الیکشن میں مودی حکومت کےلئے مشکلات

***سید اجمل حسین ۔دہلی***
2014میں جب لوک سبھا انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوا  تھاتو اس وقت کسی کو یہ گمان بھی نہیں رہا ہو گا کہ انتخابات کے نتائج کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں کانگریس کی حالت صفا چٹ میدان جیسی ہو جائے گی لیکن ایساہونا بھی تھا کیونکہ پارلیمانی انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار ترقی اور اچھے دن نیز گھر بیٹھے ہر شخص کے بینک کھاتے میں 15لاکھ روپے اور ہرسال کروڑوں نوجوانوں کو روزگار جیسے بیک وقت ایسے متعدد وعدے کیے گئے تھے کہ بوڑھا اور،نوجوان طبقہ ہی نہیں بلکہ آئندہ 5 سال کے دوران جوانی کی دور میں داخل ہونے والے بچے بھی ایسے متاثر ہوئے کہ ان  وعدوں نے ’’مودی جادو ‘‘بن کر ووٹروں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ’’ہر ہر مودی ،گھر گھر مودی‘‘ نعرہ زباں زد عام ہو گیا۔نریندر مودی حکومت کے ہر قدم کی ہر طرف سے نہ صرف ستائش کی جانے لگی بلکہ یہ کہہ کر ان اقدامات کو ایسی کڑوی دوا سے تعبیر کیا جانے لگا جو مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے نہایت ضروری تھی۔ انہی امیدوں کے سائے میں 8نومبر 2016کو وزیر اعظم نے بیک جنبش قلم نوٹ بندش کا تحریری حکم جاری کرنے کے بعد اس حکم کوزبانی شکل دے کر ہندوستانی میڈیا کے ہر دریچہ اور اسپیکر سے ہر کس و ناکس کو ششدر کر دیا۔ 500اور1000روپے کے رائج الوقت نوٹوں کو ایک مقررہ مدت کے دوران 500اور 2ہزار کے نئے نوٹوں میں تبدیل کرانے کی دوڑ میں دیکھتے ہی دیکھتے 10سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے اور ادھر اے ٹی ایمز اور بینکوں میں نئی کرنسی کا ایسا فقدا ن تھا کہ پرانی کرنسی کی شکل میں کثیر رقم ہونے کے باوجود لوگ تہی دست ہو گئے تھے لیکن ذہن میں یہ تھا کہ عنقریب اس کے فائدے اس طرح سامنے آئیںگے کہ وہی عناصر جو اسے ایک مصیبت ثابت کرنے پر تلے ہیں ہیں اپنے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے حق میں رحمت قرار دینے میں ذرہ برابر پس و پیش نہیں کریں گے لیکن 2 سال گزرنے کے باوجود نوٹ بندش کا کوئی فائدہہوتا نظر نہیں آیا۔ نہ جعلی کرنسی کے دھندے میں کوئی کمی واقع ہوئی اور نہ ہی دہشت گردی سے ملک کو نجات ملی۔نکسل زدہ ریاستیں ہوں یا جموں و کشمیر کی ریاست ہو حالات جوں کے توں ہی نہیںبلکہ پہلے سے کچھ اورخراب ہو گئے۔ صرف سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی ، جو اس اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونے سے پہلے نرسمہا حکومت میں وزیر خزانہ اور وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے ریزرو بینک کے گورنر رہ چکے تھے نوٹ بندش کو احمقانہ اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے والا اور ’’ایک منظم لوٹ‘‘ قرار بتانے والی واحد ماہر اقتصادیات شخصیت نہیں تھی بلکہ متعدد دیگر ماہرین نے بھی تنقید کی۔ خود وزیر اعظم نے جو ماہرین اقتصادیات میں شمار نہیں کیے جاتے مدھیہ پردیش کے جھبوا میں ایک انتخابی جلسہ میں یہ کہہ کر کہ انہوں نے اندرون ملک تجوریوں اور گدوں تکیوں سے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کے بینکوں اور لاکروں سے بھی کالا دھن واپس لانے کے لیے جو نوٹ بندش کی تھی وہ بلاشبہ ایک کڑوی دوا تھی یوں انہوں نے بین السطور یہ تسلیم کر لیا کہ یہ ماہرین اقتصادیات سے مشورہ کیے بغیر کیا گیا فیصلہ تھا ۔ اسے حزب اختلاف اور ماہرین اقتصادیات و زیر اعظم کے اس کڑوی دوا کے حوالے کو نوٹ بندش کے بد اثرات کا حکومتی اعتراف قرار دے رہے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ وزارت زراعت نے بھی کھلے عام اس کا اعتراٖ ف کیا ہے کہ نوٹ بندش کا کاشتکاروں پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ یہ کہہ کر وزارت زراعت نے حزب اختلاف کو اور تقویت پہنچا دی کہ جہاں ایک طرف جوش و خروش اور دھوم سے سالگرہ منائی جاتی ہے اس کا عشر عشیر بھی نوٹ بندش کی دوسری سالگرہ میں نظر نہیں آیا۔اب حکومت اسے مانے نہ مانے اسے اس بات کا احساس ضرور ہوگا کہ نوٹ بندش سے ملک کی نہ صرف اقتصادی ترقی رک گئی بلکہ معیشت تباہ ہو گئی جس نے حکومت کو ریزرو بینک سے ریزرو فنڈ کا ایک تہائی حصہ مانگنے پر مجبو ر کر دیا۔اب اگر یہی نوٹ بندش کے باعث نقصان سے دوچار ہونے والے کسان اور نوجوان طبقہ نے اسی ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ریاستی حکومتوں کو اگر جھنجھوڑبھی دیا تو 2019کے لوک سبھا انتخابات میں مودی حکومت کے لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔
 

شیئر: