اللہ کے رسول ﷺ کیلئے ڈھال بننے والے، سیدنا شَمَّاسؓ

 احد کے دن رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ مجھ پر جس طرف سے بھی حملہ ہوا،شماس نے آگے بڑھ کر میرا بچاؤ کیا‘‘

 

* * * عبدالمالک مجاہد۔ریاض** *
 غزوہ احد کے شہداء میں سیدناشماس بن عثمان مخزومی قریشی  ؓ بھی تھے، یہ مکہ مکرمہ کے بہت بڑے سردار اور زمیندار عتبہ بن ربیعہ کے بھانجے تھے۔والدہ کا نام صفیہ بنت ربیعہ تھا۔ ان کا ماموں سردار عتبہ بن ربیعہ مشہورخاتون ’’ہند ‘‘کا باپ اور ابوسفیان کا سسر تھا۔ عتبہ دنیاوی امور میں بہت ہی سمجھ دار اور داناتھا مگر شقاوت اس پر غالب آگئی اور بدر کے میدان میں مشرکین کی طرف سے لڑتا ہوا واصل جہنم ہوا۔ اسکی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اسلام سے بہت قریب تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اس کے کئی ایک مکالمات بھی ہوئے۔بدر کے میدان میں بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اسے ایک سرخ اونٹ پر دیکھ کر فرمایا تھا :
    ’’ اگر قوم میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو سرخ اونٹ والے کے پاس ہے۔‘‘
     یہ خود تو مسلمان نہ ہوسکا مگر اس کا بیٹا ضرور مسلمان ہوگیا، وہ بدر میں مسلمانوں کی طرف سے شریک تھا۔
    قارئین کرام! میں جب سیرت سرور کونینﷺ  کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے خوشی بھی ہوتی ہے اورتعجب بھی کہ اللہ کے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں کتنی بڑی بڑی کامیابیوں سے نوازا کہ بعض بڑے گھرانوں کے لوگوں نے اوائل ہی میں اسلام قبول کرلیا۔قریشی خاندان کے لوگ اپنی بعض صفات میں عام لوگوں سے قدرے نمایاں تھے۔ قریشیوں کی ایک خوبی ان کا خوبصورت ہونا بھی تھا۔سیدنا شماس بن عثمانؓ مکہ کے ان نوجوانوں میں سے تھے جو نہایت خوبصورت تھے۔اصل نام عثمان اور والد کا نام بھی عثمان تھا۔
    زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ عیسائیوں کے بعض پادری مکہ مکرمہ آئے۔ ان میں ایک پادری نہایت خوبصورت تھا۔ مکہ کے لوگوں نے اسے دیکھا تو اس کی خوبصورتی پر بڑے متعجب ہوئے۔ اس پادری کا نام شماس تھا۔ عتبہ بن ربیعہ جو کہ عثمان کا ماموں تھا کہنے لگا : ٹھہرو!میں تم لوگوں کو اس سے بھی زیادہ خوبصورت نوجوان دکھاتا ہوں۔
     وہ اپنی بہن صفیہ کے گھر گیا اور اپنے بھانجے عثمان کو لے آیا۔ لوگوں نے جب اسے دیکھا توکہا: واقعی یہ نوجوان اس عیسائی شماس سے زیادہ خوبصورت ہے چنانچہ مکہ کے لوگ عثمان مخزومی کے اصل نام کو بھول گئے اور اسے شماس بن عثمان مخزومی کے نام سے یاد کرنے لگے۔
    اللہ کے رسول ﷺنے جب نبوت کا اعلان کیا تو جن لوگوں نے شروع ہی میں اسلام قبول کرلیا ان میں سیدنا شماس بن عثمان بھی شامل تھے۔ یہ دور ہی ایسا تھا کہ جس جس نے اسلام قبول کیا اسے خوب ستایا گیا حتیٰ کہ مسلمان مجبور ہوگئے کہ وہ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں ان کا دین و ایمان اور جان سلامت رہے۔اللہ کے رسول ﷺکے مشورہ پر جن لوگوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ان میں سیدنا شماس بن عثمان مخزومی  ؓبھی شامل تھے۔
    کہنے اور لکھنے کو تو ہجرت کا لفظ بڑا آسان لگتا ہے ،مگر جو لوگ عملاًاس تجربہ سے گزرتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے گھر بار ، کاروبار اور اعزہ واقارب کو چھوڑنا کس قدر مشکل کام ہے۔حبشہ میں کچھ مدت گزار کر سیدنا شماسؓ واپس مکہ مکرمہ آگئے اور جلد ہی بعد میں انکو دوسری ہجرت یعنی ہجرت مدینہ منورہ کا شرف حاصل ہوتا ہے۔یہاں وہ مبشر بن عبدالمنذر کے گھر میں ٹھہرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے حنظلہ بن ا بی عامر کے ساتھ ان کی مواخات فرما دی ۔
      2 ہجری میں غزوہ بدر ہوا تواس غزوہ میںسیدنا شماسؓ  بھی شریک ہوتے ہیں اور خوب داد شجاعت دیتے ہیں۔ سبحان اللہ! کیسا منظر ہوگا کہ سگا ماموں قریش کے لشکر میں اور اس کا محبوب بھانجا مسلمانوں کی فوج میں ہے۔ بلاشبہ یہ دن یوم الفرقان تھا، یہ حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دینے والا دن تھا۔
    3 ہجری میں جب غزوہ احد ہوا تو دیگر صحابہ کرامؓ  کیساتھ سیدنا شماس بن عثمانؓ بھی میدان جنگ میں شامل تھے۔ ان کی عمر اس وقت 34 برس تھی ۔گویا بھر پور جوانی تھی۔ ان کی دیگر خوبیوں کے ساتھ ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ سے شدید محبت کرتے تھے اس لئے غزوہ احد میںوہ ہر وقت اللہ کے رسول ﷺ کی قریب ہی رہتے تھے۔ مسلمانوں کو جب شکست کا سامنا کرنا پڑا ، بھگڈر مچ گئی تو اس کٹھن وقت میں وہ گنتی کے صحابہ کرام جو اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ ساتھ رہے اور آپﷺ  کا بھرپور دفاع کرتے رہے، ان میں سیدنا شماس بن عثمانؓ  بھی شامل تھے اسی لئے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: 
    {’مَا وَجَدْتُ لِشَمَّاسٍ شَبَھًا إِلَّا الْجُنَّۃَ}۔
    ’’ میں نے احد کے دن شماس کو اپنے لئے ایک ڈھال کی طرح دیکھا۔‘‘
    اللہ کے رسول ﷺ دائیں بائیں جس طرف دیکھتے انہیں سیدنا شماسؓ  آپ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے۔ سیرت نگاروں نے جو کچھ لکھااسے پڑ ھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا شماسؓ  نہایت چاق وچوبند تھے۔ بھاگ بھاگ کر دشمن کا مقابلہ کرتے۔ جب دشمن بھاگ جاتا تو پھر اللہ کے رسول ﷺکے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے ۔ بلاشبہ یہ نہایت مشکل وقت تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ  زخمی ہوچکے تھے۔ بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ پر غشی بھی طاری ہوئی تھی۔ اس کٹھن وقت میں سیدنا شماسؓ اللہ کے رسول ﷺ  کا دفاع کرنے میں نہایت جاں نثارانہ کردار ادا کرتے ہیں۔
    قارئین کرام! جن صحابہ کرام کو یہ شرف اور مرتبہ ملا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺکو بچاتے ہوئے آپﷺ  کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی ان میں سیدنا شماس بن عثمان بھی شامل ہیں۔یہ مقام ومرتبہ، یہ عزت وشرف کسی اعلی نصیب والے کو ہی ملتا ہے۔ ایک اور روایت میں آپﷺ کے یہ الفاظ بھی ہیں: 
    {’مَا أُوتِي مِنْ نَاحِیَۃٍ إِلَّاوَقَانِي بِنَفْسِہ}۔
     ’’ مجھ پر جس طرف سے بھی حملہ ہوا(شماس نے) آگے بڑھ کر میرا بچاؤ کیا۔‘‘
    سیدنا شماسؓ  کو اس غزوہ میں بہت سارے زخم آئے۔زخموں سے نڈھال ہوکر وہ زمین پر گر جاتے ہیں۔ ان کا خون کثرت سے بہہ رہا ہے۔ زخموں کی شدت سے وہ بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ بہت سارے دیگر شہداء کی طرح ان کو بھی شہید سمجھ لیا جاتا ہے۔
    میدان جنگ میں شام کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ دشمن اپنی جنگ ادھوری چھوڑ کر مکہ کی راہ لے رہا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا ہے کہ وہ زخمیوں کی دیکھ بھال کریں۔ بعض زخمیوں کو مدینہ منورہ منتقل کیا جارہا ہے۔ سیدنا شماس بن عثمانؓ کو صحابہ کرام نے دیکھا کہ ان کی سانس ابھی چل رہی ہے تاہم وہ بے ہوش ہیںاور بات چیت نہیں کررہے ۔ اللہ کے ر سول ﷺ کے حکم پر انہیں فوری طور پر مدینہ طیبہ میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓکے گھر منتقل کیا جاتا ہے ۔جیسے ہی یہ سیدہ کے گھر پہنچے۔ پورے مدینہ کے گھر گھر میں شماس کے زخمی ہونے کی اطلاع پہنچ جاتی ہے۔
    سیدہ ام سلمہؓ جو بعد میں ام ا لمؤمنین بننے کا شرف حاصل کرتی ہیں شماس کی چچا زاد بہن تھیں۔ ان کا تعلق بھی بنو مخزوم سے تھا۔وہ فوراً ہی سیدہ عائشہؓ کے پاس پہنچیں اور ان سے کہیں:
    ’’ شماس میرا چچا زاد ہے لہذا اسے میں اپنے گھر لے جانے کے لئے آئی ہوں۔‘‘
    انہوں نے اجازت دے دی تو صحابہ کرام انہیں بے ہوشی ہی کے عالم میں سیدہ ام سلمہؓ کے گھر پہنچادیتے ہیں۔
    ایک روایت کے مطابق سیدہ ام سلمہؓ  کو جب معلوم ہوا کہ شماس کوزخمی حالت میں مدینہ لایا گیا ہے تو فرمانے لگیں:
    ’’کیا میرے اس چچا زاد کی میرے علاوہ کسی اور کے گھر میںدیکھ بھال کی جائے گی؟!۔‘‘
    چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    { ’ احْمِلُوہُ إِلٰی أُمِّ سَلَمَۃ}۔
     ’’ اسے ام سلمہ کے گھر لے جاؤ۔‘‘
    شماس بن عثمانؓ  کو سیدہ ام سلمہ کے گھر لایا گیا ۔ یقینا ان کے علاج ومعالجہ اور تیمار داری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ تمام ممکنہ علاج کیا گیا۔ اس دوران شماسؓ نے کچھ کھایا نہ پیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ مسلسل بے ہوش رہے۔ایک دن اور رات گزرنے کے بعد وہ مقام شہادت پر فائز ہوجاتے ہیں۔
    ان کے دفن کے حوالے سے روایات دونوں طرح کی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ان کو بقیع الغرقد میں دفن کیا گیا اور دوسری روایت کے مطابق اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا کہ شماس کی میت کو احد کے میدان میں لیجایاجائے چنانچہ ان کو اسی حالت میں نیا کفن دیے بغیر اور کپڑے تبدیل کئے بغیر احد کے میدان میں انہی خون آلود کپڑوں کے ساتھ دوسرے شہداء کے ساتھ دفن کردیا گیا۔
    قارئین کرام! اپنی جان کو اللہ کے رسول ﷺ پر قربان کرنے والے شماسؓ زخمی حالت میں بغیر کھائے پیئے 24 گھنٹے یا اس سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ یقینا بھوک تو لگی ہوگی مگر اللہ تعالیٰ نے شہداء کیلئے کچھ خاص ہی انتظامات کررکھے ہوتے ہیںجن تک ہماری رسائی نہیں۔
    سیدنا حسان بن ثابتؓ اور ان کی بہن فاختہ نے ان کی شہادت کے بعد اپنے اشعار میں انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
    سیرت نگاروں کے مطابق سیدنا شماسؓ  شادی شدہ تھے۔ ان کی اہلیہ کا نام ام حبیب بنت سعید مخزومیہ تھا۔ام حبیب نہ صرف مسلمان تھیں بلکہ اولین مہاجرات میں شامل تھیں۔سیدناشماسؓ کے ایک بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ  پر جان قربان کرنیوالے اس مہاجر مجاہد شہید پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو مزید بلند فرمائے، آمین ثم آمین۔
 
مزید پڑھیں:- - - -ما بعد حج زندگی کیسے گزاریں

شیئر: