محرم الحرام ، تاریخ کے آئینے میں

طلوع اسلام سے قبل بھی تاریخِ انسانیت کے بے شمار واقعات محرم الحرام میں رونما ہوئے یہ واقعات محض اتفاقی یا حادثاتی نہ تھے
 
 * ** محمد ابو سفیان حسینی۔پاکستان * * *
  ہمارا نظریہ دینِ اسلام ہے۔ اس کی بنیاد علاقائیت ، وطنیت ، نسل پرستی یا زبان نہیں بلکہ ہمارا دین اسلام یہ نہ صرف مذہب ہے بلکہ ضابطہ حیات ہے، ہر قوم کا کوئی نہ کوئی کیلنڈر رہا ہے۔ یہودیوں کا سن3700ق م سے شروع ہوتا ہے۔عیسوی سن کی ابتداء حضرت عیسیٰؑ کے یوم ولادت سے ہوتی ہے۔ اس طرح بکرمی سن کی ابتداء مہاراجہ بکر ما جیت کو ساکھا قوم پر فتح حاصل ہونے کے واقعے سے ہوتی ہے۔ اس طرح سن ہجری حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ ہجرتِ مدینہ کی یاد دلاتا ہے۔
     مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا یہ سفر 8 ربیع الاول کو ہواجو عیسوی سن کے مطابق 20ستمبر622کا واقعہ ہے۔یہیں سے اسلامی سال کی ابتداء ہوتی ہے جس کو سیدنا فاروق اعظمؓ نے اپنے دورِ خلافت میں نافذ کیا اور اسی سال یکم محرم الحرام سے اسلامی سن کی ابتداء کی گئی۔گو یا پہلے اسلام صدی کی ابتداء اور آغاز16جولائی622 کو ہوا۔ اس امر میں بھی ایک عجیب حکمت پنہاں ہے کہ جب پہلی اسلامی صدی کی ابتداء ہوئی تو یکم محرم الحرام کو جمعہ کا دن تھا۔
    قمری تقویم اور اس کے فوائد:
     اگر ہم سن ہجر ی کا دوسرے مروجہ سنین سے تقابل کر کے دیکھیں تو یہ سن بہت سی باتوں میں دوسروں سے منفرد و ممتاز نظر آتا ہے۔ سن ہجری کی ابتداء چاند کو بنایا گیااور اسلامی مہینوں کا تعلق چاند سے جوڑا گیا۔ یہ تقدیم خالق کی بنائی چیزسے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں کسی پیوند کاری کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلام چونکہ سادہ ، عجزوانکساری والا آسان مذہب ہے (لاکراہ فی الدین)… لہٰذا چاند کے ذریعے ہر علاقہ کے لوگ خواہ پہاڑوں میں رہتے ہوں یا کہ جنگلوں میں …خواہ جزیرو ں میں۔ ان کیلئے آسان ہے کہ اپنے معاملات چاند کے مطابق طے کریں۔ اس میں کوئی مشکل و پیچیدگی نہیں۔
    پڑھے لکھے اور اَن پڑھ سب آسانی سے حساب کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر تقویمیں ہر آدمی آسانی سے معلوم نہیں کر سکتا جبکہ چاند ہر جگہ نکلتا ہے۔کسی مشکل حساب کتاب کی ضرورت نہیں جبکہ دوسری تاریخوں میں یہ بات نہیں۔ اسلام چوں کہ دینِ فطرت اور عدل و انصاف کا دین ہے، اس میں مساوات و ہمہ گیری ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا،کہ اسلامی مہینے ادلتے بدلتے آیا کریں لہٰذا قمری تقویم کو بنیاد قرار دیا گیا۔اگر اسلام دیگر اقوام کے طریق کواپنا لیتا یا گوارہ کر لیتا جیسے شمسی(عیسوی) تقویم توماہ صیام کسی ایک مقام پر ہمیشہ ایک ہی موسم میں آیا کرتا جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا کہ نصف دنیا کے مسلمان جہاں موسم سرد اور دن چھوٹے ہوتے ہمیشہ آسانی میں رہتے۔ اسی طرح سفرِ حج کا بھی یہی حال رہتا۔
    محرم الحرام اور تاریخ  انسانیت:
    طلوع اسلام سے قبل بھی تاریخِ انسانیت کے بے شمار واقعات محرم الحرام میں رونما ہوئے۔ یہ واقعات محض اتفاقی یا حادثاتی نہ تھے بلکہ قسام ِ ازل کا اٹل فیصلہ تھا جو ہونا تھا اور ہو کر رہا۔ ذیل میں چند اُن واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جو محرم الحرام میں ظہور پذیر ہوئے:
    ٭اس ماہ میں کائنات کی تخلیق ہوئی۔
    ٭حضرت آدم ؑ پیدا ہوئے  
         ٭حضرت آدم  ؑ کی توبہ قبول ہوئی۔
    ٭حضرت آدم  ؑ کو خلافت کا تاج پہنایا گیا (انی جاعل فی الارض خلیفہ)۔
    ٭سیدنا ادریس  ؑ کو درجاتِ عالیہ عطا ہوئے۔
    ٭کشتی نوح  ؑ وادی جودی پہ ٹھہری۔
    ٭سیدنا ابراہیم   ؑ کو منصب و مقام خلیل سے سرفراز فرمایا گیا۔
    ٭سیدنا یوسف   ؑصدیق اللہ کو جیل سے رہائی ملی۔
    ٭سیدنا یعقوب  ؑ کی بینائی لوٹائی گئی۔
    ٭سیدنا یونس  ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
    ٭فرعون غرقِ نیل ہوا اور موسیٰ  ؑ کلیم اللہ کو کامیابی عطا ہوئی۔
    ٭سیدنا عیسیٰ  ؑکو آسمان پر زندہ اْٹھایا گیا۔
    ٭اس روز قیامت آئے گی۔
    ٭اسی ماہ یوم عاشورہ کو اہلِ مکہ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھاتے تھے اور اس دن کو یوم الزینتہ کہتے تھے۔
    ٭اسی ماہ امام الانبیاء خاتم المعصومین سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند سال قبل ابرہہ بیت اللہ پر حملہ کی نیت سے نکلا، تو اللہ تعالیٰ نے ابا بیلوں کا لشکر بھیج کر اسے تباہ و برباد کر دیا۔
    محرم الحرام اور تاریخ  اسلام:
    ذیل میں ہم تاریخ اسلام کے اْن واقعات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جو محرم میں رونما ہوئے:
    ٭شعب ابی طالب کی محصوری جویکم محرم 4 نبوی۔
    ٭نکاح سیدہ فاطمہ الزہرہ ؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمراہ سیدنا علیؓ،2 ہجری۔
    ٭غزوہ غطفان 3 ہجری۔
    ٭نکاح سیدہ اْم کلثوم ؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمراہ سیدنا عثمان غنی ؓ۔
    ٭سلاطین عالم کو دعوت اسلام 7ہجری۔
    ٭غزوہ خیبر 7ہجری۔
    ٭وفد اشعرین کا قبول اسلام7 ہجری۔
    ٭نکاح ام المومنین سیدہ صفیہ ؓ  ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم۔
    ٭غزوہ وادی القریٰ 7 ہجری۔
    ٭عام الوفود 9ہجری۔
    ٭تقرر عاملین زکوٰۃ9ہجری۔
    ٭طاعونِ عمواس 18ہجری۔
    ٭امارتِ سیدنا امیر معاویہ  ؓ 19ہجری۔
    ٭خلافت سیدنا عثمان غنی  ؓ یکم محرم 24ہجری۔
    ٭فتح قبرص28 ہجری۔
    ٭خلافت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ 34 ہجری۔
    ٭جنگ صفین37 ہجری۔
    ٭فتوحات افریقہ45ہجری۔
    ٭ابو مسلم کاخراسان پر قبضہ131ہجری۔
    ٭بنو اْمیہ کا قتلِ عام133ہجری۔
    ٭قیصر روم کی شکست138ہجری۔
    ٭مسجد نبویؐ  کی توسیع161ہجری۔
    ٭ مصر پر عیسائیوں کا قبضہ309ہجری۔
    ٭نوحہ ماتم کی ابتداء352ہجری۔
    ٭ہلاکو نے بغداد کو تاراج کیا252ہجری۔
    ٭حکومت شیر شاہ سوری947ہجری۔
    ٭دارالعلوم دیوبند کا قیام15 محرم 1283ہجری۔
    ٭کعبۃ اللہ پر بے ادب ٹولے کا حملہ1400ہجری۔
    ٭صدر ضیا ء الحق کی شہادت اور حکومت کا خاتمہ1409ھ۔
    ٭بے نظیر کی پہلی حکومت کا تختہ اْلٹا 1411ھ۔
    ٭نواز شریف کو حکومت سے فارغ کیا گیا۔
    ٭ یوم فاروق اعظم ؓ کی چھٹی منظور کی گئی یکم محرم1415 ھ
    برصغیر کی ماہ محرم میں پیدا ہونے  والی چند علمی شخصیات:
    ٭امام انقلاب مولانا عبیدا للہ سندھی رحمہ اللہ ،مدفون دین پور۔
    ٭شیخ الحدیث مولانا عبدالحق رحمہ اللہ، اکوڑہ خٹک۔
    ٭شیخ الادب مولانا محمد اعزاز علی رحمہ اللہ، مدرس دارالعلوم دیو بند۔
    ٭حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ، مدفون دین پور۔
    ٭مفتی عبدالحکیم سکھروی رحمہ اللہ۔
     ماہ محرم الحرام میں وفات  یا شہادت  پانے  والی چند شخصیات:
    ٭سیدنا ابو عبیدہ  بن الجراح رضی اللہ عنہ۔
    ٭شہادتِ دامادِ علی سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ۔
    ٭شہادت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ۔
    ٭سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق رضی اللہ عنہ۔
    ٭سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔
    ٭اْم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا۔
    ٭سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ۔
    ٭شہادت ِسیدنا حسین ابن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ۔
    ٭سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
    ٭ حضرت یوسف بن تاشقین رحمہ اللہ۔
    ٭حضرت بابا فرید گنج شکررحمہ اللہ۔
    ٭مرزا مظہر جانِ جاناںرحمہ اللہ۔
    ٭علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ۔
    ٭مولانا سید اصغیر حسین رحمہ اللہ۔
    ٭شہید ملت لیاقت علی خان رحمہ اللہ۔
    ٭مولانا محمد احمد تھانوی رحمہ اللہ۔
    ٭سید منیر احمد شہیدرحمہ اللہ۔
    ٭شہادتِ سید منظور شاہ ہمدانی رحمہ اللہ۔

مزید پڑھیں:- - - -درست تلاوت، قرآن مجید کا حق

شیئر: