Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الاخوان کیخلاف انٹرویو سے خاشقجی کی گمشدگی کی گتھی سلجھ سکتی ہے

واشنگٹن۔۔۔واشنگٹن سے امریکہ روانہ ہونے سے قبل الجزیرہ چینل کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے انٹرویو کے ویڈیوکلپ نے استنبول میں ان کی گمشدگی کی گتھی سلجھا دی ۔ خاشقجی نے اپنے انٹرویو میں ایک تہلکہ خیز جملہ استعمال کیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ الاخوان المسلمون جب جب سیاست میں داخل ہوئے تب تب انہوں نے المیے جنم دئیے۔الاخوان کی قیادت کا احتساب ضروری ہے ۔ ’’خاشقجی نے امریکہ سے ترکی روانہ ہونے سے قبل الجزیرہ چینل کو جو انٹرویو دیا تھا یہ اس کا ایک جملہ ہے اس کا ویڈیو کلپ وائرل ہو گیا ہے ۔اس سے خاشقجی کی گمشدگی کی گتھی سلجھ سکتی ہے ۔اس انٹرویو میں الاخوان المسلمون دہشتگرد تنظیم کی بابت ’’خاشقجی کے حقیقی موقف کو اجاگر کرنیوالی دقیق ترین تفصیلات موجود ہیں ‘‘ ۔ویڈیو کلپ ایک منٹ 34سیکنڈ پر مشتمل ہے ۔ اس میں خاشقجی نے الاخوان المسلمون پر جس سخت لب و لہجے میں تنقید کی ہے یہ اپنی نوعیت کی پہلی ہے ۔ خاشقجی نے الاخوان سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی عمل سے دور ہو جائیں اور انہوں نے اب تک امت کو جو المیے دئیے ہیں بس اس پر اکتفاکرلیں۔خاشقجی نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں کہا ’’الاخوان المسلمون سے سیاسی عمل سے علیحدگی، تحریک کے طور پر کام جاری رکھنے ، کام جاری رکھنے اور سیاست کا میدان پیشہ ور سیاستدانوں کیلئے چھوڑ دینے کے مطالبہ کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں‘‘۔خاشقجی نے سخت لب ولہجہ میں یہ بھی کہا کہ ’’الاخوان نے جب جب سیاست میں قدم رکھا تب تب المیوں کو جنم دیا۔ یہاں میں دو تاریخی المیوں کا تذکرہ کروں  گا جن سے امت مسلمہ اور خود الاخوان المسلمون کو نقصان پہنچا۔پہلا المیہ جنگ کویت سے متعلق ان کے موقف کی وجہ سے پیدا ہوا ۔اس موقف کے باعث الاخوان اپنے اتحادی سے محروم  ہو گئے ۔ جس سے انہیں محروم نہیں ہونا چاہئے تھا۔میری مراد مملکت سعودی عرب سے ہے ۔ الاخوان نے پیشہ ور سیاست نہ ہونے کے باعث غلط حساب کتاب کر کے صدام حسین کی طرف داری کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے اس موقع پر اپنی رائے ظاہر کرنیوالے کالم نگار جیسا موقف اختیار کر لیاتھا۔‘‘خاشقجی نے الاخوان پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا ’’الاخوان نے دوسرا المیہ جس پر ان کی قیادت کا احتساب کیا جانا ضروری ہے ۔ مصر کے حوالے سے کیا تھا۔انہوں نے مصر اور خطے کی نشأۃ نو کے عظیم الشان منصوبے کو ناکام بنایا وہی ا س کے ذمہ دار ہیں ۔مجھے پتہ  ہے کہ کچھ لوگ فوجی انقلاب اور الاخوان کے خلاف سازش کی باتیں کریں گے تاہم حق یہ ہے کہ الاخوان ہی نے فوجیوں کو اس انقلاب کا موقع دیا۔‘‘خاشقجی نے یہ بھی کہا ’’میں اپنی گفتگو کا خلاصہ اس ایک جملے میں کرنا چاہوں گا کہ،جمہوریت ہی حل ہے ہمیں الاخوان کو جمہوریت کی طرف دھکیلنا ہو گا اور جمہوریت کو کامیاب بنانا ہو گا کیونکہ اسلام کا معرکہ کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے اور اللہ کے کرم سے اسلام فتحیاب ہے ۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ الاخوان سیاست سے دور ہو جائیں اور سیاست کو پیشہ ور جماعتوں کیلئے چھوڑ دیں ۔ ‘‘اس انٹرویو کے تناظر میں یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا الاخوان المسلمون ہی نے جمال خاشقجی کے قتل اور اس کا الزام سعودی عرب تھوپنے کا فیصلہ کیا تھا جو بے نظیر طریقے سے اپنے خلاف خاشقجی کی تنقید سے بوکھلا گئے تھے ۔ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ خاشقجی پوری دنیا کے سامنے الاخوان کی طشت ازبام کر دیں گے ۔ پوری جہاں کو باور کرا دیں گے کہ الاخوان امت کو بحران اور المیہ دینے کے باعث سیاست کے اہل نہیں ہیں ۔ یہ سوال اس لئے بھی موثر ہے کیونکہ الاخوان اپنے مخالفین اور ناقدین کے ساتھ انتہائی سنگدلی اور شدت سے پیش آتے ہیں ۔ 
 

شیئر: