مشترکہ خاندانی نظام، مضبوط اتحاد کا نمونہ

زینت شکیل۔جدہ
مریم نے تمام رشتہ داروں کو نئے گھر پر دعوت میں بلایا تھا۔ رات گئے جب دور کے رشتہ داروں کی واپسی ہو گئی ،اس کے بعد گھرکے بزرگ نے کنبے کے ہر سربراہ کے ہاتھ میں ایک ایک پورشن کی چابیاں دے کر انہیں اس کا مالک بنا دیا۔ سب کے کچھ حیرت اور کچھ خوشی سے چہرے کھل اٹھے کہ مریم کی فرمائش پر اس وسیع اراضی پر تعمیرات کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کوارٹرز کے بعد اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو دادا جان اس طرح گھر بنواکر دیں گے کہ وہ جب چاہیں گرمیوں یا سردی کی چھٹیوں میں یہاں آکر وقت گزاریں۔
دور تک پھیلا سبزہ کسی ہل اسٹیشن کا منظر پیش کرتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ الگ گھر کی فرمائش صرف مریم نے کی ہے تو اس کی خواہش کے پیش نظر یہ وسیع و عریض گھر صرف اسکا ہے۔ صفیہ نے حیرت سے کہاکہ ہمیں تو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ دادا جان سب کو ایک ایک پورشن بنوا کر دیں گے ۔مریم کے پاس موجود ام مریم نے بتایا کہ یہ مشورہ تو دراصل اس کی سہیلی عائشہ نے دیا تھا ورنہ انکے دادا جان تو اتنے غصے میں تھے کہ مریم نے خاندان سے علیحدہ ہونے کا سوچا بھی کیسے لیکن جب عائشہ کا مشورہ انہیں قائل کر گیاکہ جب تمام خاندان کو دوسری جگہ پر بھی گھر مل جائے تو علیحدہ ہونے یاخاندان کے متحد ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ویسے بھی یہ اصولی بات ہے کہ جو اپنے لئے انسان سوچے وہی اسے دوسروں کے لئے بھی سوچنا چاہئے ۔ 
عائشہ کا یہ مشورہ جب مریم نے اپنی طرف سے داداجان کے گوش گزارکیا تو وہ اس کی دور اندیشی پر بہت خوش ہوئے اور فوراً تعمیرات کا کام شروع کروادیا کہ ان کی تمام اولاد کے ساتھ منصفانہ فیصلہ ہو،سب خوش اور مطمئن ہوں اور یہ مشورہ انہیں صائب لگا۔ انہوں نے شکر ادا کیا کہ ان کا خاندان متحد رہا۔ 
عائشہ کا ذکر آیا تو صفیہ نے اچانک کہا کہ پتہ نہیں کیا بات ہو گئی کہ ہم سب اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ اس دن یونیورسٹی نہ آئی اورنہ آنے کا کوئی سبب بھی نہیں بتایا۔ ہم لوگ یہاں کی دعوت میں مصروف ہوگئے۔ کوئی بات ہی نہ ہوسکی۔ 
احمد کی بات سن کر ایک ہلچل مچ گئی کہ جس رشتے کو دو خاندانوں نے بڑے خلوص سے جوڑا تھا اور اس میں دوری نے جو غلط فہمی 
 پیدا کردی تھی ، جب وہ سب دور ہوگئی تھی۔ اب تو انہیں پوری فیملی کے واپس اپنے وطن میں دوبارہ آجانے کی بابت بتا دیا اور اس رشتے 
 کو بھرپور طریقے سے انجام دینے کی بات کر لی گئی تو اب یہ کیا نئی بات احمد صاحب کے ذہن میں آگئی کہ اب یہ رشتہ ختم کر دینا چاہئے کہ جس وقت انکا نکاح ایک خاص ضرورت کے ماحول میں کیا گیا تھا ،کوئی اس دنیا سے جاتے ہوئے کچھ کہہ جائے تواس کی بات مان لی جاتی ہے لیکن یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ ایک ایسے فیصلے سے اگر کسی کو زندگی بھر کی مایوسی ملے تو اس رشتے کو ختم کرنے میں کوئی عجیب بات نہیں۔ اس کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ 
وہ اپنی والدہ سے کئی دن کی سوچ بچار کے بعد بات کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو سکا تھا ۔ احمد کی والدہ جنہیں اپنے لائق فائق بیٹے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن وہ صرف یہ کہہ رہی تھیں کہ احمد تمہیں یہ بات ہمیں پہلے بتانی چاہئے تھی ۔ اب تو ہم لوگوں نے اپنی طرف سے ملاقات کرنے کے ساتھ ان سے شادی کی تاریخ طے کرنے کی بابت بات بھی کر لی تھی اور اس سلسلے میں شاپنگ بھی تقریباً مکمل ہی تھی ۔ اپنے دیرینہ دوست سے مل کر آتے ہوئے احمد کے والد کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے صاحب زادے نے ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
٭٭ جاننا چاہئے کہ مشترکہ خاندانی نظام اپنے اندر ایک مضبوط اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے۔

شیئر: