا دن ’’یومِ خاص‘‘ قرار پایا۔ سال کے12مہینوں میں رمضان کا ماہِ مبارک خیر و برکات اور نزولِ رحمات کا وقتِ خاص ٹھہر ایا۔12مہینوں کی تمام شبانہ عبادتوں پر لیلۃ القدر کی عبادت کو فوقیت و برتری عطا ہوئی۔ سال کے تمام دنوں پر ’’یومِ عرفہ‘‘ کو فضیلتِ خاص حاصل ہوئی۔ رمضان کے آخری 10دنوں کا عشرہ عبادت کے حریصوں اور مغفرت کے طلب گاروں کیلئے عفو عام کا عشرہ بنادیا گیا اور ذوالحجہ کا پہلا عشرہ افضل قرار دے کر زائرین حرم اور عازمین حج و عمرہ کیلئے رحمتوں بخششوں کا دَر کھول دیا گیا۔
    یہ خالق کائنات کی رحمتِ خاص ہے کہ اْس نے انسانیت کو جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچانے کے ہزاروں وسیلے پیدا کر دیے۔ ارکانِ اسلام میں حج پانچواں رکن ہے۔ اس کی ادائیگی زندگی میں ایک بار فرض ہے مگر قبولیت کا اجر گناہوں سے ایسی پاکیزگی حاصل ہو جانا ہے جیسے ماں کے بطن سے جنم لینے والا بچہ گناہوں کی آلائشوں سے پاک و صاف ہوتا ہے۔ اخراجاتِ حج کی استطاعت نصیب ہوتے ہی جو شخص اس فریضے کی ادائیگی میں جلدی کرے گا اْس کیلئے بے شمار انعامات کا وعدہ لسانِ نبوت علیٰ صاحبہا الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا ہے۔ حج کے اخراجات میں صَرف ہونے والی دولت کو کئی گنا اضافے کا شرف حاصل ہوجاتا ہے۔ جس طرح انفاق فی سبیل اللہ کا اجر 700 گنا تک ہے ،حج پر صَرف کی گئی دولت پر بھی ایسے ہی اجر و ثواب کا وعدہ ہے۔
    حج گناہوں کا کفارہ اورخطائوں کا مداوا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: 
    ’’جس شخص نے اس بیت اللہ کا حج کیا، اور اس دوران میں کوئی شہوانی فعل اور کوئی بدعملی نہ کی تو وہ ایسی پاک صاف حالت میں واپس آئے گا جیسے اْس دن تھا جب اْس کی ماں نے اْسے جنم دیا تھا۔‘‘(بخاری)۔
    نیز فرمایا:
    ’’رکن یمانی اور حجر اسود جنت کے یاقوت میں سے2یاقوت ہیں،اللہ تعالیٰ نے ان کو بے نور کررکھا ہے، اگر اللہ انھیں بے نور نہ کرتا تو یہ مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا کو روشن کر دیتے۔‘‘(ترمذی)۔
    پیغمبر رحمتﷺ نے فرمایا:  
    ’’ان دونوں کا بوسہ لینا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘(ترغیب)۔
    حج کی جزا عظیم ہی نہیں عظیم تر ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا:
     ’’کوئی شخص ایک بار لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ  کہتا ہے، یا کوئی شخص ایک بار اللہ اکبر کہتا ہے تو اْس کو جنت کی خوش خبری دے دی جاتی ہے۔‘‘(بخاری)۔
     رسول اللہﷺ نے فرمایا:
     ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کی جزا تو جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘(بخاری)۔
    حج کو مقبول و مبرور بنانے والے اعمال میں اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
    ’’ان گنتی کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو اپنا معمول بنائے رکھو۔‘‘(البقرہ  203)۔
    گنتی کے اِن دنوں کے بارے میں رسول کریمﷺ نے فرمایا:
    ’’دنوں میں کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کو عملِ صالح کی انجام دہی ان دنوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو،یعنی ذوالحجہ کے پہلے 10 روز۔ ‘‘
    لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ ! جہاد فی سبیل اللہ بھی زیادہ محبوب نہیں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    ’’جی ہاں، جہاد فی سبیل اللہ بھی محبوب تر نہیں، اِلَّا یہ کہ کوئی آدمی اپنی جان و مال لے کر اللہ کی راہ میں نکل جائے اور پھر ان میں سے کوئی شے بھی واپس نہ آئے۔‘‘(بخاری)۔
    اس عشرہ ذی الحجہ کے دوران انجام پانے والی عظیم ترین عبادت، حج کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
    ’’حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں،جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اْسے خبردار رہناچاہیے کہ حج کے دوران اُس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا،سفرحج کیلئے زادِراہ ساتھ لے جائو، اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔‘‘(البقرہ197 )۔
    رسول اللہﷺنے اپنے خطبۂ حج میں بہت سی اہم اور عظیم ہدایات سے انسانیت کا دامن لبریز کیا ہے۔ انسانوں کو یاد دلایا کہ تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی کسی سے اعلیٰ و برتر نہیں  سوائے اس کے کہ وہ تقویٰ و پرہیزگاری میں آگے ہو، یہ رنگ و نسل کی برتری، یہ قبیلہ و کنبہ کی کہتری، یہ آبائو اجداد پرفخرومباہات اور علاقہ و خطہ پر ناز سب باطل قرار دئیے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺسے تمسک کو لازم اور تمام مسائل کا حل قرار دیا۔
     ہر مسلمان کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس امت کے آخری لوگوں کی حالت بھی ایسے نسخے پر عمل سے بہتر ہو گی جس پر عمل کرنے سے پہلے لوگوں نے دنیا میں سرفرازی پائی تھی۔ یہ نسخہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺہے۔ یہی امت کی سربلندی و سرفرازی، امن و امان اور ترقی و استحکام کا ذریعہ ہے۔
    تقویٰ سے بہتر کوئی سامانِ سفر نہیں اور تقویٰ کے معنیٰ رب کی نافرمانیوں سے اجتناب ہے۔ معاصی سے دور رہنا ہے، محرمات سے ہر صورت اجتناب کرنا ہے۔ اعمالِ حج کی انجام دہی کے دوران منہیات و ممنوعات سے بچنا اور اْن کا ارتکاب نہ کرنا ہی حج کو حج مبرور بناتا ہے۔ یہ موقع انسان کے اندرونی جذبات اور بیرونی مظاہرات کے امتحان کا موقع ہے۔ تقویٰ اس امتحان میں کھل جاتا ہے۔ حرماتِ الٰہی کی تعظیم کو ایمان و عمل کا حصہ بنا کر اعمالِ حج انجام دینا مطلوب و محمود ہے۔ یہ تقاضا اور مطالبہ ہے اللہ بزرگ و برتر کا حجاج کرام سے۔ فرمایا :
     ’’اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘(الحج32 )۔
     ’’اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے گا تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کیلئے بہتر ہے۔‘‘(الحج 30)۔
    آیت ِ مذکور میں’’حرماتِ اللہ‘‘ کیا ہیں؟ رسول اللہﷺنے فرمایا:
    ’’اس شہر مکہ کی حرمت کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیاہے، اس کے درختوں سے کانٹا تک نہیں توڑا جا سکتا، اس کے حدود میں موجود شکار کا جانور بھگایا نہیں جا سکتا، اْس کے حدود میں گری پڑی چیز کو وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو اْس کے مالک کو جانتا ہو۔‘‘ (بخاری)۔
    رسول کریم ﷺنے اسی طرح کے الفاظ مدینہ منورہ کے بارے میں فرمائے کہ مدینہ یہاں سے وہاں تک حرم ہے، اس کے درختوں کو کاٹا نہیں جا سکتا، یہاں کوئی فساد برپا نہیں کیا جا سکتا، جو شخص بھی یہاں کوئی فساد انگیزی کرے گا وہ اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق ہو گا۔‘‘(بخاری)۔
    حرماتِ الٰہیہ کی تعظیم مومن کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ مسافرِ حج جب کعبہ کی حرمت کو تصور میں لاتا ہے تو اْس کے مسلمان بھائی کی حرمت فوراً اس کے حیطۂ خیال میں ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ اْسے یاد آ جاتا ہے کہ مسلمان کی عزت و آبرو اور اس کا خون اور مال سب محرماتِ الٰہی ہیں۔ سیدناعبداللہ بن عمرؓنے ایسے ہی موقع پر کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا:
    ’’اے کعبہ! تو کس قدر عظمت والا ہے، تیری حرمت کس قدر عظیم ہے، مگر مومن اللہ کے نزدیک تجھ سے بڑھ کر حرمت رکھتا ہے۔‘‘
    رسول اللہ ﷺنے خطبۂ حجۃ الوداع آج کی مہذب و ترقی یافتہ انسانیت کیلئے حیات آفریں ہے۔ حرمتوں کی پاسداری سے متعلق حصہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ آج مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے لے کر جنوب تک جانی، مالی اور عزت و آبرو کی حرمتوں کو جس بری طرح پامال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ آج کوئی حرمت تقدس کی حامل نہیں رہی۔ ہر حرمت کو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے پامال کیا جاتا ہے۔ جانیں قتل ہو رہی ہیں مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مال و دولت اور اسباب و اثاثے لوٹے جا رہے ہیں، آبروئوں کی حرمت محفوظ نہیں رہنے دی جاتی۔ گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، مقدس مقامات (مساجد ہوں یا کلیسا و کنیسہ) سب تباہ کن جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ عالم اسلام کے اندر قتل وغارت گری کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، یہاں تو انسانی جان کا احترام و حرمت بالکل ناپید ہے۔ ایک شریعت، ایک قانون، ایک دین اور ایک ایمان کے حامل افراد، ایک جیسی قومیتیں رکھنے والے مسلمان باہمی جنگوں میں جھونک دئیے گئے ہیں۔ عراق و شام کے اندر خون کی ہولی کھیلی گئی ہے اور اب تک جاری ہے۔ فلسطین کے مظلوم مسلمان غزہ کے اندر اپنی ہی سرزمین پر تباہی و ہلاکت سے دوچار کیے گئے، بچے بوڑھے عورتیں اور جوان اسرائیلی درندگی کا جس بہیمانہ ووحشیانہ انداز میں شکار ہوئے اْس نے10 ہزار کے قریب انسانی جانوں کو مفلوج کر دیا اور 2ہزار معصوموں کی جان لے کر صہیونی درندگی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔
    رسولِ رحمتﷺنے اپنے خطبے میں انسانی جان (خون)، مال اور عزت و آبرو کو جس بلیغ انداز میں حرام ٹھہرایا وہ قابل صد توجہ ہے۔ فرمایا:
    ’’تمہارے خون، تمہارے مال و دولت اور تمہاری عزت و آبروئیں اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کاتمہارا یہ دن (یومِ عرفہ) تمہارے اس شہر میں اس ملک کے اندر قابل احترام ہے۔‘‘
     رسول اللہﷺ نے حاضرین و سامعین کو یہ یاددہانی کراتے ہوئے کہ جس طرح تمہارے نزدیک یہ یومِ عرفہ حرمت کا حامل ہے، یہ شہر مکہ حرمت رکھتا ہے، یہ ملک تمہارے نزدیک قابل احترام ہے، انسانی جان و مال اور عزت وآبرو بھی اسی طرح قابل احترام ہیں۔
    خطبۂ حجۃ الوداع میں محسن انسانیتﷺ نے مجمع عرفات کو خصوصی طورپر متوجہ کرکے فرمایا:
    ’’میرے بعد کفر کی طرف واپس نہ چلے جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو۔ ‘‘
    رسول کریم ﷺنے یہ خبرِ صادق بھی دی کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائیاں اور جنگ و جدال شیطان کی کارستانی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :
    ’’شیطان اس بات سے تو مایوس ہو چکا کہ جزیرۂ عرب میں نمازی اس کی عبادت کریں گے مگر وہ ان کے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے میں کامیاب ہو گا۔‘‘
    حاجیوں کے رمی جمرات (کنکریاں مارنے) کا عمل اپنے اندر بلیغ درس رکھتا ہے کہ ہم شیطان کے پیدا کردہ وسوسوں کو بھی اسی طرح کنکر مار کر بھگا دیں گے اور اپنے درمیان اْس کی فساد انگیزی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے تو اسے اپنا دشمن ہی سمجھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ’’درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لئے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو،وہ تو اپنے پیروکاروں کو اپنی راہ پر اس لئے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘(فاطر 6)
    شیطان کے عمل کی پیروی نہیں کی جا سکتی۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں اْن سے سخت بازپرس کریگا۔ اس عظیم جرم سے ایسے افراد کو تائب ہو جانا چاہیے کہ رسول کر یم ﷺنے اس پرسخت سزا کی وعید سنائی ہے۔ آپﷺ نے اس جرم کو عظیم جرم قرار دیا ہے۔ فرمایا:
     ’’پوری دنیا کو زوال آ جانا ایک مومن کے قتل سے ہلکا جرم ہے۔‘‘
     ہر ظالم و جابر اور قاتل و غارت گر کو یہ علم و احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی گھات میں ہے، وہ مجرموں سے انتقام لینے کیلئے تیار ہے۔ کوئی ظالم اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا۔
    امتِ مسلمہ امت واحدہ ہے۔ طرح طرح کے روابط و تعلقات افرادِ امت کو باہم جوڑتے اور ایک اجتماع بناتے ہیں۔ اس کا رب ایک ہے، رسول ایک ہے، کتاب ایک ہے، قبلہ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عبادات کے جو طور طریقے مقرر کیے ہیں، ان میں اس وحدت کی اصل اور اس کی نشوونما اور تجدید و احیا کے عوامل بے شمار ہیں۔ نماز کیلئے اذان ہو جائے تو سب کے سب جلدی سے مسجد کی طرف لپکتے ہیں۔ مسجد میں جانے کا مقصد کسی رنگ و نسل کی تفریق و امتیاز کے بغیر ایک صف میں کھڑے ہو کر رب کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے۔ پنج گانہ نماز کے بعد نمازِ جمعہ 7 دن کے بعد ایک محلے اور علاقے کے افراد کو یکجا کرنے کا سبب بنتی ہے۔
    پھر سال کے بعد نمازِ عید کی ادائیگی کیلئے ملک بھر کے مسلمان مرد و عورت اور جوان و بچے کھلے میدانوں میں جمع ہوتے ہیں۔ عید کا یہ موقع انھیں مسرت و انبساط اور فرحت و بہجت سے سرشار کرتا ہے۔ معانقے ہوں تو دلوں کا ملاپ ہوتا ہے اور مصافحے ہوں تو ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گرم جوشی اور یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عید کی مبارک باد کا تبادلہ ہوتاہے۔
    عبادات میں سے عظیم ترین عبادت حج کی ادائیگی کیلئے لوگ دنیا کے پست و بالا مقامات سے آتے اور میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ مختلف نسلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی حاضری کا مقصد نہایت عجزو انکسار کے ساتھ یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک،  لَبَّیْک لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَتَ لَکَ وَالْمُلْک، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔یہ اللہ کی عبودیت خالصہ ہے جو روئے زمین پر بسنے والے کلمہ گو مسلمانوں کو رشتۂ اخوت اور سلسلۂ محبت میں پرو دیتی ہے۔ یہ وہ رشتہ و پیوند ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو باہم جوڑ کر قائم فرمایا ہے۔ سچ فرمایا ہے اللہ رحمن و رحیم نے:
    ’’وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان کے دلوں کو نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے۔ یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔‘‘(الانفال63,62)۔
(جاری ہے)
مزید پڑھیں:- - - --فریضۂ اقامتِ د ین ، ایمان و عمل سے مشروط

شیئر: