Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بہن نے بھائی سے کہا” وہ ہتھیلی نہیں رہی جس پر تم ”خیرات“ رکھ گئے تھے“

تسنیم امجد ۔ریا ض
کتابِ ما ضی کے اوراق سے ایک اور حقیقت آپ کے سامنے پیش ہے ۔ڈاکٹر نا ئلہ ہمارے قریب ہی رہتی تھیں۔ان کا کلینک صبح 6 بجے کھل جا تا جس سے کا لو نی والو ں کو بہت آ رام تھا ۔4 بجے تک کا ٹا ئم تھا لیکن اکثر وہ رات تک بیٹھی رہتی تھیں ۔جب سے ان کے شو ہر ڈا کٹر اسلم کا انتقال ہوا تھا، انہو ں نے خود کو سو شل ورک کے خول میں بند کر لیا تھا ۔ان کے دو نو ںبیٹے ملک سے با ہر تھے۔ایک بیٹی ،آ شی، ساتھ تھی۔اس کے لئے وہ اکثر فکر مند رہتیں۔بیٹو ں کے لئے ان کی حیثیت ان کے آ با ئی گھر کی رکھوالن سے زیا دہ نہ تھی ۔وہ یہ سمجھتی تھیں لیکن خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتیں کہ ”کو ئی بات نہیں،میں نہ ہو تی تو بے چارے کیا کرتے ۔کسی غیر پر تو بھروسے کا دور نہیں۔“
ایک دن ہم نے دیکھا کہ ایمبو لنس ان کے گھر کے سامنے کھڑی ہے ۔گھبرا کے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر نا ئلہ کے لئے آ ئی ہے۔ وہ اچا نک بے ہو ش ہو گئی تھیں ۔سارے ٹیسٹ ہو نے کے بعد معلوم ہوا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے ۔اس پر بیٹی کی تڑپ ہم سے دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔اس نے فو راً بھا ئیو ں کو فو ن ملا یا تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں معلوم ہے ۔ما ں بھی جا نتی تھیں ۔آپ کو بتانے سے منع کیا تھا ۔ابا کے انتقال کے بعد جلد ہی اس بیماری کا علم ہو گیا تھا ۔پھر بھی آپ کو ا حساس نہیں ہوا کہ ان کے پاس آ جائیں یا انہیں اپنے پاس بلا لیں ۔آپ دو نو ں کے لئے وہ بہت ہی تڑ پتی ہیں۔وہ چیخے کہ کیا کریں،ملازمت چھو ڑ کر کیسے آ جا ئیں ۔گھر بھی کس کے حوالے کیا جا ئے ؟ ہم لو گو ں کا اور تمہاری بھا بیو ں کا قیمتی سامان رکھا ہے ۔ وہ ان کی بے حسی پہ ششدر رہ گئی ۔پھر جب ماں گھر آئیں تو بیٹی پھو ٹ پھو ٹ کران سے شکوہ کرنے لگی کہ آپ نے مجھے کیو ں نہیں بتایا؟
ہمیں ان دو نو ں ما ں بیٹیو ں پر ترس آ یا۔ اسی لئے کچھ آ نا جانا زیادہ کر دیا ۔کچھ نہ کچھ پکاکرلیڈی ڈا کٹر کے لئے لے جا تے ۔انہیں کریلے پیاز کی بھجیا بہت پسند تھی ۔وہ کہتیں کہ یہ سبزی محنت ما نگتی ہے ۔اس لئے مجھ سے نہیں پکتی ۔
اسی طرح وقت گزر رہا تھا ۔ایک دن وہ بہت خوشدکھائی دیں کہ چھو ٹا آ رہا ہے ۔آ شی بھی بھا گی پھر رہی تھی۔بھا ئی بھا بی کےلئے ان کے کمرے میں ان کی ضرورت کی اشیاءرکھتے ہو ئے خو شی سے گنگنا بھی رہی تھی ۔ڈاکٹر نا ئلہ نے مجھ سے بھی کچھ پکا کر لانے کی فر ما ئش کی۔مجھے اچھا لگا کہ وہ اس طرح مجھے اپنا جا ننے لگی ہیں ۔
شام کا کھانا ہم نے ایک ساتھ کھایا۔چھو ٹا صرف ایک ہفتے کے لئے آ یا تھا ۔ماںکے لئے اس کی واپسی کی سوچ بھی بہت تکلیف دہ تھی ۔اس نے دبے لفظو ں میں بتایا کہ اب اس کے بچوں کے اخراجات بھی بڑ ھ گئے ہیںاس لئے وہ با قاعدگی سے پیسے نہیں بھیج سکتالیکن آپ کے بھیجے ہوئے پیسے تو امی کی دواﺅ ں کے لئے ہی ہو تے ہیں ،آشی نے کرب آمیز لہجے سے کہا ۔بھائی نے جواباً کہا کہ ہا ں! وہ میں بڑے سے بات کروں گا کہ وہ زیادہ بھیج دے ۔
جس دن اس کی واپسی تھی ،ماں نڈ ھال پڑی تھی ۔چھو ٹے نے گھر سے نکلنے سے پہلے اس کی ادھ کھلی مٹھی میں چند نو ٹ تھما دیئے۔ کچھ بڑبڑایا اور کسی جواب کے انتظار کے بغیر چلا گیا ۔ماں کو ہوش آ یا تو اس کے جا نے کا سن کر بولیں، نہ جانے پھر کب آ ئے گا ۔منہ ہی منہ میں اس کے لئے دعا ئیں ما نگتی رہی اور آ شی سے بو لیں کہ اسے فون کروکہ پہنچ کر خیریت کی اطلاع ضرور دے ۔پھر مٹھی میں دیئے ہوئے پیسوں کوپیار سے دیکھنے لگیںاوربولیں، اس پر چھو ٹے کے ہاتھ لگے ہیں انہیں سنبھال کر رکھنا ۔آ شی قریب بیٹھی رونے لگی ۔تھو ڑی دیر بعدہمیں اس کی چیخیں سنائی دیں، ہم وہاںپہنچے تو آشی کی والدہ زندگی کی قید سے آزاد ہو چکی تھیں۔ نو ٹ بستر پر بکھرے پڑے تھے جنہیں آشی پھاڑ پھاڑ کر پھینک رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ایسے تو کوئی بھیک بھی نہیں دیتا جیسے یہ بھائی اپنی ما ں کوپیسے دیتے ہیں ۔آشی نے ماں کا حکم بجا لاتے ہوئے چھوٹے بھائی کو فون کر دیا کہ امی کہہ رہی تھیں کہ پہنچ کر اپنی خیریت کی اطلاع کر دینا۔ ویسے اب فون نہ بھی کرو تو کوئی بات نہیں ، اب پیسے بھیجنے کی بھی ضرورت نہیںکیونکہ ماں اس دنیا سے جا چکی ہیں، اب وہ ہتھیلی نہیں رہی جس پر تم جانے سے پہلے ”خیرات“ رکھ گئے تھے ۔
آشی سوچ رہی تھی کہ ابا کے بعد اس ما ں نے کس طر ح اپنے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کیلئے کہا ۔تب تو وہ ملا زمت کرتی تھیں۔ انہوںنے سب کچھ ان بیٹوںپر لگا دیا ۔کاش اما ں میری تعلیم مکمل ہو نے دیتیں۔بی اے کے بعد ایم اے کر لیتی تو آ ج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے ۔بیچلرز کو ملاز مت کہا ں ملتی ہے ۔ہم سو چنے لگے کہ ایسے بیٹو ں کوایک دن یہ ضرور سوچنا پڑے گا کہ:
 ہوا ہے تجھ سے بچھڑ نے کے بعد یہ معلوم 
کہ تو نہیں تھی ،ترے ساتھ ایک دنیا تھی 
کاش اس حقیقت کا ادراک کر لیا جا ئے کہ والدین کا وجود ہی خاندان کا دوسرا نام ہے ۔ان کے بغیر شیرازہ بکھر جا تا ہے ۔ان کے بعد اکثر سننے میں یہی آ تا ہے کہ بہن بھا ئی بر سو ں ایک دوسرے سے نہیں ملے ۔نہ جا نے اولاد والدین کی خدمت کا فرض جا نتے ہوئے بھی ان کی محبت کو ٹھکرا نا اپنا حق کیو ں سمجھتی ہے جبکہ ایک دن اسے بھی اپنی اولاد سے اس کئے کا بد لہ مل جا تا ہے ۔
ہم دو دنیا ﺅ ں میںجینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایک ہمارے اندر کی دنیا جہا ںاپنو ں سے محبت ہے اور ایک با ہر کی جس کے مسائل سے ہم ہر لمحہ خوف زدہ رہتے ہوئے اندر کی محبتو ں کوتھپک تھپک کرسلا دیتے ہیں۔یہی ہماری سوچ کا منفی پہلو ہے ۔کاش ہم جان جا ئیں کہ محبتیں ہماری زندگی کی گا ڑی کا ایندھن ہیں۔کامیاب زندگی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقی محبت کو سمجھیںاور اس کی قدر کریں ورنہ بکھرنا ہمارا مقدر ہوجائے گا ۔ہمارے رشتے اورخا ص کر وا لدین کا وجود کسی خزا نے سے کم نہیں، ان کی دعا ئیں آبِ زم زم کی ما نند ہیں۔
 

شیئر: